پاکستان کے ہاتھوں طالبان کا شافی علاج

09:23 AM, 14 Oct, 2025

برطانوی دور میں طے پانے والی پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو ’’ڈیورنڈ لائن‘‘ کہا جاتا ہے۔ افغانستان نے اس لائن کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اس لائن پر افغانوں کے اختلافی دعوے رہے ہیں۔ پاکستان مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ وہ اس سرحد کی باڑ بندی اور سرحدی پوسٹیں مضبوط کرے تاکہ سرحد پار سے دہشت گردی اور غیر قانونی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے۔ یہ افغانستان کی طرف سے مزاحمت یا مخالفت کا باعث بنتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کی حدود میں بلا روک ٹوک اور بلا اجازت آنا جانا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان اس آمد و رفت کو ایک ریاستی میکانزم کے تحت رکھنا چاہتا ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس جیسے دیگر مسلح گروپ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں اور پھر افغانستان کی حکومت یا طالبان انتظامیہ کی مرضی سے افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں میں چلے جاتے ہیں۔
پاکستان نے افغان حکومت کو پاکستان میں ہونے والی طالبان کی دہشت گرد کارروائیوں کے بارے جب بھی آگاہ کیا تو انہوں نے ہمیشہ کندھے اچکاتے ہوئے ان کارروائیوں سے لا تعلقی ظاہر کی اور اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔ پچھلے چند ہفتوں سے خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں بے حد اضافہ ہوا ہے جن میں سیکڑوں بے گناہ پاکستانی سویلین ، پولیس اور افواج پاکستان کو نشانہ بنایا گیا۔ بنوں دہشتگردی واقعہ میں بڑی تعداد میں شہادتوں کے بعد تو پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور پاکستان نے دہشتگردوں کے سرحد پار کیمپوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کر لیا۔  
پاکستان نے پہلے بھی افغانستان کے صوبہ پکتیکا اور خوست میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر فضائی حملے یا ڈرون حملے کیے ہیں۔ افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتی ہے یا دعویٰ کرتی ہے کہ ان کی موجودہ انتظامیہ ان گروپوں پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتی، یا یہ کہ وہ بیرونی دباؤ یا عسکری مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان نے کابل اور دیگر علاقوں میں فضائی حملے کیے، جن پر افغان حکومت نے شدید ردعمل دیا۔
پاکستان کی حکومت اور فوج کو داخلی محاذ پر دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف سخت موقف اپنائے۔ پاکستان عسکری کارروائی نہ کرے تو اسے عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طالبان حکومت بھی داخلی طور پر مضبوطی کا اظہار کرنا چاہتی ہے اور پاکستان کے خلاف اقدام اسے مقبولیت دلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر سرحدی علاقوں میں۔ بعض اوقات افغان میڈیا یا حکومت ’’کہانی سازی‘‘کرتا ہے کہ اس نے پاکستان پر حملے کئے تاکہ اندرونی محاذ پر انکا تاثر بہتر ہو۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ راستے اور سرحدی گزرگاہیں اہم ہیں۔ ان راستوں کی بندش یا غیر مستحکم ہونے سے دونوں ممالک کو مالی نقصان ہوتا ہے۔ اگر رابطے کم ہوں یا امن و امان خراب ہو تو توانائی، مواصلات اور بین الاقوامی ٹرانزٹ راستے متاثر ہوں گے اور یہ افغانستان کے لیے خاصا نقصان دہ ہے کیونکہ افغانستان کو زمینی راستے کی ضرورت ہے۔
بھارت پاک افغان تعلقات بگاڑ کر اسکا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ افغانستان کے نئے سیاسی رجحانات، طالبان کی پوزیشن بدلنے کی کوششیں اور علاقائی معاہدے مثلاً چین، ایران، سعودی عرب اور روس کا مداخلتی کردار اہم ہے۔ پاک افغان کشیدگی کے ممکنہ اثرات دونوں ممالک پر ہوں گے۔ پاک افغان کشیدگی کے باعث پاکستان کی فوج اور سکیورٹی ادارے سرحدی علاقوں میں مزید تعینات ہوں گے جس کا اس پر اضافی مالی و انسانی بوجھ ہوگا۔ اگر کشیدگی جاری رہے تو زیادہ فوجی آپریشنز، گشت اور قربانیوں کا امکان ہے۔
اگر افغانستان پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی سے باز نہ آیا تو کشیدگی کی صورت میں افغان طالبان پر اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے کا دباؤ ہوگا۔ افغان حکومت افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کو کنٹرول نہ کر سکی تو اس صورت میں پاکستان کی فوجی کارروائی کا دوبارہ نشانہ بن سکتی ہے۔
پاکستان کی افغانستان پر کارروائی شدت اختیار کر گئی تو افغانستان کے اندر بگاڑ بڑھ جانے سے طالبان کو مختلف صوبوں یا قبائلی علاقوں میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاک افغان کشیدگی میں بھارت کا نمایاں کردار ہے کیونکہ افغانستان بھارتی حکمت عملی کے زیر اثر اسکی پاکستان مخالف پراکسی بن چکا ہے اور اسی لئے پاکستان مخالف دہشت گرد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت نے ماضی میں افغانستان میں ہمیشہ پاکستان مخالف کردار ادا کیا ہے۔ بھارت پاکستان کو ذہن میں رکھتے ہوئے افغانستان میں تعمیراتی منصوبے، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، امداد اور سفارتی تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔ بھارت افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرتا ہے تو یہ پاکستان کو علاقائی اثر و رسوخ سے الگ کرنے کی کوشش تصور ہوگی۔
 بھارت افغانستان اور پاکستان میں پاکستان مخالف عناصر کو معاونت دے رہا ہے تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جا سکے ۔ پاکستان مخالف بھارتی حکمت عملی سیاسی حربے کے طور پر استعمال ہوتی ہے خاص طور پر جب پاکستان میں ریاست مخالف پی ٹی آئی کی جانب سے ریاست کو اندرونی طور پر نقصان پہنچانے کی روش اختیار کی جا رہی ہو۔ بھارت طالبان کے ساتھ مضبوط اتحاد قائم کرکے پاکستان کو اس تناظر میں مسلسل دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے اگر بھارت یہ سمجھے کہ وہ پاکستان کے خلاف جیوپولیٹیکل پلے کر رہا ہے۔ بھارت اسرائیل کی اور افغانستان بھارت کی پراکسی بن چکے ہیں۔ یوں پاکستان دشمنی میں بھارت اور افغانستان اسرائیل کی  براہ راست چھتری میں اکٹھے نظر آتے ہیں۔  
بگرام بیس سے انکار کے بعد امریکہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان طالبان کو پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تناظر میں شافی و کافی سبق سکھائے۔ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ افغانستان مختلف دہشت گردوں کو کنٹرول کرے۔ یہ ایران، روس اور چین بھی چاہتے ہیں۔ لہٰذا طالبان کے خلاف کارروائی کے حوالے سے یہ تمام ممالک پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ یہی پاکستان کی بڑی کامیابی ہے ۔ پاکستان سرحدی علاقوں کو کنٹرول کرلیتا ہے تو یہ  پاکستان کے معاشی استحکام کی جانب ایک بڑا قدم ہو گا۔

مزیدخبریں