بھارت۔۔۔پاکستان کا ایک ایسا دشمن ہے جو دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔خاص کر جب سے بھارت میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے بھارت کی مثال ’’ کریلا اور نیم چڑھا ‘‘ والی ہوچکی ہے۔ بی جے پی۔۔۔۔دراصل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا سیاسی بازو ہے۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی بنیاد 1924ء میں رکھی گئی تھی۔ یہ ایک انتہا پسند ہندو جماعت ہے جو جنونی ہندوئوں پر مشتمل ہے۔ جس کا مقصد ہندوستان سے مسلمانوں کا خاتمہ کرنا تھا۔ بی جے پی نے راشٹڑیہ سویم سیوک سنگھ سے جنم لیا ہے یہی وجہ کہ اس جماعت کے انگ انگ میں مسلمان دشمنی کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے۔ نریندر مودی عرف موذی بھی آر ایس ایس کا ممبر رہ چکا ہے۔ لہٰذا اسے بھی پاکستان دشمنی ورثے میں ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے بھارت میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے بھارت اور مقبوضہ جموں کشمیر کی سرزمین مسلمانوں کیلئے تنگ ہوچکی ہے۔ دوسری طرف مودی کی کوشش ہے کہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے۔ پہلگام واقعہ دراصل اسی شیطانی کڑی کی خواہش تھی۔
اب یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ پہلگام واقعہ مودی حکومت کا اپنا ہی تیار کردہ ڈرامہ تھا جسے بنیاد بنا کر مودی حکومت نے پاکستان کے متعدد شہروں پر میزائل حملے کئے جن میں کئی افراد شہید ہوگئے۔ یہ میزائل حملے پاکستان کی آزادی اور خود مختاری پر کھلے حملے تھے۔ان کا جواب دینا پاکستان کیلئے بے حد ضروری تھا۔ پھر پاکستان نے جواب دیا اور ایسا جواب دیا کہ پوری دنیا نے دیکھا۔ پاکستان کی بیدار مغز سیاسی اور عسکری قیادت نے ’’ آپریشن بنیان مرصوص ‘‘ تشکیل دیا۔ اس آپریشن کا نام بہت شاندار ،خوبصورت، ایمان افروز اور ایسا پرہیبت تھا کہ دشمن پر ہیبت طاری ہوگئی۔ آپریشن بنیان مرصوص۔۔۔۔ایک ایسے شیر کی دھاڑ تھی کہ جب وہ دھاڑتا ہے تو کوہ وبیاباں اور جنگل لرز اٹھے ہیں۔
آپریشن بنیان مرصوص محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ یہ تو فرزندان توحید کا اعلانِ عزم تھا جن کی رگوں میں توحید اور جہاد کا لہو دوڑتا ہے۔
جب پاکستان کے طیارے فضائوں میں اڑے تو یوں لگتا تھا جیسے فضا پر ان کا راج ہو۔ یہ وہی فضائیہ تھی جس کی صلاحیت کا مشاہدہ دنیا 1965ء کی جنگ میں کرچکی تھی جس کے شاہینوں نے کبھی سیاچن کی برفانی چوٹیوں پر دشمن کے پرخچے اڑا دیئے تھے۔ نورخان ، رحیم یار خان اور شورکوٹ یہ نام صرف زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ یہ تو ہماری خودمختاری کے وہ قلعے ہیں جن کی فصیلوں پر تاریخ کے ہر دور میں خون کے نشان ثبت ہوئے۔ مگر اس بار بھارت نے جو کچھ کیا وہ کوئی معمولی جارحیت نہ تھی۔ اس نے مساجد کو نشانہ بنایا، بچوں کو شہید کیا اور پھر یہ سمجھا کہ پاکستان خاموش تماشائی بن کر رہ جائے گا۔ مگر وہ بھول گیا کہ یہ ملک شیروں کا مسکن ہے جو اگر زخم کھاتے ہیں تو جواب میں پہاڑ بھی ہلا دیتے ہیں۔
بھارت کی ننگی جارحیت کے جواب میں اذان فجر کے ساتھ ہی آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز ہوا تو گویا قرآن پاک کے اوراق پر لکھی ہوئی وہ آ یات پڑھی جانے لگیں جو ظلم کے خلاف اٹھنے والوں کے لیے نصرت کا وعدہ کرتیں اور مسلمانوں کو سیسہ پلائی دیوار بن جانے کا ایمان افروز سبق دیتی ہیں۔ پاکستان نے بیاس میں براہموس میزائل کے سٹوریج کو نشانہ بنایا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں سے پاکستان کے خلاف زہر اگلے جانے والے ہتھیاروں کو سجایا جاتا تھا۔ جب پاکستانی میزائلوں نے اسے تباہ کیا تو گویا ا س ڈسٹ بنکر کو خاک میں ملا دیا گیا جہاں بھارت اپنے جنونی عزائم چھپاتا تھا۔ ادھم پور، پٹھان کوٹ، گجرات، سورت گڑھ، سرسہ، سری نگر وہ ایئر بیسز تھیں جنہیں بھارت اپنی فضائی برتری کا نشان سمجھتا تھا۔ مگر پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں نے انہیں ایسے تباہ کیا جیسے کوئی باز شکار کو پنجے میں جکڑ لے۔ بھارت کے پاس روسی ساختہ ایس 400 وہ نام نہاد دفاعی نظام تھا جو کم وبیش 1.5 بلین ڈالر کی مالیت کا تھا، وہ دھویں کے بادلوں میں اڑ کر رہ گیا۔ یہی وہ ’’عظیم ہندوستانی طاقت‘‘تھی جس کا رعب مودی سرکار دنیا پر ڈالنا چاہتی تھی۔
لائن آ ف کنٹرول پر جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کے سفید اوراق پر خون سے لکھا جائے گا۔ ربتانوالی پوسٹ، جزیرہ کمپلیکس اور جی ٹاپ وہ مقامات ہیں جہاں بھارتی فوجیوں نے کبھی یہ سمجھا تھا کہ ا ن کے مورچے ناقابلِ تسخیر ہیں۔ مگر پاک فوج کے توپ خانے نے ا نہیں ایسے خاک میں ملایا کہ دشمن کے مورچوں سے داغی جانے والی توپیں بھی ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئیں۔ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے بھارتی پوسٹیں آ گ کے شعلوں میں گم ہوگئیں۔ یہ محض عمارتوں کی تباہی نہیں تھی یہ ا س غرور کا جنازہ تھا جو بھارت اپنی فوج کے سینے پر سجائے پھرتا تھا۔
اور پھر وہ لمحہ آ یا جب پاکستان کے فتح ون میزائلوں نے بھارت کے نام نہاد’’دفاعی شیر‘‘ کے دانت تک توڑ ڈالے۔ سورت گڑھ ایئر فیلڈ کی تباہی کی تصدیق تک بھارتی میڈیا نے کردی۔ مودی کے آ بائی شہر گجرات کی فضا میں پاکستانی طیاروں کی گرج نے ا نہیں یاد دلایا ہوگا کہ جنگ کا میدان کبھی جنونی تقریروں سے نہیں جیتا جاتا۔ جب تکبیر کے نعرے فضائو ں میں گونجے تو یوں لگا جیسے کوئی روحانی طاقت ہمارے جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ وہی جذبہ ہے جو بدر کے میدان میں دکھائی دیا تھا، جو 1965ء کی جنگ میں چھا گیا تھا اور جو آ ج بھی ہمارے سپاہیوں کی رگوں میں پارے کی طرح دوڑتاہے۔
یہ کارروائی محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں تھی۔ یہ ا س نفسیاتی جنگ کا اختتام تھا جو بھارت نے دہائیوں سے ہم پر مسلط کر رکھی تھی۔ جب ا س کا فضائی دفاعی نظام ایس 400 تباہ ہوا اور جب ا س کے ایئر بیس خاکستر ہوئے تو گویا بھارت کے ’’علاقے کا بدمعاش ‘‘ ہونے کے تمام بت ٹوٹ گئے۔ پاکستان نے واضح کردیا کہ ہماری طاقت صرف میزائلوں میں نہیں بلکہ ا س عزم میں ہے جو ہمارے ہر جوان کے دل میں دھڑکتا ہے۔ ہم نے یہ نہیں دکھایا کہ ہم کیا کچھ تباہ کرسکتے ہیں، بلکہ ہم نے بھارت سمیت تمام دنیا یہ د کھااور بتا دیا کہ ہم کس طرح اپنے دفاع پر کوئی آ نچ تک نہیں آ نے دیتے۔
اگرچہ امریکہ نے سیز فائر کرادیا ہے مگر یہ پاکستان کی طاقت کا اعتراف تھا۔ چین کا ساتھ ہو یا اقوامِ متحدہ کی خاموش حمایت ہو دنیا جان چکی ہے کہ پاکستان کسی کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ مگر سب سے بڑا سبق بھارت کو ملنا چاہیے کہ تمہارا ہر حملہ ہماری طاقت کو مزید جِلا بخشتا ہے۔ تم نے ہمارے بچوں کو شہید کیا، ہماری مساجد کو گرایا مگر ہم نے تمہیں وہ جواب دیا جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے درج ہوگیا ہے۔
آخر میں کامیاب آپریشن بنیان مرصوص پر ہم پاکستان کی سیاسی قیادت وزیر اعظم پاکستان جناب میاں شہباز شریف ، سپہ سالار افواج پاکستان جناب جنرل سید حافظ عاصم منیر ، ان کے رفقا اور فوج کے ہر بہادر جوان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ جنھوں نے آپریشن کانام قرآن مجید سے تجویز کیا ، آپریشن کے وقت کا انتخاب سنت رسولؐ کے مطابق نماز فجر کے وقت کیا آپریشن کا آغاز تلاوت کلام پاک اور دعا سے کیا۔تب ہی کامیابی نے ہمارے قدم چومے اور پوری دنیا پر ہماری دھاک بیٹھ گئی جس پر ہم اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں اور اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری سیاسی قیادت بالخصوص سپہ سالار افواج پاکستان جنرل سید حافظ عاصم منیر اور ان کے رفقا کی حفاظت فرمائے۔ اللہ شہدا کی قربانیاں قبول فرمائے اور ملک عزیز پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین۔
قوم کو فتح عظیم مبارک
09:31 AM, 14 May, 2025