ریاض : سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرے اور جلد از جلد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب ایسا کرتا ہے تو یہ ان کے لیے باعثِ فخر ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ قدم مشرق وسطیٰ کے روشن مستقبل کی طرف ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب یہ فیصلہ اپنے وقت پر کر سکتا ہے، مگر وہ امید کرتے ہیں کہ یہ جلد ہوگا۔
انہوں نے غزہ اور لبنان کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے بہت سی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اور غزہ کے عوام کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ ناقابلِ برداشت ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "یہ ڈراؤنا خواب اب ختم ہونا چاہیے۔"
ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ دنیا میں امن چاہتے ہیں اور ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو سخت پابندیاں اور پالیسیاں جاری رہیں گی۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کے دور میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان پہلے ہی اسرائیل سے تعلقات قائم کر چکے ہیں، اور اب امریکہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب بھی اس فہرست میں شامل ہو جائے۔