میں نے کہیں ایک جملہ پڑھا تھا: Its a big universe and we are all stardust. اردو میں اسے یوں کہا جا سکتا ہے: یہ ایک وسیع کائنات ہے اور ہم سب ستاروں کی دھول ہیں۔ الفاظ بعض اوقات محض اظہار نہیں ہوتے بلکہ کسی شخصیت، احساس یا پوری کائناتی آگہی کا تعارف بن جاتے ہیں۔ انسان جب شب کے پُرسکون لمحوں میں آسمان کی وسعتوں کو تکتا ہے تو ایک انجانی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے ایک ایسا سکوت جو چیخے بغیر بولتا ہے اور ایک ایسا احساس جو زبان کے دائرے سے باہر ہے۔ یہ کیفیت جہاں کسی ایک تہذیب، مذہب یا زمانے تک محدود نہیں، وہیں یہ ایک آفاقی تجربہ ہے ایسا تجربہ جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کسی بہت بڑی کہانی کا حصہ ہیں؛ وہی کہانی جو ستاروں کے جنم سے شروع ہوئی اور ہمارے وجود تک پہنچی۔ سائنس بتاتی ہے کہ جب کوئی ستارہ اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں داخل ہوتا ہے تو ایک عظیم دھماکے، سپرنووا، میں بکھر جاتا ہے۔ جہاں یہ بکھرا ہوتا ہے، وہیں سے لوہا، کاربن، آکسیجن اور دیگر عناصر پوری کائنات میں پھیلتے ہیں۔ انہی ذرات سے نئے ستارے بنتے ہیں، سیارے جنم لیتے ہیں اور کہیں زندگی اپنا سفر شروع کرتی ہے۔ ہمارا جسم، ہماری سانسیں، ہماری ہڈیاں یہ سب کسی نہ کسی زمانے میں کسی ستارے کا حصہ رہی ہیں۔ ہم جہاں ہیں، وہیں کبھی کوئی ستارہ جلتا رہا ہو گا۔ ہم آسمان سے جدا نہیں؛ ہم خود آسمان کا تسلسل ہیں۔ فلسفہ کہتا ہے کہ انسان کائنات سے الگ کوئی وجود نہیں، بلکہ اسی کا عکس ہے۔ صدیوں سے مفکرین کہتے آئے ہیں کہ انسان میکروکازم کا آئینہ ہے جو کچھ باہر ہے وہی اندر ہے، اور جو کچھ
اندر ہے وہی باہر۔ جہاں یہ شعور جاگتا ہے، وہاں ایک خاموش سرشاری جنم لیتی ہے جو انسان کو اپنے وجود کی گہرائیوں میں اتار دیتی ہے۔ صوفیا نے بھی ہمیشہ یہی کہا کہ مخلوق اور خالق کا رشتہ محض جسمانی یا زمانی نہیں بلکہ نوری اور روحانی ہے۔ جب وہ کہتے ہیں میں وہی ہوں جو تو ہے تو دراصل وہ اپنے اندر چھپی اسی ستاروں کی دھول، اسی نوری جوہر کا اعتراف کرتے ہیں۔ مٹی ان کے نزدیک حقیر نہیں، مقدس ہے کیونکہ یہی مٹی کسی آسمانی روشنی کا سایہ ہے۔ ادب اور شاعری میں دھول فنا کا استعارہ ضرور ہے، مگر جہاں یہ فنا ہے، وہیں ازلیت، وسعت اور بے سمتی کی علامت بھی ہے۔ دھول کسی ایک جگہ قید نہیں رہتی؛ وہ اڑتی ہے، بہتی ہے، آسمان چھوتی ہے۔ اسی طرح انسان بھی کسی ایک سرحد، ایک عقیدے یا ایک رنگ کا پابند نہیں۔ اس کے خواب، شعور اور روح سب لامحدود ہیں۔ جہاں ستارہ بکھرتا ہے، وہیں زندگی جنم لیتی ہے۔ فنا اور بقا کا یہی ازلی رقص کائنات کے دل میں دھڑکتا ہے۔ ہم مٹی میں مل کر ختم نہیں ہو جاتے بلکہ کائنات کے تسلسل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے جسم کے ایٹم کہیں کسی اور درخت کی جڑ، کسی بادل کے قطرے یا کسی نئے دل کی دھڑکن میں سما جاتے ہیں۔ پھر ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب انسان روح کی گہرائی میں اتر جاتا ہے جیسے کوئی مسافر خاموش سمندر میں دھیرے دھیرے ڈوبتا جائے۔ وہاں الفاظ مٹ جاتے ہیں اور احساس جاگ اٹھتا ہے۔ جہاں یہ احساس بیدار ہوتا ہے، وہاں روشنی بھی ہے اور سناٹا بھی ایسا سناٹا جو خوف نہیں دیتا بلکہ یہ احساس دیتا ہے کہ میں اکیلا نہیں، میں اسی وسیع تر نظام کا ایک ذرہ ہوں، ستاروں کی دھول کا ایک حصہ۔ جہاں انسان یہ مان لیتا ہے کہ وہ محض ایک ذرہ ہے، وہاں اس کا غرور ٹوٹ جاتا ہے۔ جہاں وہ سمجھتا ہے کہ اسی کے اندر ستاروں کی روشنی ہے، وہاں اس کے اندر عظمت جاگ اٹھتی ہے۔ یہی دوہرا شعور عاجزی اور بلندی کا امتزاج اسے ایک بامقصد اور بامعنی زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ مجھے اپنے رب پر ایمان ہے کہ اس نے مجھے بھی پیدا کیا۔ میں سمندروں کی ہیبت، پہاڑوں کی بلندی، سورج کی تپش، چاند کی چاندنی، رات کی سیاہی اور دن کے اجالے کو دیکھ کر متاثر ضرور ہوتا ہوں، مگر جانتا ہوں کہ ان سب کا ایک ہی خالق ہے اور وہ میرا بھی ہے۔ یہ کائنات میرا خاندان ہے، مگر اس کا وجود میرے لیے میرے ہونے تک ہے۔ ہاں، انسانوں کیا، ہر جاندار کے دل کی گہرائی، تخیل کی رعنائی و وحشت اور روح کی تنہائی سے گھبرا جاتا ہوں کیونکہ اسے مکمل طور پر جان نہیں سکتا۔ تب معاملہ خالق پر چھوڑ دیتا ہوں وہی میرے لیے کافی ہے۔ آخرکار، یہی ایک سادہ مگر گہرا سچ رہ جاتا ہے: ہم سب ستاروں کی دھول ہیں نہ کمتر، نہ برتر۔ ایک ہی آسمانی کہانی کے کردار، ایک ہی کائناتی روشنی کے ذرات۔ جبھی تو معروف گیت چندا رے چندا رے، کبھی تو زمیں پر آ، بیٹھیں گے باتیں کریں گے کو اگر زندگی کی حقیقتوں اور الجھنوں میں مبتلا ایک انسان کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ محض ایک رومانوی نغمہ نہیں رہتا بلکہ انسانیت اور کائنات کے درمیان ایک گہرا فلسفیانہ مکالمہ بن جاتا ہے۔ شاعر چاند کو اپنا ہم عصر اور کائنات کا خاموش گواہ بناتا ہے، جیسے وہ جہاں تنہا کھڑا ہے وہاں آسمان سے مخاطب ہو کر دریافت کرنا چاہتا ہو کہ کیا یہ اضطراب صرف اسی کا ہے یا پوری انسانیت کا۔ کبھی تو زمیں پر آ ایک اندرونی پکار ہے آ اور دیکھ جہاں یہ دکھ، یہ تنہائی، یہ کشمکش بستی ہے۔ جاگتی راتیں پھر محض فرد کا کرب نہیں رہتیں؛ وہ پوری انسانیت اور کائنات کے مشترکہ تجربے کی علامت بن جاتی ہیں۔
ہم سب ستاروں کی دھول!
09:20 AM, 14 Oct, 2025