کراچی :صوبائی وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے "کوکین کوئین" انمول عرف پنکی کی گرفتاری کو سندھ حکومت کی منشیات مخالف مہم کا بڑا سنگ میل قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مجرموں کی سہولت کاری کرنے والے اہلکاروں کی محکمہ پولیس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
ملزمہ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر غیر مناسب پروٹوکول اور غفلت برتنے کی ویڈیوز سامنے آنے پر صوبائی وزیر نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ غفلت برتنے والے دو پولیس افسران کو فی الفور معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ شرجیل میمن نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "گرفتاری کے بعد کسی بھی قسم کی رعایت یا پروٹوکول کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا۔
وزیرِ اطلاعات نے انکشاف کیا کہ انمول عرف پنکی ایک عرصے سے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی تھی اور پولیس اسے پکڑنے کے لیے پہلے بھی کئی کوششیں کر چکی تھی۔ انہوں نے کہا یہ خاتون ہماری نوجوان نسل کی رگوں میں زہر اتار رہی تھی۔ اس کی گرفتاری پولیس اور اداروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے جس پر وہ شاباش کے مستحق ہیں۔
شرجیل میمن نے والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کے خلاف جنگ ایک مقدس مشن ہے اور سندھ حکومت اس لعنت کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔
’معاشرے میں زہر پھیلانے والوں سے کوئی ہمدردی نہیں‘: انمول پنکی کو پروٹوکول دینے پر 2 پولیس افسر معطل، شرجیل میمن برہم
01:57 PM, 14 May, 2026