کمان دار 

07:41 PM, 14 Mar, 2025

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی معاشی ترقی امن و امان اور سیاسی استحکام سے وابستہ ہے۔ ان اہم مقاصد کے حصول کے لیے ہمیں کچھ سخت فیصلے لینا ہوں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ شاخِ امید آنے والے دور میں ضرور ثمر بار ہو گی اور خود ہمارے حالات سخت فیصلوں کا جواب دیں گے۔ ہمیں ملک کے لیے حکمت آفرین رویہ اختیار کرنا ہو گا اور ہر شعبے میں ایک مخصوص بصیرت کی روشنی میں اپنا سفر جاری رکھنا ہو گا جو روشن مستقبل کی ضامن ہو۔ ساتھ ہی تاریخ کے اس حساس اور اہم موڑ پر سستی جذباتیت کو ہرانا ہو گا۔ بلا شبہ حالات پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ان میں امید کی کرن بھی پائی جاتی ہے اور ماضی کے تاریک سائے بھی۔ مجموعی طور پر اس صورت حال میں پاکستانی آرمی چیف کا کردار اور اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ ملکی مفادات اور اس کی سالمیت کے لیے ٹھوس اور بے باک نظریات اور مضبوط پالیسی بے حد اہم ہے۔ پاکستانی آرمی چیف نے امن امان کے حوالے سے جو دو ٹوک رویہ اختیار کیا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ حیرت انگیز طور پر انھوں نے ایک فیصلہ کن رائے قائم کی اور بر ملا اس کا اظہار کیا۔ انھوں نے مملکت خداداد میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کو "خوارج" قرار دیا۔ یہ ان کی سوچ اور پالیسی کا غمازی کرتا ہے۔ ہم گڈ اور بیڈ کی پیچیدگیوں سے اب جھانسا نہیں کھا سکتے۔ تعارف کی ان بھول بھلیوں میں نہیں رگیدے جا سکتے۔ یہ بات واضح ہے کہ جو بھی ہمارے ملک کی سالمیت اور اسکے امن و امان کے خلاف کھڑا ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔ اس موقف کی تائید پورے ملک کے عوام کو کرنا ہو گی۔ یہ وقت اپنے اداروں کے خلاف تنقیص کرنے کا نہیں ہے۔ ہمارے ادارے ہماری حمایت اور ہمارے ہی تعاون سے زیادہ بہتر کام انجام دے سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ جہاں کہیں بہتری کی گنجائش ہمیں محسوس ہوتی ہے اس کے لیے کوشش بھی بہتر اور مناسب انداز میں کرنا ہو گی۔ کسی بھی جہت میں بہتری کی گنجائش تلاش کرنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم محاذ آرائی پر اتر آئیں اور ایک جنگ و جدل کی کیفیت پیدا کر دیں۔ ایسے محاذوں پر ترتیب دیا گیا پروپیگنڈا ہمارے مسائل کا حل نہیں نکال سکتا۔ یہ بات تعجب انگیز ہے کہ ہمارے تنقیص کرنے والوں اور ناقدین کی ایجاد محض ایک پروپیگنڈا رہ گئی ہے جو لوگوں کو مشتعل کرنے کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں۔ اپنے اداروں کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی ترقی کی امید میں جنرل عاصم منیر کی انتظامی بصیرت بھی شامل ہے اور ہمیں اس پر پورا بھروسہ رکھنا ہو گا۔ 
جنرل سید عاصم منیر نے 29 نومبر 2022 کو پاکستان کے 17ویں چیف آف آرمی سٹاف کا منصب سنبھالا۔ اپنی تقرری کے بعد سے انھوں نے ملکی سلامتی، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کی بہتری کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں. جنرل عاصم منیر نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں پر زور دیا۔ جنوری 2025 میں، انھوں نے خیبرپختونخوا کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی حمایت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انھوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے جنرل عاصم منیر نے دوست ممالک سے تعلقات مضبوط کیے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین اور قطر سمیت کئی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے انھوں نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی۔ ان اقدامات سے ملکی معیشت میں استحکام اور ترقی کی امید پیدا ہوئی۔ 
آرمی چیف کی ہدایت پر پاک فوج نے ملکی اداروں کے ساتھ مل کر غیر قانونی سرگرمیوں، جیسے سمگلنگ اور منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشنز کیے۔ ان کارروائیوں سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف مو¿ثر کارروائی ممکن ہوئی۔
 جنرل عاصم منیر نے مختلف ممالک کے دورے بھی کیے اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کی۔ انھوں نے برطانیہ-پاکستان ریجنل اسٹیبلائزیشن کانفرنس میں شرکت کی اور ہارس گارڈز پریڈ میں ان کا خیرمقدم کیا گیا۔ اس کے علاوہ، انھوں نے بنگلہ دیش کی مسلح افواج کے پرنسپل سٹاف افسر سے ملاقات کی، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی تاکہ عوام کمائیں اور ملک ترقی کرے۔ انھوں نے کہا کہ صرف پاکستانی ہی پاکستان کو معاشی استحکام دلا سکتے ہیں اور ملک کا مستقبل روشن اور مستحکم ہے۔ 
ایسے بہت سے اہم اقدامات کے ذریعے جنرل عاصم منیر نے ملکی سلامتی، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اور اس کردار کا سب سے پہلا قدم بھروسے کا ہے جس کی بدولت لوگ اپنے کمان دار کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔ ہمارے ملک کو اس وقت پروپیگنڈے، انتشار اور منافرت کی نہیں امن و امان، بھائی چارے اور تعاون کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود ملکی مفاد میں مثبت رویوں کو فروغ دینا ہوگا وگرنہ غور کیجیے کہ ہم کس گروہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟؟؟۔

مزیدخبریں