ایک اعداد و شمار اور حکومتی اعلان کے مطابق ماہ اپریل میں سمندر پاکستانیوں نے 3.25 بلین ڈالر پاکستان بھیجے جبکہ پہلے سے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ قرضوں کی قسط کی مد میں ماہ مئی کے اوائل میں آئی ایم ایف نے 1.3بلین ڈالر پاکستان کو دیئے، آئی ایم ایف قرض دیکر بجلی، پیٹرول اور دیگر معاملات پر نرخ متعین کرنے پر زور دیتا ہے جس کے نتیجے میں عوام کا شور اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانا انکا حق ہے، اگر مہنگائی پیٹرول کی وجہ سے بڑھتی ہو تو ایک علیحدہ بات ہے دوسری جانب بے لگام حزب اختلاف، فیک سوشل میڈیا یہ سب اپنی اپنی کہانیاں شروع کر دیتے ہیں۔ پریشانیوں کا شکار پاکستانی چونکہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں اسلئے انتشار کا شکار ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کی شرائط زیادہ ہوتی ہیں جو عوام کو مشکلات میں ڈالتی ہیں ہاں اشرافیہ تو ہمارے ملک میں کسی بھی پریشانی سے آزاد ہیں، آئی ایم ایف کی امداد کے مقابلے میں بیرون ملک پاکستانیوں کے بھیجے گئے زرمبادلہ کو امداد نہیں کہا جا سکتا وہ تو اپنے وطن عزیز کو زرمبادلہ بھیجتے ہیں، اپنے اہل خانہ کی پرورش کیلئے محنت کی کمائی اپنے پیاروں کو بھیجتے ہیں، انکی کوئی شرائط نہیں ہوتیں وہ تو صرف ملک میں امن و امان، ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں، مگر جب امن و امان کی کمی کی وجہ سے اپنے اہل خانہ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، انکی حلال کی کمائی سے خریدی گئی چھوٹی بڑی جائیدادوں پر قبضے ہوتے ہیں انکی سہولت کیلئے حکومتی بیانات صرف بیان ہی ہوتے ہیں عملی طور جو اس مشکل کا شکار ہوتے ہیں کوئی ان سے پوچھے، بیرون ملک پاکستانی جب اس سلسلے میں بیرون ملک پاکستانی مشن کو درخواست کرتا ہے تو پھر انتظار ہی کرتا ہے، اپنی جائیدادوں کے واپسی حصول کیلئے عدالتوں کے چکر کاٹتا ہے اور پھر ہمارے عدالتی نظام ”ماشااللہ“ پاکستان ہمیشہ سے افرادی قوت فراہم کر ے والے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
خلیجی ممالک میں پاکستانی ورکرز دہائیوں سے تعمیرات، ٹرانسپورٹ، انجینئرنگ، صحت، آئی ٹی اور سروس سیکٹر میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے پیچھے کئی معاشی، سماجی اور ترقیاتی عوامل کارفرما ہیں۔ خلیجی ممالک کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور صنعتی ترقی کے لیے لاکھوں ورکرز درکار ہیں۔ پاکستان نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے، خلیجی ممالک پاکستانی افرادی قوت کو ایک قابل اعتماد، محنتی اور کم خرچ ورک فورس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاکستانی مزدور، ڈرائیور، الیکٹریشن، پلمبر، ویلڈر، مکینک، انجینئر، ڈاکٹر اور آئی ٹی ماہرین پہلے ہی خلیجی مارکیٹ میں اپنی صلاحیتیں منو ا چکے ہیں۔ حالیہ ایران، امریکہ، اسرائیل کے معاملات میں ہمارے لیے ازلی دشمن پڑوسی کا کردار قابل نفرت رہا ہے، کیا ہمارے سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلے کو اجاگر کر کے خاص طور خلیج میں افرادی قوت کی آنے والی مانگ میں کوئی مثبت کردار کر سکتی ہے؟ یہ صرف بیان بازی کی حد تک اپنی ذمہ داری کو ”کھڑکا“ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آنےوالے پانچ دس سال کے دوران خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ ہماری افرادی قوت، ایمان دار، محنت کش اور تجربہ کار ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم یافتہ ملازمتوں کی طرف توجہ دیتے ہوئے بڑے اداروں کی طرف توجہ دی جائے۔ سعودی عرب ہمارا قریب ترین دوست ہے پاکستانی افرادی قوت کے حوالے سے ایک تابناک اشارہ ہے، ہو سکتا ہے کہ ہمارا سفارت خانہ، قونصل خانہ جدہ اس پر کام بھی کر رہا ہو مگر میڈیا کو کوئی اطلاع نہیں تاکہ پاکستانیوں کو خوشی و اطمینان ہو۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 میں ریڈ سی پروجیکٹ، میگا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور سیاحتی منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے لاکھوں ورکر درکار ہیں کیا ہم ان پراجیکٹ سے اپنا حصہ لے سکے ہیں، افرادی قوت کے حوالے سے۔ پاکستانی افرادی قوت اس ضرورت کو پورا کر نے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر اسکے لئے سمند ر پر پاکستا نیوں کی وزارت کو طلب کے مطابق تجربہ کار افرادی قوت کی تفصیلات اپنے سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں تعینات افسران کو شیئر کرنی چاہئیں۔ اسی طرح کیا ہم نے قطر کی طرف توجہ دی ہے جہاں انفراسٹرکچر، ہوٹلنگ، ٹورازم اور سروس سیکٹر میں ترقی جاری ہے، جہاں پاکستانی ورکرز کے لیے مواقع موجود ہیں آئی ٹی سیکٹر میں بھارتی افرادی قوت کا راج ہے، ہمارے بھی آئی ٹی کے طلباءو ماہرین بھی کسی سے کم نہیں۔ خلیجی ممالک میں آئی ٹی سیکٹر پاکستانی افرادی قوت کی ممکنہ کھپت کے حوالے سے اہم ترین سیکٹر ہے، صحت کے شعبے میں ہم بہت پیچھے ہیں وہاں بھی بھارت کا راج ہے، سعودی عرب میں بے شمار صاحب حیثیت پاکستانی موجود ہیں، بزنس فورم اور انویسٹر فورم بنا کر اہم تقریبات میں صوفوں کی اگلی نشستوں پر براجمان ہوتے ہیں کیا وہ پاکستا نی سرمایہ کاروں کا گروپ بنا کر کوئی کوئی کلینک، کوئی ہسپتال قائم کر سکتے ہیں؟؟ جو اسوقت ایک منافع بخش کاروبار اور انسانی خدمت ہے۔ خلیجی ممالک میں ہسپتالوں اور میڈیکل سیکٹر کی توسیع کے باعث پاکستا نی ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ پاکستانی ورکرز دنیا بھر میں اپنی محنت اور ایمانداری کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ خلیجی کمپنیاں پاکستانیوں کو ذمہ دار اور وفادار کارکن سمجھتی ہیں۔ مزید دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں پاکستانی ورکرز نسبتاً کم تنخواہ پر بہتر کارکردگی
دکھاتے ہیں، جس کی وجہ سے کمپنیوں کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔ مذہبی، ثقافتی ہم آہنگی کی وجہ سے پاکستانی کارکن آسانی سے خلیجی معاشرے میں ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے نوجوان آئی ٹی، کمپیوٹر، انجینئرنگ میں مہارت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بہتر ملازمتیں ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ میرے خیال میں ملک کے اندر صاحب حیثیت بشمول سیاست دان ملک کے اندر کوئی میگا پراجیکٹ لگانے سے قاصر ہیں ان کی توجہ تو ٹیکس چرانے، ملک کی محبت سے بہت دور ہیں اسلئے پاکستانی معیشت کا دارو مدار اب لگتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کا زرمبادلہ نظر آتا ہے چونکہ بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کی محبت سے سرشار ہیں، انکی جانب سے بھیجے جانے والے زرمبادلہ کی مقدار اس بات کا واضح ثبوت ہے جبکہ ملک میں اور بیرون ملک حکومت کی جانب سے انکے لئے سکیمیں صرف کاغذی ہیں، ملک میں تو بیرون ملک پاکستانیوں کے بچوں کے داخلے کے وقت انہیں سونے کا انڈہ دینے والی مرغی سمجھا جاتا ہے، اور داخلہ کے وقت بیرون ملک پاکستانی کے بچے ہیں، غیر ملکی طلبا کہہ کر منہ مانگی فیس لی جاتی ہے پاکستانی افرادی قوت دنیا بھر میں اپنی محنت اور صلاحیتوں کی وجہ سے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کر رہے ہیں، اللہ کے واسطہ انہیں عزت دو۔
اللہ کے واسطے بیرون ملک پاکستانیوں کو عزت دو
09:06 AM, 14 May, 2026