افغانستان نے ایک ایسے وقت میں جارحیت کی ہے جب پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ افغان وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر ہیں اور دکھاوے کا پروٹوکول سمیٹ رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کو بھی معلوم ہے کہ یہ ان کا آلہ کار ہے اور پیسے کی چمک کے آگے ڈھیر ہے۔ اسی طرح افغان حکام بھی جانتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح بھارت کا آلہ کار بن کر پاکستان میں امن خراب کر رہے ہیں اور بھارتی آلہ کار بننے کی کہانی بے نقاب ہو چکی ہے۔ یہ ایک قابلِ غور حقیقت ہے کہ افغانستان نے پاکستان پر حملہ عین اس وقت کیا ہے جب بہت سے امور پیچیدگی کی طرف جا رہے تھے۔ افغان وزیر خارجہ نے پاکستان مخالف بیانات دیئے ہیں۔ دورہ بھارت کے دوران مشترکہ اعلامیوں میں پاکستان مخالف مواد نظر آنے والا ہے۔ ایسے نازک موقع پر، جب پاکستان کے ازلی حریف ملک کا دورہ جاری ہے، اس طرح کا حملہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مجرمانہ اشارہ ہے جو پاکستانی عوام کو بخوبی سمجھ لینا چاہیے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح دشمنی کے پرانے خطوط پر ایک نیا حربہ آزمایا جا رہا ہے اور یہ حملہ اس پیغام کا حصہ ہے جو پاکستان کے دشمن دینا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس صورتِ حال کو اسی تناظر میں دیکھتے ہوئے اپنی یکجہتی اور دفاعی عزم کو مزید مضبوط کرنا ہو گا۔
دس اکتوبر کو نئی دہلی میں بھارت کے وزیرِ خارجہ اور افغان وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی کے درمیان اہم ملاقات میں بہت سے امور زیر غور آئے ہیں۔ اس ملاقات نے بھارت اور افغانستان کے تعلقات میں ایک نئی سفارتی سرگرمی کو جنم دیا ہے، جو اس امر کا اظہار کرتی ہے کہ نئی دہلی 2021 کے بعد کے افغانستان میں اپنا کھویا ہوا اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرنے اور خطے میں اپنی کمزور ہوتی حیثیت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے کئی ممالک اب بھارت کی بالادستی سے انکاری ہو رہے ہیں اور اپنی آزاد خارجہ پالیسیاں ترتیب دے رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی سفارتی ٹیم نے بھی افغان وزیر خارجہ کو رام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ سب کچھ اسی لیے ہی تھا کیونکہ بھارت اب اپنی شکست کے بعد یہ محسوس کر چکا ہے کہ خطے میں بالادستی کا خواب پاکستان نے چکنا چور کر دیا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اب افغانستان کے ساتھ مل کر سازشیں ہی واحد حل ہے۔ ماضی میں بھی ایسی ہی پالیسی سامنے آئی تھی۔ یہ پالیسی بھارتی خفیہ اداروں کی جانب سے افغان سرزمین پر پاکستان مخالف کارروائیوں سے منسلک رہی ہے۔
ماضی میں پاکستان نے افغانستان سے کام کرنے والے متعدد بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا تھا جو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ذمہ دار قرار پائے۔ اگرچہ نئی دہلی خود کو کابل کا قابلِ اعتماد شراکت دار ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ بھارت اور افغانستان کے سیاسی و سفارتی منظرنامے میں کچھ بھی مماثلت نہیں۔
دوسری جانب پاکستان اور چین نے زیادہ حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے خطے میں سلامتی اور اقتصادی تعاون پر مبنی تعلقات استوار کیے ہیں، جو ذاتی و سیاسی مفادات سے بالاتر ہیں ایسے حالات میں افغان حکومت کا نام نہاد بھارتی بلاک میں جا بیٹھنا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ شر انگزیزی اور پراپیگنڈے کا یہ کھیل بہت آگے جانے والا ہے۔ حالیہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں (اپریل تا ستمبر 2025) کے دوران ملاکنڈ، باجوڑ، ژوب اور شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے آپریشنز نے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ، بھرتی کے مرکز اور سرحد پار حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 500 سے 600 سابق ٹی ٹی پی جنگجو اب افغان کمانڈروں کی زیر نگرانی دوبارہ ہتھیار اٹھا چکے ہیں۔ مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں افغان دہشت گرد مارے بھی گئے ہیں۔ شمالی وزیرستان، باجوڑ، ملاکنڈ، ژوب، اپر دیر، بنوں اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیے گئے ہیں جہاں افغان نژاد دہشت گردوں کی شمولیت اور روابط کی تصدیق ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق پچیس سے اٹھائیس اپریل دو ہزار پچیس کے دوران اکہتر افغان دہشت گرد مارے گئے۔ 29 سے 31 جولائی 2025 باجوڑ میں سات دہشت گرد واصل جہنم ہوئے۔ اسی طرح 16 سے 20 جولائی 2025 کے دوران مالاکنڈ میں نو دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا گیا۔ بلوچستان کی اگر بات کریں تو ژوب میں 7 سے 10 اگست کے دوران پچاس افغان دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے نوے فیصد افغان شہریت رکھتے تھے۔ 26 اگست 2025 کو اپر دیر میں سرحد پار سے آپریٹ ہونے والے نو طالبان ہلاک کیے گئے۔ بنو ں میں 2 ستمبر 2025 کو آپریشن کیا گیا جس میں پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ایک خود کش بمبار عبد العزیز کی شناخت ہوئی جو افغان صوبے پکتیکا کا رہائشی تھا۔ اپر جنوبی وزیرستان میں سات ستمبر کو آپریشن کیا گیا جس میں سات دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اسی آپریشن میں نور محمد بھی مارا گیا جو کواڈ کاپٹر کے ذریعے دھماکوں کا ماہر تھا۔ اسی طرح باجوڑ میں سات ستمبر کو آپریشن کیا گیا جس میں دو دہشت گرد مارے گئے جو افغان شہریت رکھتے تھے۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے 20 اگست 2025 کو سلامتی کونسل کے اراکین کو اپنی سٹریٹیجک رپورٹ پیش کی جس میں افغانستان سے پھیلتے دہشت گردی کے خطرے پر عالمی برادری کو خبردار کیا گیا۔ حالیہ شواہد اس بات کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کو مکمل سہولت حاصل ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ افغانستان کی جانب سے اپنی زمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے نہ روکنا پاکستان کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے، لہٰذا اس نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے فوری اور فیصلہ کن بین الاقوامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ملاکنڈ اور باجوڑ جیسے علاقے خیبر پختونخوا کے ثقافتی، تجارتی اور معاشی مرکز ہیں، جن کا پُرامن اور مستحکم ہونا صوبے اور ملک کی طویل المدتی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ان حالات میں دیکھتے ہیں بھارت افغانستان گٹھ جوڑ کہاں تک جاتا ہے مگر یہ بات طے ہے کہ پاک فوج سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے اور ایسی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بھارت افغانستان نیا گٹھ جوڑ ۔۔ مودی کی آخری چال!
09:18 AM, 14 Oct, 2025