میرِ کارواں

09:26 AM, 14 May, 2025

پہلے رات کے اندھیرے میں ایک بزدلانہ حملہ ہوتا ہے، ستائس قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ رافیل شکار ہو جاتے ہیں۔ 
پھر اگلے روز کہیں ڈرونز منڈلاتے پھر رہے ہیں، کہیں دھماکے سنائی دے رہے ہیں، چہار سو افراتفری کا سماں ہے، سوشل میڈیا پہ جا کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ جیسے بھارتی سینا ہمارے گھروں میں گھْس آئی ہے، عوام میں بے چینی اور گھبراہٹ بڑھ رہی ہے، ہماری افواج آخر انتظار کس بات کا کر رہی ہیں؟ عوام میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے، ہم جواب کیوں نہیں دے رہے؟ یہی جواب ہر شخص ہر دوسرے شخص سے مانگ رہا تھا، پھر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھری دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ ہم جواب اپنے متعین کردہ وقت پہ دیں گے اور جب ہم جواب دیں گے پوری دنیا دیکھے گی۔ ہمارے عوام کچھ حقائق سمجھنے سے قاصر تھے، جیسے کہ یہ ڈرون حملے کے لئے نہیں تھے، ائیر ڈیفنس سسٹم کو دانہ ڈالنے کے لیے ایک شکار تھے، اسرائیل کے بنے HAROP ڈرون کم و بیش سات سے آٹھ فٹ لمبائی رکھتے تھے، ان کا مقصد فقط عوام میں گھبراہٹ پھیلانا تھا ، کچھ معلومات جمع کرنا تھا یا ائیر ڈیفنس سسٹم کو راڈار میں لانا تھا، دشمن کم ظرف ہو تو اوچھے ہتھکنڈے کچھ بعید نہیں، لیکن عوام گھبرائے نہیں، فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے، آن کی آن میں ایک باوردی شخص کے ساتھ بندوق تھامے ڈرون کو نشانہ بناتے جوان کی تصویر پورے پاکستان میں پھیل گئی، اور پھر ڈر اتر گیا، کہیں کوئی منچلا موٹر سائیکل پہ ڈرون لاد کر بھاگ گیا تو کہیں کسی نے اپنی ذاتی بندوق سے مار گرایا،اب دشمن بھونچکا رہ گیا، اس کی چال الٹی پڑ گئی، اس نے ہمیں اپنے جیسا جلد باز اور بیوقوف سمجھ لیا تھا، وہ  شاید ہمارے جرنیل کی جنگی مہارت اور دور اندیشی کو سمجھ ہی نہ پایا، کچھ جذباتی نوجوان رات بھر سوشل میڈیا پر تلملاتے رہے کہ فوج جواب دے اور پھر فوج نے ایسی کاری ضرب لگائی کہ دشمن کی روح فنا کر دی، بزدلوں کی طرح رات کو حملہ کرنے والوں کو بعد از نمازِ فجر ، تکبیر بلند کر کے میزائل داغے گئے، وہ جو رات تلک کراچی لاہور فتح کر کے خوابِ غفلت میں سوئے تھے ان پہ ہمارے جانباز شاہین ملک الموت بن کر ٹوٹ پڑے، آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز ہو چکا تھا، ہمارے جوان سیسہ پلائی دیوار کی مانند ڈٹ گئے، بپھرے شیروں نے دشمن کے بریگیڈ تباہ کیے، گھر میں گھس کر مارا، جوانوں کا جذبہ دیدنی تھا، کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پہ آئیں ، کہیں کوئی جوان اپنی ماں کو آخری پیغام دے رہا تھا کہ اگر شہید ہو جاؤں تو سر اٹھا کر دنیا کو بتانا شہید کی ماں ہوں پرچم میں لپٹی میت آئی تو گلے لگانا، یہ وڈیوز جنم دینے والی ماں سمیت ہر ماں کا لہو گرما گئیں، ہر ہر ماں نے مصلے بچھائے، حیدری کی سدائیں بلند ہوئیں، توپوں کی گھن گرج سے آسمان لرز گیا، پھر جب ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد ، اور ایڈمرل راجہ رب نواز  نے پریس کانفرنس کی تو عوام کے دل گلزار ہو گئے، بہادر عوام کا جذبہ دیدنی تھا، کوئی توپ کے پاس اکڑوں بیٹھ کر نظارہ دیکھ رہے ہیں تو کوئی راہ گزرتے فوجیوں کو ٹھنڈے شربت پلا رہے ہیں، جب ہمارے جوان سلامت لوٹ کر آئے تو لوگوں نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے، ان کی راہ میں پھول نچھاور کیے، ٹینکوں پر چڑھ چڑھ کر گل پاشی کی، سر سے پیروں تلک جوانوں کو گلاب کی پتیوں سے نہلا ڈالا، علاقے کے بزرگ آگے بڑھ کر رعشہ زدہ ہاتھوں سے باوردی جوانوں کو سلیوٹ مارتے نظر آئے، تو کہیں خوشیاں مناتے نوجوانوں کی بیچ سر پہ چادر اوڑھے ایک خاتون ٹینک پر پھول نچھاور کرتی نظر آئیں۔ گلیوں کوچوں بازاروں میں آئی ایس پی آر کا ریلیز کردہ ’’میرا عشق پاکستان‘‘ اور ’’دشمنا سْن‘‘ گونجنے لگا۔ پوری قوم کا جذبہ دیدنی تھا، کئی ویڈیوز نے میری پلکیں نم کر دیں، تو میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں ہر جوان جو وردی سینے پہ سجا کر نکلتا ہے اس کا سوا سیر لہو بڑھا دیا ہے عوام کی محبت نے۔۔۔ شکریہ پاکستان، خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں اس ملک کے ایک ایک نوجوان جو سوشل میڈیا پہ دشمن کی گیدڑ بھبکیوں کا جواب دیتے رہے، سرخ سلام ہے ایک ایک ماں کو جس نے ربِ اکبر سے ہمارے افواج کی سرخ روئی کی دعائیں کیں، میرا سلیوٹ ہے آئی ایس پی آر کو جنہوں نے انفارمیشن وار کا جوانمردی سے مقابلہ کیا، خراجِ عقیدت ہے ہمارے مسیح بھائی کامران بشیر کی بہادری کو، میں دست  بستہ ممنون و مشکور ہوں ہمارے شہدا کے ورثا کی، کہ آپ نے اس گلشن کی آبیاری اپنے پیاروں کے لہو سے کی ۔
خالقِ کائنات سے دعا گو ہوں کہ ہمارے سپاہی سے لے کر جرنیل تک، قوم کے ایک ایک بچے سے لے کر بزرگ تک سب کو تمام جنوں، انسانوں ، شیطانوں اور نظرِ بد سے محفوظ رکھے، میرے ملکِ پاکستان نے اتنے سال بعد جو اتنی متحد خوشیاں دیکھیں ہمیں وہ تا ابد نصیب فرما اور شکریہ چین آپ جیسا دوست ہو تو انسان لاکھوں کی فوج پر بھاری پڑ جایا کرتا ہے۔ اب آتے ہیں اس سارے کھیل کے مرکزی کردار ہمارے نڈر منصوبہ ساز اور دور اندیش ’’میرِ کارواں‘‘ کی جانب۔۔ بھارتی میڈیا نے چیف کو طنزیہ انداز سے ‘‘ملاں منیر’’ کا لقب دیا۔ ایک بار چیف کو تقریر کرتے سنا تو بخدا مرحوم جرنیل مشرف بے طرح یاد آئے، وہی بے دھڑک بے خوف انداز وہی جارحانہ لب و لہجہ، وہی استقامت۔۔۔۔ ہمارے چیف نے اپنی سربراہی میں افواج کی جو بھرپور پروفیشنل تربیت کی اس کی آج پوری دنیا بشمول مغرب گواہیاں دے رہا ہے۔ چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد لائن آف کنٹرول کا دورہ اس مردِ مجاہد کے جذبات عیاں کر رہا تھا، بس نہیں سمجھ پایا تو ہمارا کم عقل ہمسایہ نہیں سمجھ پایا، ظاہر ہے جس کی زندگی گلی کوچوں میں چائے بیچتے گزری ہو اس کی سمجھ دانی اتنی ہی چھوٹی ہو گی کہ بڑا عہدہ ملنے پہ اوقات سے باہر ہو جائے۔
 چیف ایک عزم کے ساتھ آئے تھے کہ ہماری افواج کی جرأت و بہادری کو پیشہ ورانہ مہارت میں لپیٹ کر ایک ایسی سیسہ پلائی دیوار بنا چھوڑیں کہ رہتی دنیا رشک کرے اور اس بات کی گواہی دی گارجین اخبار بھی دے چکا ہے۔ کمینے دْشمن کے گھناؤنے ہتھکنڈوں کو جس خندہ پیشانی سے جھیلا وہ قابلِ ستائش ہے 
نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پر سوز 
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے…
پاکستان زندہ باد! 

مزیدخبریں