پاکستان کو پھنسانے کی چال

09:16 AM, 14 Nov, 2025

پاکستان کی عسکری قیادت کو نالائق، نااہل اور بزدل ثابت کرنے کے لئے ہر دور میں مختلف کہانیاں تراشی جاتی ہیں پھر ان کے پیچھے اتنے منظم انداز میں میڈیا کا ایک سیکشن اور دانشور کھڑے ہو جاتے ہیں اور زور بیان سے جھوٹ کو سچ کرنے میں جت جاتے ہیں، جس پر سادہ لوح عوام کسی حد تک یقین کرتے ہیں۔ ان قومی مجرموں کو ان کے کیے کی سزا ملتی نہیں دیکھی۔ آج بھی ایسی ہی ایک مہم جاری ہے جس میں درپردہ طور پر سسٹم سے فیض حاصل کرنے والے مصروف کار نظر آتے ہیں۔
جنرل پرویز مشرف سے منسوب ایک کہانی ہے، جس کا ہمارے آج سے گہرا تعلق ہے۔ مشہور کیا گیا امریکی جنرل نے فون پر کہا اگر تم ہمارے ساتھ ہو تو ٹھیک ورنہ پاکستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔ یہ سن کر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور انہوں نے اسی وقت امریکہ کے قدموں میں لیٹ جانے کا عندیہ دے دیا۔
امریکی جنرل یہ بات کسی عام آدمی سے کہہ بھی دے تو وہ مارے خوف کے بے ہوش ہو کر نہیں گرے گا۔ پرویز مشرف تو پھر ایک جرنیل تھا جو راتوں رات اس منصب پر نہیں پہنچا تھا بلکہ اس کے دامن میں دو جنگیں لڑنے کا تجربہ اور دنیا کی متعدد جنگوں کا مشاہدہ شامل تھا۔ اس نے امریکہ کو ایسا جواب دیا جسے امریکی نہ سمجھ سکے لیکن مطمئن ہو گئے۔ جنرل مشرف نے انہیں کہا ٹھیک ہے آئیے بیٹھیں اور منصوبہ بندی کریں، اس کے بعد انہوںنے خطے میں اپنے سے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ طاقتور حلیف چین سے رابطہ کیا۔ چینی عسکری و سیاسی لیڈروں سے کئی گھنٹے مشاورت کی پھر اس کی روشنی میں اقدامات شروع کر دیئے جبکہ امریکیوں سے کہا کہ وہ ہماری طرف سے فکر نہ کریں، جو وہ چاہتے ہیں ہم وہ تعاون کریں گے۔ امریکی جنرل یہ جواب سن کر خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ انہوں نے یہی خوش خبری امریکی صدر کو نیند سے بیدار کر کے سنائی تو وہ بھی پرسکون میٹھی نیند سو گئے۔ چینی قیادت کی طرف سے مشورہ تھا کہ ہم اور آپ مل کر امریکہ کو افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں کم از کم دس برس تک اس طرح پھنسائیں گے کہ اسے اس بات کا احساس نہیں ہو گا ، ہم اس کی فوج کو یہاں خوار کریں گے، اس کے اسلحے کے ذخائر پہاڑوں میں خرچ کرائیں گے، ا سکے ڈالر خوب لوٹیں گے اور اسے ایک لمحے کے لئے ادھر ادھر نہیں دیکھنے دیں گے پھر آئندہ دس برس اس منصوبے پر نہایت کامیابی سے عمل ہوتا رہا۔ امریکہ کے قریباً ایک ہزار ارب ڈالر کے انویسٹمنٹ بانڈ مختلف ممالک کے پاس رکھے ہیں جو انہیں کیش کرانا شروع کر دیں تو امریکی معیشت دھڑام سے منہ کے بل زمین پر آگرے۔ افغان جنگ میں کم از کم تیس ہزار امریکی و دیگر غیر ملکی مارے گئے، جن کی لاشیں کئی برس تک مختلف ممالک کے فریزر میں پڑی رہیں اور طویل عرصہ بعد وقفوں وقفوں سے نکال کر دفنائی جاتی رہیں یا مرنے والوں کے ملکوں کو بھیجی گئیں، یہ سب کچھ راز داری سے اس لئے کیا گیا کہ منظرعام پر آجاتا تو عوامی ناپسندیدگی کی لہر دنیا کے کئی ملکوں میں اٹھتی اور ہر اس ملک کی حکومت کو جان کے لالے پڑ جاتے جس کی فوج افغانستان میں امریکیوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لئے اتری تھی۔
جنرل مشرف اور چینیوں کا یہ گیم پلان یہ وار پلان آخری دم تک خفیہ رہا، امریکی اس کی گرد کو بھی نہ پا سکے، جب امریکی فوج افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوئی تو اس وقت انہیںاحساس ہوا جنرل پرویز مشرف اور چینیوں نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے۔ اب وہ پچھتا رہے ہیں لیکن اب کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ امریکہ اپنی شکست کو نہیں بھولا۔ اس عرصہ میں پاکستان کی معیشت مضبوط ہوئی، ہمارا میزائل پروگرام مکمل ہو گیا۔ ہم ٹیکٹیکل ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو گئے یعنی چھوٹے نیوکلیئر ہتھیار جنہیں بھارت چھوٹے پرمانوں کہتا ہے اور خوف کھاتا ہے۔ یہ ہتھیار جہاں استعمال ہو گا وہاں پچیس کلومیٹر علاقے میں تباہی لائے گا۔ مختلف طاقت کے ٹیکٹیکل ہتھیار حسب ضرورت استعمال کئے جا سکتے ہیں جبکہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے داداد ابا اسی طرح ریزرو میں موجود ہیں جس طرح بھولو پہلوان کے خاندان میں تمام مقابلے اکرم، اسلم اور گوگا پہلوان جیت لیا کرتے تھے۔ بھولو پہلوان سے کشتی لڑنے کی نوبت ہی نہ آتی تھی۔ ایٹم بم کا اپنا کردار ہے۔ یہ چلانے کے لئے بنایا جاتا ہے۔ سونگھنے کے لئے نہیں جو جنگی چال ایک مرتبہ کسی جنگ میں کامیاب ہو جائے وہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ جنگی نصابوں میں جگہ پاتی ہے، اسی طرح میدان جنگ میں کئے گئے فیصلے اگر الٹے پڑ جائیں اور نقصان کا باعث یا شکست کا باعث بن جائیں تو بھی کتابوں نصابوں میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔کامیاب منصوبے بار بار آزمائے جاتے ہیں جبکہ شکست کا باعث بننے والے فیصلوں سے فاصلہ اختیار کیا جاتا ہے۔
دنیا بھر کی فوجیں آج بھی جہاں بھی حملہ آور ہوتی ہیں وہ اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ان کی سپلائی لائن برقرار رہے، فریق مخالف اسے کاٹ کر عقب سے حملہ کرنے کی یا گھیرا ڈالنے کی کوششیں ضرور کرتا ہے جو اس چال میں کامیاب ہو جائے وہ فریق مخالف کو اس محاذ پر شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔ کامیابی میں اور بھی کئی اہم فیصلے، فیصلہ کن ہوتے ہیں لیکن ہر بات کا آغاز جنگی چال سے ہی ہوتا ہے۔
افغان جنگ میں جنرل پرویز مشرف اور چینیوں کی جنگی چال کامیاب رہی، امریکہ کو شکست فاش ہوئی۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر پاکستان اس جنگ سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کرتا تو بھارت اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیار تھا، اس صورت میں بھارتی ہوائی اڈوں سے امریکی اور بھارتی طیارے اڑتے اور پاکستانی علاقوں میں تباہی مچاتے اور کسی رات آنکھ بچاکر ہمارے نیوکلیئر اثاثوں پر حملہ کر دیتے بعدازاں کہا جاتا جو کچھ ہوا وہ غلطی سے ہوا۔ جنرل مشرف سے بعض باتوں پر اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن ان کا امریکہ کو چکر دینے کا فیصلہ درست تھا۔ ہر فیصلے کی ایک قیمت تو ادا کرنا پڑتی ہے جو ہم نے ادا کی، جو فیصلے آج ہم کر رہے ہیں ان کی بھی ہمیں قیمت تو ادا کرنا پڑے گی لیکن دشمن کی چال سے باخبر رہنا بہت ضروری ہے۔ امریکہ اسرائیل اور بھارت ہمیں افغانستان میں اسی طرح طویل عرصہ کے لئے پھنسانا چاہتے ہیں، جیسے ہم نے امریکہ کو پھنسایا۔

مزیدخبریں