لاہور:پاکستان کرکٹ میں جاری بحران اور ورلڈ کپ کی مایوس کن کارکردگی پر سلیکشن کمیٹی نے بالآخر خاموشی توڑ دی ہے۔ عاقب جاوید اور سرفراز احمد نے جہاں ٹیم کی ناکامیوں کا پوسٹ مارٹم کیا، وہی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکٹرز کو مستقبل کے لیے "کھلی چھوٹ" دے دی ہے۔
قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے نتائج قوم کی امیدوں کے برعکس رہے۔ عاقب جاوید کے مطابق ٹیم میں اتنی صلاحیت تھی کہ وہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرتی، مگر میدان میں نتائج نہیں مل سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پلینگ الیون کی تشکیل میں سلیکٹرز کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، حتمی ٹیم کا فیصلہ صرف کپتان اور ہیڈ کوچ کرتے ہیں۔
اب قومی ٹیم کا راستہ 'نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ' سے ہو کر گزرے گا، جہاں سلیکٹرز ہر کھلاڑی کی کارکردگی کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔
سابق کپتان سرفراز احمد نے کھلاڑیوں کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں شمولیت یا اخراج کے لیے کسی ایک پرفارمنس کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے لیے مناسب مواقع دیے جائیں گے۔
دوسری جانب، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی سے خصوصی ملاقات کی اور انہیں مکمل فری ہینڈ دینے کا اعلان کیا۔ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ سلیکشن کے عمل میں کسی کا دباؤ قبول نہ کیا جائے۔ صرف میرٹ اور فٹنس پر توجہ دی جائے۔ ٹیم کی تشکیل میں لانگ ٹرم پلاننگ کو ترجیح دی جائے۔
سلیکشن کمیٹی کو ملنے والے اس نئے اختیار اور عاقب جاوید کے دو ٹوک موقف کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنے والی سیریز میں پاکستان ٹیم میں کتنی بڑی تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔
"ورلڈ کپ میں ناکامی ہماری توقعات سے بڑھ کر تھی":پی سی بی سلیکشن کمیٹی کا اعترافِ شکست
12:19 PM, 14 Mar, 2026