افغان سرزمین، دہشت گردی اور پاکستان کا اصولی ردِعمل

09:19 AM, 14 Nov, 2025

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ قربت، بھائی چارے اور باہمی تعاون کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ دونوں ممالک مذہب، سرحد اور ثقافت کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف لاکھوں افغان مہاجرین کو دہائیوں تک پناہ دی بلکہ ہر عالمی فورم پر افغانستان کی خودمختاری اور امن کے لیے آواز بلند کی۔ مگر افسوس کہ حالیہ برسوں میں یہ تعلقات ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جاری سرگرمیاں ہیں۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ استنبول مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کہ پاکستان ‘‘غیر منصفانہ’’ الزامات لگا رہا ہے۔ تاہم یہ بیان حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ پاکستان اگر افغانستان پر الزام اٹھاتا ہے، تو اس کی بنیاد جذبات نہیں بلکہ وہ ٹھوس شواہد ہیں جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی سکیورٹی اداروں اور معتبر تحقیقاتی رپورٹس میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے افغانستان کے صوبوں کنڑ، ننگرہار ، پکتیکا اور خوست میں موجود ہیں، جہاں یہ گروہ نہ صرف تربیت حاصل کرتا ہے بلکہ پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی بھی کرتا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا، اس کا براہ راست تعلق انہی پناہ گاہوں سے ہے جہاں سیکڑوں حملوں میں سکیورٹی اہلکار، معصوم شہری اور بچے نشانہ بنے۔ پاکستان کے لیے یہ کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ عملی اور خون کی قیمت پر لکھی گئی حقیقت ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان اپنی ریاستی سلامتی کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو یہ کسی الزام تراشی کا کھیل نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کا فریضہ ہے۔پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے واضح اور اصولی رہا ہے اور وہ یہ کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان دشمن گروہوں کے لیے استعمال  نہ ہونے دے۔ یہ مؤقف نہ صرف انصاف پر مبنی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور دوحہ معاہدے کی روح کے عین مطابق ہے، جس میں افغان طالبان نے تحریری طور پر وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ جب اس معاہدے کا عملی عکس نظر نہیں آ رہا، تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟
استنبول مذاکرات اسی تناظر میں اہم تھے۔ ان مذاکرات کے دوران پاکستان نے کسی غیر منطقی یا سخت مؤقف کا اظہار نہیں کیا، بلکہ صرف ایک اصولی مطالبہ کیا کہ افغانستان حکومت تحریری اور عملی ضمانت دے کہ وہ ٹی ٹی پی کے نیٹ ورکس کو ختم کرے گی اور پاکستان کے خلاف ان کے حملوں کو روکے گی۔ لیکن افغان ثالثوں کی جانب سے کوئی واضح تحریری عہد سامنے نہیں آیا، نہ ہی کسی عملی روڈ میپ کی منظوری دی گئی۔ بات چیت کے بعد افغانستان نے الٹا پاکستان کو ‘‘سخت مؤقف’’ اپنانے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا، جو کہ حقیقت سے انحراف کے سوا ۔ اس ضمن میں یہ بات بھی واضح ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی اور کامیاب جنگ لڑی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کی قربانیاں تاریخ کا اہم باب ہیں۔ پاکستان نے اپنے شہروں، بازاروں، اسکولوں اور عبادت گاہوں کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے جان و مال نچھاور کیے۔ ایسے ملک پر یہ الزام لگانا کہ وہ اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈال رہا ہے، ناانصافی اور غیر سنجیدگی کے برابر ہے۔
پاکستان آج بھی مسئلے کا حل ‘‘بات چیت اور تعاون’’ میں دیکھتا ہے، نہ کہ تصادم میں۔ پاکستان بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ سرحدی سکیورٹی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور مشترکہ اقدامات سے امن ممکن ہے۔ پاکستان نے نہ صرف سرحدی باڑ مکمل کی بلکہ بارڈر مینجمنٹ کے لیے منظم نظام بھی قائم کیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کے مثبت اور ذمہ دارانہ نقطہ نظر کے عکاس ہیں۔دوسری طرف افغانستان میں یہ تاثر دینا کہ پاکستان اپنے مسائل افغانستان پر ڈال رہا ہے، حقائق سے انحراف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کابل حکومت سنجیدگی اور واضح حکمت عملی اختیار کرے، ٹی ٹی پی کے نیٹ ورکس کو تحلیل کرے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے تو نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان خود بھی امن کا حقیقی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ کیونکہ ٹی ٹی پی اور اس جیسے گروہ خطے کے ہر ملک کے لیے خطرہ ہیں، یہاں تک کہ خود افغان عوام بھی ان کی کارروائیوں سے محفوظ نہیں۔
المختصر ! یہ بات ضرور یاد رکھی جائے کہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ دشمنی کسی کے کام نہیں آئے گی۔ امن اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گرد گروہوں کو کسی قسم کی پناہ، سہولت یا جواز نہ دیا جائے۔ پاکستان آج بھی امن، تعاون اور بات چیت کا حامی ہے، لیکن اپنی قومی سلامتی پر سمجھوتہ ہرگز نہیں کر سکتا۔افغان حکومت کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ حقیقت کا سامنا کرے، زمینی حقائق کو تسلیم کرے اور ثابت کرے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کی طرح اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے کو تیار ہے۔

مزیدخبریں