حکومت نے 27ویں ترمیم کے ذریعے معاملات پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ نظم حکومت مضبوط ہو گیا ہے۔ حکومت کی راہ میں رکاوٹیں بظاہر دور ہوتی نظر آرہی ہیں۔ حکمران اب آسانی سے حکومت کر سکیں گے۔ نظام حکمرانی مضبوط ہوتا نظر آرہا ہے، ویسے ہمارے حکمران ہر وقت اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ اپنی کرسی مضبوط کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا ہے۔ ہمارے حکمران ، سویلین ہوں یا وردی والے، سیاستدان ہوںیا بیوروکریٹس، سب اپنی اپنی حکمرانی کا تحفظ کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن عملاً وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ ملک غلام محمد جیسے سول سرونٹ حکمران ہوں یا میجر جنرل سکندر جیسے سول/فوجی حکمران، اپنی حکمرانی کو محفوظ بنانے کی انتھک کاوشیں کرتے رہے لیکن ان کے ساتھ کیا ہوا۔ وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ 73ءکے آئین کے خالق نے کہا تھا کہ یہ آئین سول حکمرانی کی حفاظت کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھ کہ اس آئین کے ذریعے مارشل لا کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ 73ءکے آئین کی موجودگی میں جنرل ضیاءالحق نے مارشل لا لگایا اور پھر مارشل لانے بھٹو کو تخت دار تک بھی پہنچایا، ویسے اب عدلیہ اپنے اس فیصلے پر ندامت کا اظہار کر چکی ہے پھر ہم نے دو تہائی اکثریت رکھنے والی نواز شریف حکومت کا بھی حشر دیکھا۔ جنرل مشرف کو وردی اتارتے اور گلی گلی بھاگتے بھی دیکھا۔ عدالت نے انہیں بھگوڑا بھی قرار دیا۔ وہ اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود اپنی حکمرانی قائم نہیں رکھ سکے۔
حکومت/ حکمرانی، اقتدار، طاقت، اختیار دراصل سانپ سیڑھی کا ایک نہ ختم ہونے والا کھیل ہے جو ہنوز جاری ہے۔ ذرا عمران خان کے عروج کا سفر ملاحظہ کریں۔ 2011ءمیں جب انہیں مینار پاکستان میں جلسے کے ذریعے لانچ کیا گیا۔ ریاست اور اس سے متعلق ادارے ان کی تراش خراش میں جتے ہوئے تھے انہیں سیاست کے سنگھاسن پر بٹھانے کی کاوشیں ہو رہی تھیں، انہیں قائداعظم ثانی اور نیلسن منڈیلا بنانے کی مہم جاری تھی، اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف کے خلاف فضا تیار کی جا رہی تھی پھر 2018ءمیں عمران خان کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا گیا۔ نواز شریف کو عدالت سے سزا دلوا کر حوالہ زندان کیا گیا۔ عمران خان بڑے طمطراق سے سر پر آرائے تخت نشین ہو گئے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا ہو گا۔ مقتدر حلقے نواز شریف کو ایک بھولی بسری داستان بنا چکے تھے اور عمران خان اگلے دس سالوں کے لئے اپنے آپ کو حکمران سمجھے ہوئے تھے اور تو اور عمران خان کو اقتدار میں لانے والے اپنی حکمرانی کو دوام دینے کی منصوبہ سازی کرنے لگے تھے۔ جنرل باجوہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے کاوشیں کرتے نظر آئے لیکن عمران خان جنرل فیض حمید کو چیف بنانا چاہتے تھے تاکہ وہ ان کی حکمرانی کو دوام بخش سکیں پھر کیا ہوا سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا۔ کیا اس وقت کوئی سوچ سکتا تھا کہ نواز شریف اقتدار میں واپس آئیں گے۔ شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ اور مریم نواز شریف کا وزیراعلیٰ بننا سوچا جا سکتا تھا لیکن ایسا ہوا۔ جنرل عاصم منیر کا آرمی چیف بننا کیا قدرت خداوندی کا اظہار نہیں ہے۔ عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن عملاً ایسا ہوا اور ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تاریخ دہرائے جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ حکمران ایک بار پھر اپنے آپ کو اپنے حق حکمرانی کو، نظم حکمرانی کو مضبوط کرتے نظر آرہے ہیں۔ حکمرانی کی راہ میں آنے والی ممکنہ رکاوٹوں کو ہٹاتے اور راستہ صاف کرتے نظر آرہے ہیں۔ ویسے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے پر پرزے کاٹ ڈالے گئے ہیں۔ عدلیہ کی پھرتیاں اور پروازیں محدود بلکہ مسدود ہوتی نظر آرہی ہیں۔ حکومت نے عدلیہ کی طنابیں کس ڈالی ہیں۔ اب حکم عدولی کرنے والے ججوں کو دیس نکالا دیا جا سکے گا۔ جو جج نظام کے ساتھ نہیں چلیں گے انہیں خود چلے جانا ہو گا، عاصم منیر 2030ءتک اپنا حق ملازمت پا چکے ہیں۔ کوئی تاحیات احتساب سے استثنیٰ بھی حاصل کر چکے ہیں۔
ہمارا نظام عدل پہلے بھی آئیڈیل نہیں تھا۔ ہمارے جج اپنے عہدے اور پیسے کے وقار کے مطابق کام نہیں کرتے تھے۔ عدلیہ کا وقار نہیں تھا، اس کی وجہ عدلیہ کے فیصلے تھے۔ ہماری عدلیہ کی بے توقیری کی طویل کہانی ہے۔ ہماری عدلیہ کے فیصلے ہماری قومی سیاست پر اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔ یہ اثرات مثبت نہیں تھے۔ ہماری عدلیہ کے فیصلوں کے باعث ہمارا نظم سیاست کمزور ہوتا چلا گیا ہے۔ ہماری عدلیہ فوجی ڈکٹیٹروں کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ فراہم کرتی رہی ہے۔ آئین کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو قانونی اور جائز قرار دیتے رہے ہیں پھر ہماری عدلیہ خود سیاست میں ایک فریق بنتی چلی گئی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کی وکلاءتحریک کے نتیجے میں بحالی کے بعد ہمارے جج صاحبان ضرورت سے زیادہ ہی بہادری کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔ سیاست میں ملوث ہونے لگے تھے۔ ججوں کی نظام سے بالاتر ہونے کی اپروچ نے نظم حکومت کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ ججز کے فیصلے بین الاقوامی معاملات پر بھی اثرانداز ہو رہے تھے۔ یہ اثر پذیری مثبت نہیں بلکہ منفی تھی جس کے باعث معاملات میں کمزوری پیدا ہوتی جا رہی تھی۔ایسے ہی تمام معاملات کو درست کرنے کے لئے، قومی معاملات کو مزید ابتری سے بچانے کے لئے اور بدلتے حالات میں معاملات کو درست سمت میں چلانے کے لئے حکومت نے 27ویں ترمیم منظور کرائی ہے۔اس پر کچھ واویلا بھی جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے دو ججز اطہر من اللہ اور منصور علی شاہ صاحبان نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ظاہر ہے یہ خوشگوار وقوعہ نہیں ہے۔ اس سے اعلیٰ عدلیہ کی بے بسی اور تقسیم ظاہر ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مستعفی ہونے والے ججز کو اپنے ادارے پر اعتماد نہیں رہا ہے۔ وہ جاری نظم عدل سے انصاف کی توقع نہیں رکھتے ہیں۔ ویسے ہمارا نظام عدل، انصاف فراہم کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے۔
اقتدار پر گرفت کی تاریخ
08:50 AM, 15 Nov, 2025