بلوچستان میں بیانیے کی جنگ یا دہشتگردی ؟

09:05 AM, 14 May, 2026

بلوچستان کئی دہائیوں سے سیاسی بے چینی، معاشی محرومیوں، شورش اور بیرونی مداخلت جیسے مسائل کا شکار رہا ہے۔ ماضی میں یہاں قوم پرست تحریکیں زیادہ تر سیاسی جلسوں، احتجاجوں اور ریاست سے مذاکرات کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کرتی تھیں۔ اگرچہ بعض شدت پسند گروہ موجود تھے، مگر عام بلوچ سماج میں خودکش حملوں، خصوصاً خواتین کے ذریعے خودکش کارروائیوں کا کوئی رجحان نہیں پایا جاتا تھا۔
 یہی وجہ ہے کہ 2000 کی دہائی سے لے کر 2018 تک بلوچستان میں ہونے والی شدت پسند کارروائیوں میں خواتین خودکش بمباروں کی مثال تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں صورتحال نے ایک خطرناک اور غیر معمولی رخ اختیار کیا ہے، جس نے نہ صرف سیکیورٹی اداروں بلکہ معاشرے کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
2020 میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے قیام کے بعد بلوچستان میں ایک نیا بیانیہ سامنے آیا۔ اس تنظیم نے خود کو انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں اور بلوچ شناخت کے تحفظ کی آواز کے طور پر پیش کیا۔ سوشل میڈیا، جلسوں اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ایسے انداز میں گفتگو کی گئی کہ جیسے یہ محض ایک پرامن حقوق کی تحریک ہو۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ متعدد سوالات جنم لینے لگے کہ آخر کیوں انہی حلقوں سے وابستہ افراد یا ان کے بیانیے سے متاثر لوگ شدت پسند تنظیموں کے قریب دکھائی دینے لگے؟ کیوں ہر سکیورٹی آپریشن کو فوری طور پر “انسانی حقوق کی خلاف ورزی” قرار دیا جاتا ہے، جبکہ شدت پسند کارروائیوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے؟۔
اس تبدیلی کی سب سے خوفناک مثال اپریل 2022 میں سامنے آئی، جب کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کیا گیا۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے قبول کی، جبکہ حملہ آور شاری بلوچ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بلوچستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا 
جب کسی خاتون نے خودکش حملہ کیا۔ یہ واقعہ محض ایک سیکیورٹی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک سماجی اور فکری تبدیلی کا اشارہ تھا۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ وہ معاشرہ جہاں خواتین سیاسی جدوجہد یا سماجی سرگرمیوں تک محدود تھیں، وہاں خودکش حملوں کا رجحان اچانک کیسے پیدا ہوا؟۔ شاری بلوچ کے بعد بھی متعدد خواتین کے نام سامنے آئے، جن میں سمیعہ قلندرانی، ماہکان بلوچ، ماحل بلوچ، زرینہ رفیق بلوچ، حوا بلوچ اور آسیہ مینگل شامل ہیں۔ مختلف رپورٹس اور ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ شدت پسند تنظیمیں خواتین کو نہ صرف نظریاتی طور پر متاثر کر رہی ہیں بلکہ انہیں عملی عسکری تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
 خود BLA کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں خواتین کی ٹریننگ کے مناظر سامنے آ چکے ہیں۔ ماضی میں بلوچ مزاحمتی تحریک کی نوعیت مختلف تھی، مگر اب اس میں خودکش حملوں اور ہائبرڈ وارفیئر کے عناصر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا انسانی حقوق کے نام پر چلنے والی بعض تحریکیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر شدت پسند تنظیموں کے لیے “بیانیاتی تحفظ” فراہم کر رہی ہیں؟ جب بھی کسی مشتبہ سہولت کار، رابطہ کار یا لاجسٹک سپورٹر کی گرفتاری ہوتی ہے تو فوراً اسے “جبری گمشدگی” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف عوامی جذبات کو متاثر کیا جاتا ہے بلکہ ریاستی کارروائیوں کو عالمی سطح پر متنازع بنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق یقیناً اہم ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دہشتگردی کے خلاف کارروائی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے درمیان فرق کو جان بوجھ کر دھندلا نہیں کیا جا رہا؟۔
اگر ماضی اور حال کا تقابل کیا جائے تو فرق واضح دکھائی دیتا ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں بلوچ سیاسی تحریکیں زیادہ تر سیاسی مذاکرات، طلبہ تنظیموں اور علاقائی خودمختاری کے مطالبات تک محدود تھیں۔ حتیٰ کہ 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بھی مزاحمت کی نوعیت زیادہ تر گوریلا حملوں تک محدود رہی۔ لیکن 2020 کے بعد بیانیہ تیزی سے تبدیل ہوا، جہاں سوشل میڈیا پروپیگنڈا، بین الاقوامی لابنگ، اور خواتین کی شمولیت کے ذریعے ایک نیا ماڈل سامنے آیا۔ اس ماڈل میں ریاست کے خلاف ہر کارروائی کو “مزاحمت” اور ہر ریاستی ردعمل کو “جبر” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال صرف بلوچستان تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں شدت پسند تنظیمیں اکثر “آزادی”، “حقوق” اور “مظلومیت” کی زبان استعمال کرتی رہی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP) ہو یا دیگر عسکریت پسند گروہ، اکثر اپنے نظریات کو “انصاف” اور “حق” کے نام پر پیش کرتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ ان کے اندر استحصال، زبردستی بھرتی، اور کمزور افراد کے استعمال کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ یہی تضاد بلوچستان میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں بظاہر حقوق کی بات کی جاتی ہے مگر عملی طور پر تشدد اور خوف کی سیاست کو فروغ ملتا ہے۔
اس پورے معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اصل بلوچ عوام، خصوصاً نوجوان نسل، اس بیانیاتی جنگ کا ایندھن بنتی جا رہی ہے۔ ایک طرف انہیں محرومیوں اور ناانصافیوں کا احساس دلایا جاتا ہے، دوسری طرف شدت پسند راستے کو ”قربانی“ اور ”مزاحمت“ کا نام دے کر رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان، جو معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کر سکتے تھے، تشدد کے راستے پر دھکیل دیے جاتے ہیں۔
ریاست کی ذمہ داری صرف سکیورٹی کارروائیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ بلوچستان میں سیاسی شمولیت، تعلیم، روزگار اور اعتماد سازی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کو انسانی حقوق کے بیانیے کے پیچھے چھپانے کی کوشش ایک خطرناک رجحان ہے۔
آج بلوچستان صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ کا میدان بن چکا ہے۔ جس کا توڑ سیاسی و عسکری قیادت بشمول عوام کا ایک پیچ ہونا ہے۔

مزیدخبریں