یقینا سب لوگ ڈبل پریس اور ستائیسویں سے تو واقف ہی ہوں گے۔ واضح رہے کہ یہاں ستائیسویں سے مراد ماہ رمضان کی شبِ قدر نہیں بلکہ آئین کی ستائیسویں ترمیم ہے۔ جہاں تک ڈبل پریس کی بات ہے تو یہ ڈبل بریسٹڈ کوٹ کا "دیسی نام" ہے۔ ڈبل بریسٹڈ کوٹ کو ڈبل بریسٹ کوٹ بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ بعض "زیادہ پڑھے لکھے لوگ تو "ڈبل پریس کوٹ" بھی کہہ دیتے ہیں بلکہ کچھ "بہت ہی زیادہ" پڑھے لکھے تو لفظ "کوٹ" کے استعمال کا تکلف بھی نہیں کرتے اور صرف "ڈبل پریس" کہنے ہی کو کافی سمجھتے ہیں۔ خیر ڈبل بریسٹڈ کوٹ کہا جائے یا ڈبل پریس، دونوں میں ڈبل کا لفط مشترک ہے اور یہ ایک ایسے کوٹ کی خاصیت کو بیان کرتا ہے جس کے آگے والے حصے پر دائیں اور بائیں جانب دو دو یا تین تین بٹنوں کی دو متوازی قطاریں ہوتی ہیں۔
یقینا اب تک آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہوں گے کہ آخر ڈبل بریسٹڈ کوٹ کا اتنا لمبا چوڑا تعارف کرانے کی کیا ضرورت تھی اور اس کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے ساتھ کیا لینا دینا ہے۔ تو گزارش یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان تعلق آپ کو ضرور بتایا جائے گا لیکن ابھی تھوڑا سا مزید انتظار فرمائیے اور ڈبل بریسٹڈ کوٹ سے جڑا ایک واقعہ سنیے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے آج سے کوئی دو ڈھائی ماہ قبل برادر ملک چین کا ایک ہفتہ طویل دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں انھوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کی اجلاس اور چین کی فوجی پریڈ سمیت مختلف تقریبات میں شرکت کی۔ اس دوران وہ بیشتر تقریبات میں ڈبل بریسٹڈ کوٹ اور پینٹ میں نظر آئے۔ وزیر اعظم کے مخالفین نے ان کے لباس، انداز و اطوار اور گفتگو سمیت ہر چیز کا خوب مضحکہ اڑایا۔
یہاں تک کہ ایک بزعم خود بہت بڑے دانشور صاحب تو اس حد تک چلے گئے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر محض اس لیے بہت دھڑلے سے ڈبل بریسٹڈ کوٹ کو "آو¿ٹ آف فیشن" قرار دے دیا کہ وہ نظریاتی طور پر شہباز شریف کے مخالف تھے اور انھیں وزیر اعظم کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا کوئی موقع چاہیے تھا۔ اور کوئی موقع نہیں ملا تو انھوں نے وزیر اعظم کے "ڈبل پریس" کو نشانے پر رکھ لیا۔ ان کے خیال میں وزیر اعظم کے ڈبل بریسٹڈ کوٹ پہننے سے پاکستان کی پوری دنیا میں سبکی ہوئی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ دنیا بھر کے لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسا وزیراعظم ہے جسے فیشن کے رجحانات کا بھی نہیں پتا۔
ان صاحب کی پوسٹ کے نیچے آنے والے سیکڑوں تبصروں میں بھی بیشتر ان کے حامی تھے تاہم کچھ تبصرے ان کے فکر سے اختلاف رکھنے والوں کے بھی تھے جو انھیں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ڈبل بریسٹڈ کوٹ آو¿ٹ اف فیشن نہیں ہے بلکہ آج کا فیورٹ فیشن ہے۔ کچھ لوگوں نے تو انہی دنوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ایک اعلی برطانوی عہدے دار کی تصویر بھی حوالے کے طور پر پیش کی جس نے ڈبل بریسٹڈ کورٹ پہن رکھا تھا اور دلیل دی گئی کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ برطانوی حکام بھی اسی طرز کا کورٹ پہنتے ہیں تو اس سے یہی بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ یہ کوٹ آج کا رائج فیشن ہے لیکن "بزعم خود دانشور صاحب" کو ماننا تھا نہ مانے بلکہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور وہ پوسٹ بھی فیس بک سے ہٹانا گوارا نہیں کیا۔
اپنے غلط موقف پر یوں ڈٹے رہنا ثابت کرتا ہے کہ ہمارے یہاں کسی بھی غلط بات کو درست سمجھنے کا ایک مزاج بن چکا ہے۔ ہم اپنے تئیں فرض کر لیتے ہیں کہ ایک چیز غلط ہے اور پھر اپنے اسی موقف کو درست سمجھنے لگتے ہیں اور اس سے اختلاف رکھنے والے کو حد درجہ بے وقوف اور جاہل قرار دیتے ہیں حالانکہ اس قسم کے طرز عمل سے ہم اپنے بے وقوف اور جاہل ہونے کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی معاملہ آج کل ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سامنے آ رہا ہے۔ ستائیسویں ترمیم ابھی سامنے نہیں آئی تھی کہ ایک طبقے نے اس کی مخالفت میں آسمان سر پر اٹھا لیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے شاید ہی کچھ لوگ ہوں جنہیں اس ترمیم کا تفصیلی مطالعہ کرنے کی توفیق ہوئی ہو ورنہ بیشتر لوگ سنی سنائی کا دفاع کرنے پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ حالانکہ ایسے تمام لوگوں میں سے کسی کو اس ترمیم کا براہ راست کوئی نقصان نہیں۔
ممکن ہے کہ یہ ترمیم مکمل طور پر ٹھیک نہ بھی ہو لیکن اس کی یوں اندھی مخالفت بھی تو درست نہیں۔ یہ ایک آئینی عمل ہے جو پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے، اور اسی کو کرنے دینا چاہیے۔ پارلیمنٹ عوام کا نمائندہ ایوان ہے۔ اس میں کسی بھی قانون کی منظوری سے قبل سیر حاصل بحث ہوتی ہے اور اس کی حمایت اور مخالفت میں کھل کر ہر طرح کی بات چیت ہوتی ہے۔
ستائیسویں ترمیم کے تحت اب تک جو دو اہم چیزیں سامنے آئی ہیں، ان میں ایک تو عدلیہ کے لامحدود اختیارات کو کسی حد تک محدود کرنے اور الگ سے ایک آئینی عدالت قائم کرنے کے علاوہ فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی حیثیت دینا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کو ختم کر کے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تخلیق کرنا اور اس کے قواعد و ضوابط مقرر کرنا شامل ہے کیونکہ یہ عہدے اس سے پہلے آئین کا حصہ نہیں تھے۔
ستائیسویں آئینی ترمیم کی اندھی مخالفت کرنے والوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ گزشتہ چند سال کے دوران عدلیہ نے جس طرح اپنا دائرہ کار از خود ہی بڑھا لیا تھا اور آئین میں ردوبدل کرنا شروع کر دیا تھا، عام لوگوں کے مقدمات سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف اور صرف حکومتی امور میں مداخلت کرنا شروع کر دی تھی اسے روکنا بہت ضروری ہو چکا تھا ورنہ تو ایک طرف عام لوگوں کے مقدمات مزید معرض التوا میں پڑے رہتے اور دوسری جانب پارلیمنٹ جیسا عوام کا نمائندہ ادارہ عضو معطل بن کر رہ جاتا جبکہ ثاقب نثار، آصف سعید کھوسا، گلزار احمد اور عمر عطا بندیال کی قماش کے جج من مانے فیصلوں اور اقدامات سے اس ملک کے نظام سے نہ جانے کیسے کیسے کھلواڑ کرتے رہتے۔
ڈبل پریس اور ستائیسویں
08:50 AM, 15 Nov, 2025