جسدِ واحد اور بنیان مرصوص

09:27 AM, 14 May, 2025

جانِ عالم رسولِ کریمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’تمام مومن فردِ واحد کی طرح ہیں، اگر اس کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا سارا جسم دکھتا ہے، اور اگر اس کا سر تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو بھی اس کا سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔‘‘ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ’’مومنوں کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ محبت، رحمت اور شفقت کرنے میں جسم کی طرح ہے، جب اس کا ایک حصہ بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں اس کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے‘‘۔ مسلم امہ کی وحدت کے باب اس مفہوم کی متعدد احادیث ملتی ہیں، جس میں مختلف طرق سے ہمیں مختلف الفاظ اور مثالوں سے سبق دیا گیا ہے۔ بخاری شریف میں یہی حدیث ان الفاظ میں میسر آتی ہے: ’’مومنوں کی مثال تو ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر ایک عضو (حصہ) کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے‘‘۔
اسی ایک سبق کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحدتِ اسلامی کس درجہ اہمیت رکھتا ہے۔ آج ہم اپنی ملت کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو یہ خبر لاتے ہیں کہ ہم بہت کمزور ہیں، ناتواں ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔۔۔ یہ سب باتیں بجا۔۔۔ لیکن کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہماری کمزوری کی اصل وجہ کیا ہے؟ اقوامِ عالم میں پس جانے کی واحد وجہ وحدت کی کمی ہے۔ تعلیم کی نہیں، علم کی کمی ہے۔ تعلیم ہمیں مروجہ تعلیمی اداروں سے ملتا ہے اور علم ہمیں شہرِ علمؐ سے ملے گا۔ شہرِ علم سے تعلم بذریہ تمسک ہے۔۔۔ اور تمسک بذریہ محبت۔ محبت ہی وہ طاہر و مطہر ذریعہ ہے جو فکری اور روحی تعلق عطا کرتی ہے۔ محبت غیر مشروط ہوتی ہے اور یہ غیر مشروط اطاعت کا تقاضا کرتی ہے۔ مومنوں کی شان در قرآن یہ بیان کی گئی ہے: سمعنا و واطعنا۔۔۔ یعنی مومن کہتے ہیں کہ سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ دراصل جو بات نہیں مانتا، وہ ذات نہیں مانتا۔ گویا محبت کی سند اطاعت ہے۔
جب ہمیں بار بار یہ ہدایت کر دی گئی کہ مسلم امت ایک جسدِ واحد کی طرح ہے، کہ اس کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے، تو اس ہدایت کے بعد بھی ہم اپنے اپنے تعصبات میں کیوں گھرے ہوئے ہیں، کہیں لسانی تعصب ہے اور کہیں معاشی اور سیاسی مجبوریاں آڑے آتی ہیں۔ کبھی سقوطِ ڈھاکہ اور سقوطِ غرناطہ۔۔۔ اور سقوطِ بغداد تو کل بھی ہوا اور آج دوباہ اور سہ بارہ ہو چکا ہے۔ دراصل جب کوئی امر کسی ملک پر قبضہ کر لیتا ہے تو اس ملک کو سقوط ہو جاتا ہے۔۔۔ شہریوں کی 
آزادی کا ساقط ہو جانا ہی سقوط ہے۔ بیرونی حملہ آوروں سے شکست پھر وقت طے کرتا ہے۔
الحمد للہ! الف الف الحمد للہ!! گزشتہ دنوں دشمن نے شب خون مارنے کی کوشش کی اور پھر منہ کی کھائی۔ ہمارے شاہینوں نے ان گدھوں کو دبوچ لیا اور ہمیں اقوامِ عالم میں سرخرو کیا۔ دشمن منہ چھپائے پھرتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ہمیں عزت سے نوازا۔ جہاں یہ شکر کا مقام ہے، وہاں غور کا مقام بھی ہے۔ ہم اپنی کمزوریاں جانتے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر ہے، شخصی آزادی سلب ہے۔ آزادیِ اظہارِ رائے جو ایک آزاد قوم کا خاصا ہوتا ہے، مفقود ہے۔ عوام اور فوج کے درمیان فاصلے بڑھ چکے تھے۔ الحمد للہ، ثم الحمد للہ! قوم کے نوجوانوں نے بالغ نظری کا ثبوت دیا اور تمام سیاسی اختلافات بھلا کر راتوں رات ایک صفحے پر آ گئے۔ دشمن کا خیال تھا کہ اس وقت یہ قوم تقسیم ہو چکی ہے، یہ سنہری موقع ہے اس پر کاری ضرب لگانے کا۔ خداوندِ متعال نے کمال مہربانی فرمائی اور دشمن اپنے ہی چال میں پھنس گیا۔ دشمن کے وار نے ہمیں یکجان کر دیا ہے۔ ہماری تاریخ ہہی ہے کہ جب جان کو خطرہ ہوتا ہے تو ہم یکجان ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسا موقع بار بار نہیں ملتا۔ ہمیں اس فتح کو ایک عارضی فتح سمجھنا چاہیے اور دشمن کی شکست کو بھی ایک عارضی شکست جاننا چاہیے۔ اگرچہ ہم نے دشمن کو زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا ہے، لیکن زخمی بھیڑیا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس موذی نے دوبارہ حملہ آور ہونا ہے، ہمیں اس کی تیاری کرنا ہو گی۔ یہ تیاری داخلی اور خارجی دونوں محاذوں  پر ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے شاہینوں پر فخر ہے۔ شاہین قصرِ سلطانی کے گنبد پر نشیمن نہیں بناتا، وہ زمینی رزق پر نگاہ نہیں ڈالتا، وہ اپنا آشیانہ نہیں بناتا ہے، اور بقول اقبالؒ وہ پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرتا ہے۔
ہمیں اپنی فتح پر شادیانے بجانے کی بجانے اسے ایک مہلت تصور کرنا چاہیے۔ اللہ رب العزت نے ہماری عزت رکھی، اس ستار العیوب ذات نے ہماری کمزوریوں پر پردہ ڈالے رکھا۔۔۔ ہمیں اس فتح کو اپنے زورِ بازو کا نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے اللہ مالک الملک کی عطا سمجھنا چاہیے اور اس کے حضور اپنا سر سجدہِ شکر میں جھکا دینا چاہیے۔ ہمیں اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا مداوا کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اپنے دائرے میں رہ کر ملک کی خدمت کرنا ہے۔ یہ ملک کسی فردِ واحد کی ملکیت نہیں، نہ کوئی ایک ادارہ اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔ برکت اتحاد اور اتفاق میں ہے۔ دراصل اتحاد اور اتفاق جہاد کی تیاری کا عمل ہے۔ ہمیں اس قومی اتحاد و اتفاق کو ملی اتفاق کی سطح پر لے کر جانا ہے۔ ہمیں غور کرنا ہے، اور غور کرنے کے بعد اس کا مداوا کرنا ہے کہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں ہم متحد و متفق کیوں نہیں ہیں۔ ہم اپنی اجتماعی ذمہ داری ایک دوسرے پر کیوں ڈال رہے ہیں؟ ان کی مدد کے لیے اٹھنے میں ہمیں ہمارا جغرافیائی اور ملکی مفاد کیوں مانع ہو رہا ہے۔ ہمارے دل ایک دوسرے کے لیے نرم کیوں نہیں پڑ رہے۔ ہمارے دل نرم ہو گئے تو ہماری سرحدیں اپنے کلمہ گو بھائیوں کے لیے نرم ہو جائیں گی۔ ایک مسلم برادر ملک کی افرادی قوت دوسرے کی مالی قوت اور تیسرے کی دفاعی قوت یکجان ہو کر بنیان مرصوص ہو جائیں گی۔ وحدتِ امت ہی بنیان مرصوص ہے۔ کمزور لوگ اکٹھے ہو جائیں تو بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ حج کا موسم بھی آیا چاہتا ہے، ہم اپنے اپنے ملکوں سے جتنے حاجی بھیجتے ہیں، اتنے ہی فوجی بھیج دیں تو غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی نصرت ہو جائے اور ہم بھی جہاد کے فرض سے عہدہ برا ہو جائیں۔
یہ ہمارا کامیاب و کامران آپریشن ’بنیان مرصوص‘ دراصل ملی سطح پر ایک ڈریس ریہرسل ہے۔ اس کا فائدہ اٹھائیں اور ملکی سطح پر سیاسی اتفاق کے قیام پر غور و خوض کریں، اور اسی طرح ملی سطح پر سب کلمہ گو حکومتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی تدبیر کریں۔ ہم ستاون ممالک ہم آواز ہو جائیں تو دنیا ہمارے ضرور سنے گی۔ ہمارے علاوہ باقی ساری دنیا ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں۔ ہم الگ الگ رہے تو ایک ایک کر کے ان کا نوالہ بنتے چلے جائیں گے۔ اے کاش! ہمارے عوام بھی سمجھیں اور ہمارے حکمران بھی! ہمارے حکمران ہماری آواز بنیں گے تو ان کی آواز دنیا کے ایوانوں میں گونجے گی۔ دنیا کو عدل و انصاف سے بھرنے کے لیے ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو عدل آشنا کرنا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنے اپنے دائرہِ فکر و عمل میں مخلص ہو جائیں۔ ہر شخص اور ادارہ اپنے فرائضِ منصبی کو عبادت سمجھ کر ادا کرے۔ اساتذہ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں، افواج جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔۔۔ انہیں کسی قسم کی کوئی اضافی ذمہ داری نہ دی جائے۔۔۔ مقننہ اپنے اراکین کے تنخواہیں بڑھانے کی بجائے عوام کی زندگی آسان کرنے کے لیے قانون سازی کرے، عدلیہ بلاتخصیص خاص و عام بربنائے عدل و انصاف فیصلے دے، انتظامیہ کسی فردِ واحد کی پسند ناپسند کی بجائے صرف اور صرف قانون کے مطابق ملک کا نظم و نسق چلائے۔ ملک بچانے کے لیے جان کی قربانی اپنی جگہ مْسَلّم ہے، لیکن قوم کو عزت و وقار عطا کرنے کے لیے، اور اسے زندگی و پائندگی سے ہمکنار کرنے کے لیے ذاتی خواہشات و اختیارات کی قربانی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

مزیدخبریں