گذشتہ کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور اس میں سب بھائی لوگ اپنے اپنے دل کا رانجھا راضی کر رہے ہیں ۔ اس میں بنیادی طور پر تین قسم کے لوگ شامل ہیں ایک وہ جو بغض زرداری کی بیماری میں مبتلا ہیں وہ اس کے تحت واویلا کر رہے ہیں ۔ دوسرے وہ جو اسٹبلشمنٹ نہیں بلکہ فیلڈ مارشل صاحب کے ساتھ بلا وجہ کی محاذ آرائی کا ماحول بنا کر کسی اور کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور تیسرا طبقہ وہ ہے کہ جو انتہائی کمزور پچ پر کھیل کر حکومت یعنی وزیر اعظم کے خلاف اپنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں ۔ اصل حقیقت کیا ہے اسے بیان کرنے سے پہلے یہ تینوںمکاتب فکر اپنے پروپیگنڈا کی عمارت جس بنیاد پر کھڑی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کچھ اس کا ذکر ہو جائے تاکہ قارئین کو معاملات کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔ دو تین ہفتے پہلے بغضِ زرداری میں مبتلا افراد نے زرداری صاحب کے اسٹبشمنٹ کے ساتھ شدید جھگڑے کی باتیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنی شروع کر دی تھیں اور اس وقت زرداری صاحب پر اسٹبلشمنٹ کا جو نام نہاد عتاب تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ آصف علی زرداری نے صدر مملکت کے عہدے پر ہوتے ہوئے بھی متحدہ عرب امارات کو پاکستان سے اپنا قرض واپس لینے کا کہا ۔ یہ اس قدر بیہودہ الزام تھا کہ جو بلا شبہ غداری کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس بات پر کچھ لوگوں نے یقینا واہ واہ بھی کی لیکن یہ بات مارکیٹ میں زیادہ دیر چل نہ پائی ۔ اس لئے کہ اگر واقعی ایسی کوئی بات ہوتی تو پھر ایسے غدار صدر کو کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی بلکہ اس کا محاسبہ کیا جاتا ہے اور ایسے صدر کو ایوان صدر سے باہر نکلنا بھی نصیب نہیں ہوتا لیکن جب دیکھا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری تو ایک انتہائی اہم دورے پر ایک بڑے وفد کے ساتھ چین گئے ہیں اور وہاں پر ان کے چھ روز انتہائی اہم مصروفیت میں گذرے ہیں اور ملک کی سیاسی اور عسکری دونوں قیادتیں ایوان صدر ان سے ملنے اور انھیں اہم قومی و بین الاقوامی امور پر بریفنگ بھی دے رہی ہیں تو یہ قرض واپس کرنے والا پروپیگنڈا اپنی موت آپ ہی مر گیا ۔
اس کے بعد چند دن سکون رہا اور اب گذشتہ چند دنوں سے زرداری صاحب کے حوالے سے ہی ایک بار پھر طوفان بپا کیا جا رہا ہے لیکن اس بار وجوہات کچھ مختلف ہیں ۔ لیکن پہلے مختصر سا وزیر اعظم کے حوالے سے کچھ لوگ بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں کہ وزیر اعظم کو ہی ہٹا دیا جائے گا ۔ اب کیوں ہٹایا جائے گا اور وزیر اعظم کا کیا قصور ہے کچھ پتا نہیں لیکن کچھ لوگوں کے مطابق یہ نظام چلانے والے عقل سے بالکل ہی پیدل ہیں اور وہ اچھے خاصے چلتے نظام کو بلا وجہ لپیٹ دیں گے ۔فیلڈ مارشل صاحب کو بھی صدر بنانے کی باتیں کر کے ان کی ذات کو بلا وجہ اس معاملے میں لایا جا رہا ہے ۔
کہا یہ جا رہا ہے کہ اب کی بار معاملات بڑے سنگین ہیں اور معاملہ28ویں ترمیم کا ہے کہ جس میں 18ویں ترمیم میں صوبوں کا جو حصہ رکھا گیا تھا اس میں سے کٹ کر کے وفاق کے حوالے کرنے پر اختلافات ہیں جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کسی طور نہیں مان رہی کیونکہ اس کے لئے 18ویں ترمیم ایک مقدس صحیفہ ہے ۔ اس کے علاوہ نئے صوبوں اور وزارت تعلیم اور وزارت صحت کو واپس وفاق کے حوالے کرنے کی بات بھی شامل ہے ۔ جہاں تک 28ویں ترمیم کی بات ہے تو اقتدار کے ایوانوں میں یقینا اس پر کام ہو رہا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو کچھ امور پر اختلافات بھی ہیں لیکن ان اختلافات کی بنیاد پر اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومت یا اسٹبلشمنٹ کے درمیان ٹھن گئی ہے اور زرداری صاحب کو عہدہ صدارت سے ہٹایا جا رہا ہے یا ان کی صحت کے حوالے سے ان سے استعفیٰ لیا جا رہا ہے تو دونوں باتیں ہی غلط ہیں ۔ اس لئے کہ عہدہ صدارت سے ہٹانے کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت کے پاس نہیں ہے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ زرداری صاحب سے زبردستی استعفیٰ لیا جا سکتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ اب اس میں ایک تیسرا آپشن کہ جو واقعی کسی لطیفے سے کم نہیں کہ آئین میں ترمیم کر کے فیلڈ مارشل صاحب کو صدر مملکت بنا دیا جائے گا ۔ ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے تو کیا یہ تصور بھی کیا جا سکتا ہے کہ ایک تو پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ سے زبردستی استعفیٰ لے کر انھیں ایوان صدر سے نکالا جائے اور پھر اسی پاکستان پیپلز پارٹی سے یہ امید بھی رکھی جائے کہ وہ آئین کے آرٹیکل243اور دیگر میں آئینی ترامیم پر حکومت کا ساتھ بھی دے گی لیکن بالفرض محال یہ کام بھی پاکستان پیپلز پارٹی کر دیتی ہے تو پورے نظام کو اتھل پتھل کرنے کے بعد بھی 28ویں آئینی ترمیم تو پھر باقی رہ جاتی ہے لیکن ہم ایک بار پھر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اب 28ویں ترمیم کے لئے بھی ووٹ دے دے گی تو اب ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ اپنا صدر اور پتا نہیں اور کون کون سے آئینی عہدے گنوا کر اگر پھر بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے28ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینا ہی ہے تو اتنی دھول اڑانے کی ضرورت کیا ہے وہ یہ سب کچھ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر پہلے ہی کر لے گی ۔
زرداری اسٹبلشمنٹ جھگڑا
09:06 AM, 14 May, 2026