نئی دہلی/منی پور:بھارت کی ریاست منی پور ایک بار پھر نسلی اور مذہبی تشدد کے دہکتے ہوئے شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ بھارتی حکومت کی مکمل ناکامی کے باعث ریاست میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جہاں حالیہ کارروائی میں 4 عیسائی مذہبی رہنماؤں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔
ضلع کانگپوکپی میں مذہبی رہنماؤں کے قتل کے بعد مقامی قبائل اور عیسائی برادری کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ مشتعل مظاہرین نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کا راستہ روک لیا ہے اور انہیں علاقوں میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ عوامی سطح پر یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی فورسز اقلیتوں کے قتلِ عام میں بالواسطہ ملوث یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔صورتحال اس قدر کشیدہ ہو چکی ہے کہ مظاہرین نے تمام اہم بین ریاستی شاہراہوں کو بلاک کر دیا ہے۔ مظاہرین نے پتھر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے سپلائی لائنز کاٹ دی ہیں۔ مقامی افراد نے حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کر رکھی ہے۔جھڑپوں میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے منی پور میں عیسائیوں اور دیگر نسلی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مودی سرکار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ سیاسی مفادات کے لیے ریاست میں جاری نسلی صفائی کو روکنے میں سنجیدہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے منی پور اب ایک جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہا ہے
بھارت میں اقلیتوں کا قتلِ عام: منی پور میں مودی سرکار کا کنٹرول ختم، 4 عیسائی رہنماؤں کے قتل پر عوامی بغاوت
12:40 PM, 14 May, 2026