معرکہ حق :پاک ا فواج کو پوری قوم کا سلام

09:28 AM, 14 May, 2025

10مئی کی صبح نماز فجر کی اذان کے بعد پاکستانی فضانعرۂ تکبیر سے گونج اٹھی اور پاکستانی فوج نے ’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے تحت بھارت کے 26مختلف مقامات پر موجود فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ وہ فوجی تنصیبات تھیں جہاں سے 6اور 7مئی کی درمیانی شب پاکستان کی شہری آبادی پر حملہ اور نہتے و بے گناہ شہریوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس شب جب بھارت نے رات کی تاریکی میں یہ بزدلانہ کارروائی کی تو پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے جس میں جدید ٹیکنالوجی کے حامل رافیل طیارے بھی شامل تھے جن پر بھارت کو بڑا ناز تھا۔ دنیا کے بہترین لڑاکا طیارے قرار دیئے جانے والے فرانسیسی طیارے رافیل کو لاک کرکے چند لمحوں میں ہی مار گرایا گیا اور بھارت کو اپنی فضائی قوت سیکڑوں کلومیٹر پیچھے ہٹانا پڑی۔ پاکستانی شاہینوں کی کمال مہارت دیکھ کر دنیا عش عش کر اٹھی‘ اس دوران ہم نے موت کے سائے میں زندگی کو رقص کرتے بھی دیکھا۔ بھارتی جارحیت یہیں پر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے اسرائیلی ساختہ ڈرونز کے ذریعے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی جسے پاک فوج نے ناکام بنا دیا اور بھارت کے 84ڈرونز تباہ کر دیئے گئے جن کا ملبہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بکھرا پڑا نظر آیا۔ ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ اس قدر سرعت اور مہارت کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچا کہ بھارت کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا ۔ پاکستانی شاہینوں نے چند گھنٹوں میں نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے عسکری، سفارتی اور تکنیکی توازن کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ایک ایسا عسکری انقلاب تھا جس نے آنے والی دہائیوں اور پوری دنیا میں پاکستان کی صلاحیتوں سے طاقت کے توازن کی نئی سمت طے کردی اور اس کے ساتھ ہی بھارت کا غرور خاک میں مل گیا۔10مئی کو پاکستان کا بھارت کو جواب اس قدر شدید اور غضبناک تھا کہ بھارتی قیادت اور فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ۔ انہوں نے بھانپ لیا کہ ہم اس وقت پاک فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے ڈرونز بھارتی دارالحکومت دہلی تک پہنچ چکے تھے‘ بھارتی قیادت نے مزید ہزیمت سے بچنے 
کیلئے عالمی طاقتوں کے ذریعے پاکستان کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ امریکہ اور چند دیگر ممالک سے رابطہ کیا گیا کہ پاکستان کو کہیںجنگ بند کر دے‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت اور عالمی رابطہ کاری کے ذریعے بھارت اس جنگ کو رکوانے میں کامیاب ہو گیا۔ پاکستان امن کا داعی تھا اور ہے ‘ ویسے بھی اس نے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر لیے تھے چنانچہ دوست ممالک کے کہنے پر جنگ بندی پر راضی ہو گیا۔ 
پاک بھارت حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب 22اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیاجس میں 26 سیاح اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس واقعہ کے فوری بعد بھارتی حکومت اور میڈیا نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا اور بغیر کسی تحقیق و ثبوت کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا یا۔ پاکستان نے ردعمل میں اس واقعہ سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ بھارت نے پاکستان کی اس پیشکش کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا بلکہ الٹا پاکستان کو دھمکیاں دینے لگا کہ اس واقعہ کا بدلہ لیا جائے گا۔ بھارتی میڈیا نے اپنے ملک میں جنگی ماحول بنا دیا اور بھارتی عوام جذبات کی رو میں بہنے لگے۔ پاکستان نے اس تمام صورتحال میں انتہائی تحمل اور صبر کا مظاہرہ کیا اور بارہا بھارت کو باور کرایا کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کرے کیونکہ اگر اس نے جنگ میں پہل کی توپھر اس کا اختتام ہم اپنی مرضی سے کریں گے۔ بھارت اسے محض گیڈر بھبکیاں ہی سمجھتا رہا اور اس نے بین الاقوامی سرحدوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے متعدد شہروں پر حملہ کر دیا۔ ترجمان پاک فوج نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بار ہا بھارت کو یہ پیغام دیا کہ اب ہم اپنی مرضی کے وقت، مقام اور طریقہ کار سے جواب دیں گے۔ جنگوں کی تاریخ میں یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ دشمن کو بتا کر حملہ کیا جائے ‘ ایسا صرف اس وقت ہوتا ہے جب آپ کو اللہ پر کامل اعتماد اور اپنی افواج کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہو۔ پھر پوری دنیا نے دیکھا پاکستان کے شاہینوں نے اس خطہ میں اپنی فضائی برتری ثابت کرتے ہوئے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا ۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کا قیام انتہائی مشکل حالات میں ہوا اور اس نے اپنی پوری تاریخ میں پے در پے سانحات کا سامنا کیا ہے۔ ایک ایسے نوزائیدہ ملک کی مشکلات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس کی سرحد کا تقریباً 3,310 کلومیٹر ایک ایسے ملک کے ساتھ ہو ‘جو اس کے وجود کا ہی دشمن بنا ہوا ہو۔ بھارت نے آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور مسلسل اس کیخلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے‘بھارتی سیاستدان پاکستان کو اپنے ہر طرح کے مسائل کا ذمے دار قرار دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اس نظریے کو حقیقت بنانے کیلئے کبھی ترجیحی پوزیشن پر آگے بڑھتے ہیں اور کبھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں، کبھی الزامات لگاتے ہیں تو کبھی خفیہ تدابیر اور سازشیں کرتے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان نے کبھی بھارت کے ساتھ کشیدگی میں پہل نہیں کی لیکن پاکستان جانتا ہے کہ بھارت مکاری اور چالبازی میں کسی حد تک جاسکتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ گیا بھی ہے۔ ہمیں اب بھی محتاط رہنا ہو گا۔ 
پاکستان نے 22اپریل سے 10 مئی کی صورتحال کو معرکہ حق قراردیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق’’ پاک فوج نے عوام سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا ‘پاکستانی عوام نے بھی پاک فوج کا پورا ساتھ دیا۔آپریشن بنیان مرصوص6اور7 مئی کے درمیان بھارتی حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ بھارت کی جانب سے حملوں میں معصوم شہری ، خواتین اور بچے شہید ہوئے، پاکستان نے شہریوں کا قتل اور انصاف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کا عزم کیا تھا۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا ہم نے بھارت کو جواب دے کر اپنے شہداء کے خون کا حساب لے لیا۔ قوم کے حوصلے اور دعاؤں نے پاک فوج کو ناقابل شکست قوت دی۔مسلح افواج اللہ تعالیٰ کی رحمت اور غیبی نصرت پر شکر گزار ہیں، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ جب ان پر ظلم ہو تو وہ اس کا جواب دیں، ہم سجدہ شکر بجالاتے ہیں کہ میدانِ جنگ میں اپنے عزم کو فیصلہ کن اقدامات میں بدلنے کی توفیق عطا فرمائی۔‘‘معرکہ حق میں کامیابی پر پوری قوم پاک فوج اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کو سلام پیش کرتی ہے۔

مزیدخبریں