جمعہ کو فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے جو اپنے منصب کے لحاظ سے مسلح افواج کے ترجمان بھی ہیں، کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں ایک انتہائی بھرپور، پُرہجوم، پُر جوش اور طویل پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو یہ کئی حوالوں سے غیر معمولی بات سمجھی گئی۔ عموماً فوج کے ترجمان راولپنڈی میں آئی ایس پی آر ہیڈ کوارٹر کے آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں جس میں راولپنڈی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں اور وی لاگرز کے ساتھ دوسرے بڑے شہروں سے تعلق رکھنے والے میڈیا کے اہم نمائندوں اور وی لاگرز وغیرہ کو بلایا جاتا ہے۔ پشاور کی پریس کانفرنس میں اس کے برعکس خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد کے ساتھ راولپنڈی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اہم صحافیوں اور میڈیا نمائندگان کو بھی لیجایا گیا۔ پشاور کی پریس کانفرنس کے حوالے سے یہ خصوصی اہتمام اور خصوصی انتظامات ظاہر کر رہے تھے کہ پشاور میں اس کے انعقاد کے کچھ مخصوص مقاصد ہو سکتے ہیں۔ جنرل احمد شریف نے ان مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کا بڑا مقصد خیبر پختونخوا کے غیور عوام کے درمیان بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تفصیلات کا احاطہ کرنا ہے تو اس کے ساتھ خیبر پختونخوا کے غیو ر عوام کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُن کی قربانیوں پر خراجِ عقیدت بھی پیش کرنا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران سوال و جواب اور دیگر تفصیلات کو سامنے رکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ پشاور میں اس کانفرنس کے انعقاد کے کچھ اور بھی مقاصد تھے جن کا تعلق صوبے کے مخصوص سیاسی حالات اور وہاں وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی سے بھی جُڑتا ہے تو اس کے ساتھ تحریکِ طالبان یا فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں اور اُن کے سرپرستوں، سہولت کاروں اور مدد گاروں جن میں افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کے ساتھ سمگلنگ اور ڈرگ مافیاز کے نیٹ ورک اور کچھ سیاسی عناصر بھی شامل ہیں کو یہ پیغام دینا تھا کہ دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا حتمی وقت آ چکا ہے اور اس کے لئے جو کچھ بھی کرنا ضروری ہے وہ زیادہ زور و شور سے کیا جائے گا۔
پشاور کی پریس کانفرنس میں جنرل احمد شریف نے دہشت گردی کے واقعات اور اُن کی روک تھام کے لئے آپریشنز اور اُن میں جانیں قربان کرنے والے افسروں، جوانوں، پولیس اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کی جو تفصیل پیش کی ، بلا شبہ وہ چشم کشا سمجھی جا سکتی ہے ۔ یہاں اُس کی زیادہ تفصیل میں نہیں جاتے تاہم کچھ اعدادوشمار کا حوالہ دیا جاتا ہے جن سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور مدد گاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے اشارے ملتے ہیں تو اسکے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کئے جانے والے آپریشنز کی تعداد اور اُن میں شہادت کا رُتبہ پانے والے سکیورٹی فورسز کے افراد اور عام شہریوں کی تعداد کا بھی جہاں پتہ چلتا ہے وہاں واصلِ جہنم کیے جانے والے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی تعداد کا بھی پتہ چلتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ رواں سال یعنی 2025ء میں اب تک خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف 5 1011 آپریشن کئے گئے ہیں روزانہ کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ تعداد 40 آپریشن روز کی بنتی ہے ۔ ان میں پاک فوج کے 311 افسر اور جوان ، پولیس کے 73 اہلکار اور 123 عام شہری شہید ہوئے جبکہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 917 دہشت گرد واصلِ جہنم کیے گئے۔ جنرل احمد شریف نے یہ بتا کر کہ پچھلے تین ماہ میں دہشت گردی کے 3984 واقعات ہوئے ، ان میں 70 فیصد کا تعلق خیبر پختونخوا سے بنتا تو ہے آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب بین السطور اُن کے سوال میں ہی موجود تھا کہ خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو بعض سیاسی عناصر کے ساتھ ڈرگ اور سمگلنگ مافیاز کے نیٹ ورک کی سہولت کاری بھی حاصل ہے، اس لیے اُن کے لئے خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا نسبتاً آسان ہے۔
جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس کا اہم ترین نقطہ یہ بھی تھا کہ عوام کو ایسے کسی شخص کے فیصلے پر نہیں چھوڑ سکتے جو خیبر پختونخوا میں دہشت گردی واپس لانے کا ذمہ دار ہوں ، نہ کسی فردِ واحد کو یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی ذات اور مفاد کے لئے پاکستان اور خیبر پختونخوا کے جان و مال کا سودا کرے۔ انہوں نے فتنہ الخوارج کے سہولت کاروں کو واضح لفظوں میں خبردار کیا کہ اب سٹیٹس کو نہیں چلے گا۔ اُن کے پاس تین راستے ہیں۔ خارجیوں کو ریاست کے حوالے کر دیں، اداروں سے مل کر دہشت گردی کے ناسور کو انجام تک پہنچائیں یا پھر ریاست کے بھرپور ایکشن کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ 9 مئی کے واقعات کے بارے جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ یہ قوم کا مقدمہ ہے ، ریاست اس کی ضامن ہے اور ذمہ دار لوگ کیفرِ کردار تک پہنچ رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کی یہ تفصیل اپنی جگہ تاہم ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات پاک افغان سرحد پر جو واقعات ہوئے اُن کو سامنے رکھ کر بات کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس میں کچھ ضروری دفاعی اقدامات کرنے کے بین السطور جو اشارے موجود تھے اُن پر بھرپور طریقے سے اور سختی سے عملدرآمد کیا گیا ہے۔ پریس کانفرنس میں ایک سوال کیا گیا تھا کہ پچھلی رات کو کابل کے قریب جو دھماکے ہوئے تھے اور لڑاکا جیٹ طیاروں کی اُڑانیں بھرنے اور کچھ مخصوص جگہوں نشانہ بنانے کی جو کارروائی سامنے آئی ، کیا یہ پاکستان کی طرف سے ہوا تھا تو جنرل احمد شریف نے اس کا اثبات یا نفی میں جواب دینے کی بجائے اتنا کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دفاع کے فریضے سے غافل نہیں ہیں۔ انہیں اس ضمن میں جو کرنا ہوتا ہے وہ ضرور کرتی ہیں اور آئندہ بھی ضرور کریں گی۔ یہ پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے دفاع وطن کے لئے ضروری اقدامات کرنا ہی ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی طرف سے ہفتہ اتوار کی درمیانی رات پاک افغان سرحد کے بعض مقامات پر دراندازی اور حملہ آور ہونے کی جو کوشش کی ، اُس کا پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے انتہائی سخت اور بھرپور جواب دیا گیا۔ پاکستان نے پاک افغان سرحد پر کم و بیش انیس افغان چوکیوں کونشانہ ہی نہ بنایا بلکہ اُن پر قبضہ بھی کر لیا اور اس کے ساتھ افغان سرحد کے اندر دہشت گردی کی تربیت گاہوں کے طور پر جو ٹریننگ سنٹر بنے ہوئے تھے اُن کو نیست و نابود کیا۔ پاکستان نے اس میں فضائی وسائل کے ساتھ ہلکے اور بھاری ہتھیاروں، توپوں، ٹینکوں ، مارٹر گنوں اور ڈرونز کا ضرورت کے مطابق استعمال کیا۔ 200 فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد اور افغان طالبان ہلاک ہوئے تو مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے 23 جوانوں سے جامِ شہادت نوش کیا اور 29 زخمی ہوئے۔ اس تفصیل کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات افغان سرحد اور اُس کے اندر پیش آنے والے واقعات بلاشبہ جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس میں بین السطور دئیے گئے اشاروں کے مطابق آگے بڑھے ہیں۔
پریس کانفرنس … بات بہت آگے نکل گئی ہے…!
09:17 AM, 14 Oct, 2025