سینیٹر عرفان صدیقی … جمہوری مزاحمت کا ستون

09:17 AM, 14 Nov, 2025

پاکستان کی علمی، ادبی اور سیاسی فضاؤں پر ایک سوگوار سکوت چھایا ہوا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بزرگ سیاست دان، ممتاز کالم نگار، استاد، محقق اور جمہوریت پسند شخصیت سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال کی خبر نے ملک بھر میں ایک گہرا خلا پیدا کر دیا ہے۔ انکی رحلت نہ صرف ایک خاندان کا صدمہ ہے بلکہ پاکستان کی فکری و سیاسی دنیا کا مشترکہ نقصان بھی ہے۔ وہ ایسے صاحب طرز قلمکار تھے جنہوں نے نصف صدی سے زاید اپنی زندگی تعلیم، تحقیق، صحافت اور جمہوریت کے فروغ کیلیے وقف کیے رکھی۔ انکی شخصیت کا ہر پہلو وقار، متانت، علمیت، شائستگی اور حب الوطنی کا آئینہ دار تھا۔
عرفان صدیقی صاحب نے اپنے عملی سفر کا آغاز ایک استاد کے طور پر کیا۔ تدریس ان کے مزاج کا بنیادی حصہ تھی۔ وہ علم کو صدقہ جاریہ سمجھتے تھے اور اپنے طلبہ میں صرف نصابی علم ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور فکری تربیت بھی منتقل کرتے تھے۔ انکا کلاس روم محض پڑھانے کی جگہ نہیں تھا بلکہ تفکر، مکالمے اور جستجو کی درسگاہ تھا۔ وہ قوم سازی میں معلم کے کردار کو بنیادی سمجھتے تھے اور اپنی عملی زندگی میں ہمیشہ اس کردار کے ساتھ وفادار رہے۔
 کالم نگاری کی دنیا میں عرفان صدیقی صاحب کا نام ایک معتبر حوالہ تھا۔ انکے کالم سنجیدگی، متانت اور استدلال سے بھرپور ہوتے۔ وہ نہ تو اشتعال انگیزی کے قائل تھے نہ سطحی تجزیے کے۔ وہ اپنے قلم کو کبھی نفرت، الزام تراشی یا انتقام کیلیے استعمال نہیں کرتے تھے۔ انکے الفاظ میں برداشت، توازن اور اخلاقی قوت نمایاں ہوتی۔ وہ قومی معاملات کو جذباتیت کے بجائے دلیل , تہذیب اور شایستگی سے بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے اور یہی انداز انکے کالموں کو منفرد بناتا۔ انکے کالموں نے کئی نسلوں کی سیاسی اور فکری تربیت میں کردار ادا کیا۔ انکا ہر تحریر شدہ لفظ سنجیدہ تحقیق، تاریخی شعور اور گہری بصیرت میں گندھا ہوتا۔ وہ اختلافِ رائے کے اصولی قائل تھے اور صحافت کی دنیا میں شائستگی کے نمائندہ سمجھے جاتے۔
 انکا آخری لیڈ کالم"کابل انتظامیہ کیلیے ایک بڑا چیلینج" 4 نومبر کو جبکہ میرا کالم" طالبان رجیم چینج" انکے کالم کے نیچے ادارتی صفحے پر چھپا۔ ادارتی صفحے 
پر میرے کالم کا انکے کالم کے ساتھ چھپنا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہوتا تھا۔
صدیقی صاحب نے سیاست میں آ کر بھی اپنی سادگی، بردباری اور اصول پسندی کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ان کی وابستگی نظریاتی بھی تھی اور شخصی بھی۔ وہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کے دیرینہ ساتھی اور تقریر نویس بھی رہے۔ شریف برادران نے اہم ترین سیاسی معاملات پر ان سے مشاورت کو ہمیشہ اہمیت دی۔ انکا دست شفقت ہمیشہ سابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز, موجودہ وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر اعوان کے سروں پر رہا۔ حمزہ شہباز, مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے بھی ہمیشہ نہایت سعادت مندی اور ادب سے انہیں انکل کہہ کر ہی مخاطب کیا۔ صدیقی صاحب سے میری پہلی ملاقات 1998 میں ایوان صدر میں اس وقت ہوئی جب وہ صدر رفیق تارڑ کے پریس سیکرٹری تھے۔ میں نے صدیقی صاحب کی خدمت میں اپنی چند کتابیں پیش کیں جنہیں انہوں نے بہت سراہا۔ میں تیس برس سے انگریزی زبان میں کالم نگاری سے وابستہ ہوں ۔ صدیقی صاحب جب کبھی کسی معاملے پر انگریزی میں میری قلم کاری کی ضرورت محسوس کرتے تو پر تکلف چائے پر بلا لیتے, توجہ طلب موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے اور زور دار کالم لکھنے کے لیے کہتے تو مجھے ان کا حکم کسی اعزاز سے کم نہ لگتا۔ میری نگارش پر انکے ستایشی کلمات میرے لیے کسی تمغے سے کم نہ ہوتے۔ میری ذات کے لیے انکے احسانات ناقابل فراموش ہیں۔
 صدیقی صاحب جمہوری اقدار ، آئین کی بالادستی اور پارلیمانی نظام کے حامی تھے۔ ایک سینیٹر کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ ایوانِ بالا میں باوقار انداز میں بات کی۔ وہ سیاسی انتقام، گروہی مفادات اور محاذ آرائی کی سیاست سے ہمیشہ دور رہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ملک کی ترقی استحکام، مکالمے اور جمہوریت کے تسلسل میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پارلیمان کے اندر اور باہر برداشت، گفت و شنید اور مفاہمت کی سیاست کے داعی رہے۔ انکا سیاسی کردار ایک تربیت یافتہ سیاسی کارکن کی طرح صاف، شفاف اور مثبت رہا۔
انکی زندگی کا ایک اہم پہلو تحقیق اور تصنیف تھا۔ وہ تاریخ، سیاسیات، ادبیات اور مذہبی مطالعات میں گہری نظر رکھتے تھے۔ انکی تحریریں محض جذباتی نہیں بلکہ حوالوں سے بھرپور علمی نوعیت کی ہوتیں۔ وہ روایت اور جدیدیت کے درمیان توازن کے حامی تھے اور معاشرتی اقدار کو روشن خیالی اور اعتدال کے ساتھ دیکھتے۔ انکے ہاں فکر پختہ، موقف مضبوط اور انداز شائستہ ہوتا۔ انکا ہر جملہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا اور یہی دانشور کی اصل پہچان ہے۔
شخصیت کے اعتبار سے صدیقی صاحب انتہائی شفیق، منکسر المزاج اور نرم دل انسان تھے۔ انکی گفتگو میں وقار، اخلاق اور سادگی جھلکتی۔ وہ پاکستان اور اسکی تہذیبی روایات سے گہری محبت رکھتے۔ وطن کی خدمت ان کیلیے محض ایک فریضہ نہیں بلکہ ایمان کا حصہ تھی۔ وہ مزاجاً درویش، کرداراً مضبوط اور دل سے وطن دوست تھے۔ سیاست میں بھی انہوں نے کبھی سخت زبان استعمال نہیں کی۔ مخالفین پر بھی شائستہ انداز میں تعمیری تنقید کرتے۔ کردار کشی , دشنام طرازی اور بے مروتی انکے مزاج کا حصہ نہیں تھی۔ انکے انتقال کے بعد مختلف سیاسی مکاتبِ فکر سے جو یکساں تعزیت و سوگ کا اظہار ہوا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہر دل عزیز شخصیت تھے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کی خدمات طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے تمام عمر علم، قلم، اصولوں اور ملک کی خدمت کیلیے وقف کی۔ ایسے لوگ تاریخ کے حاشیوں میں کبھی گم نہیں ہوتے بلکہ آنیوالی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔ انکے علمی کام، انکے کالم، انکا سیاسی کردار، انکی گفتگو کا وقار اور انکی شخصیت کی شرافت پاکستان کے فکری اور سیاسی ماحول میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ہم سے ایک ایسے عہد میں رخصت ہوئے جب ملک کو دانش، مکالمے، اعتدال اور بردباری کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ انکے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ آسانی سے پْر نہیں ہو سکے گا۔ انکا جانا میرا ذاتی نقصان ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کی زندگی علم و ادب، صحافت، سیاست، جمہوریت اور اصول پسندی کی حسین آمیزش تھی۔ وہ ایک استاد بھی تھے، دانشور بھی، سیاست دان بھی اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے انسان بھی۔ ان کی رحلت سنجیدہ طبقات کیلیے ایسا نقصان ہے جس کا ازالہ شاید ممکن نہیں۔ 

مزیدخبریں