کراچی :کراچی پولیس نے منشیات کی عالمی سپلائر انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں تہلکہ خیز رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزمہ نے شہر کے تعلیمی اداروں اور شوبز کی دنیا میں منشیات کی سپلائی کا ایک ایسا نیٹ ورک بنا رکھا تھا جو کسی کارپوریٹ بزنس کی طرح چلایا جا رہا تھا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق، ملزمہ کا گینگ پوش علاقوں کے نجی اسکولوں اور کالجوں کے کم عمر طلباء کو دانستہ طور پر ہدف بناتا تھا۔ گروہ نے طلباء کو راغب کرنے کے لیے باقاعدہ 'رعایتی سیل' کا طریقہ کار اپنا رکھا تھا، جس کے تحت زیادہ مقدار میں منشیات خریدنے والے بچوں کو خصوصی رعایت (Discount) دی جاتی تھی۔ اس قبیح حرکت کا مقصد تعلیمی اداروں میں منشیات کی فروخت کو تیزی سے پھیلانا تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنکی اکیلی نہیں بلکہ اس کا پورا خاندان اس جرم میں شریک ہے۔ ملزمہ نے منشیات سے حاصل ہونے والی کالی کمائی کو سفید کرنے کے لیے گلگت میں ایک لگژری ہوٹل بھی بنا رکھا ہے۔ پولیس نے اب ملزمہ کے تمام قریبی عزیزوں کے بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی چھان بین شروع کر دی ہے تاکہ اس نیٹ ورک کی مالی بنیادوں کو ختم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں ملزمہ کے شوبز انڈسٹری سے تعلقات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، جہاں وہ مبینہ طور پر کئی معروف شخصیات کو منشیات فراہم کرتی رہی ہے۔ اسی سلسلے میں پولیس نے ملزمہ کے اکاؤنٹنٹ کو گرفتار کر لیا ہے، جس سے تفتیش کے دوران نیٹ ورک کے مالیاتی رازوں اور دیگر بڑے ناموں کے بے نقاب ہونے کا قوی امکان ہے۔
معصوم طلباء 'ڈسکاؤنٹ سیل' کے نشانے پر: کوکین کوئین پنکی کے نیٹ ورک کا کچا چٹھا عدالت میں پیش، ہوٹل اور شوبز کنکشن بے نقاب
12:56 PM, 14 May, 2026