چل ہٹا سامنے آنکھوں سے سُلگتا منظر 

07:40 PM, 14 Mar, 2025

مجھے پاکستان سے محبت ہے ¾ اس کے پھول اورکانٹے سب میرے ہیں لیکن جب صرف کانٹے ہی میرے طبقے کے حصے میں آتے ہیں تو میں سوچنے پر ضرور مجبو ر ہو جاتا ہوں کہ آخر یہ ” تقسیم کار“ کون ہے جو ہمیشہ تقسیم کرتے ہوئے ہمارے مقدر میں کانٹے ہی لکھ دیتا ہے ؟ کیا اس کے پھولوں پر عام پاکستانی کا کوئی حق کیوں نہیں ؟ ریاست چلانے کا بہترین طریقہ جو مجھے آج تک سمجھ آیا وہ یہی ہے کہ دولت یعنی وسائل تقسیم کیے جائیں اور انسان جمع لیکن ہمارا دکھ یہ ہے کہ 47ءکی جغرافیائی تقسیم کے بعد ہماری اشرافیہ نے دولت جمع اورانسان تقسیم کرنا شروع کردیئے اور پہ در پہ تقسیم نے ہمیں اتنا تقسیم کردیا ہے کہ اب مزید تقسیم کی گنجائش بھی ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ معاشی مسائل تو جیسے تیسے مقروض ہو کر یا خود کشی کر کے حل کر لیے جاتے ہیں لیکن اُن جذباتی صدمات کا کیا کریں جو جلتے ہوئے مناظر کی شکل میں روزانہ کی بنیاد پر ہمارے سامنے رقصاں ہوتے ہیں ۔یہ مناظر ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے دیکھے ¾ اب ہم دیکھ رہے ہیں اورہمارے بچے انہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے جوان ہو رہے ہیں ۔ یہ کیسا” آفاتی پہاڑی “ سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔امریکہ کو مطلوب دہشتگرد ہم گھنٹو ں میں پکڑا کر اس کے حوالے کردیتے ہیں وہ شریف اللہ ہو یا پھرایمل کانسی ۔طالبان سے تمام تر نظریاتی اختلاف کے باوجود جب افغان سفیر ملاں ضعیف کو امریکہ کے حوالے کیا گیا توہماری ”ریاستی اخلاقیات“ بھی دنیا کے سامنے کھل کر آ گئی ۔ ہم امریکی دہشتگرد چھپا ہی نہیں سکتے اوراگر چھپانے کی کوشش بھی کریں تو وہ رات کی تاریکی میں آ کر ہمیں بتائے بغیر لے جاتے ہیں اور اُس کی بیویاں اور لاتعداد بچے بطور ثبوت ہمیں دے جاتے ہیں ۔ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے منگل کی دوپہر کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملے اور سیکڑوں مسافروں کو یرغمال بنانے اور انہیں شہید کرنے کے سانحے نے ایک بار پھر روح کی روح کو زخمی کردیا ہے۔ حامد میر ہمیشہ بلوچ مسنگ پرسن کا ماتم کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن اس موقع پر اس کی خاموشی ہر گز ناقابل فہم نہیں ۔ماہ رنگ بلوچ کو آج بے گناہ شہریوں کے قتل عام پر انسانوں کے بنیادی حقوق کی کوئی قرارداد نظر نہیں آئی ۔ جعفر ایکسپریس پر حملے کے فوری بعد بھارتی میڈیا اور پاکستان کے سوشل میڈیا کے بدنام صحافی اور اُن کے پیج حرکت میں آ گئے جیسے یہ لوگ پاکستان میں نہیں بھارت یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں پہلے سے تیاری کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ 
ایک لمحے کیلئے تصور کریں کہ ہم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ریل میں سفر کررہے ہیں اور ایک پہاڑی درے میں جہاں دور دور تک کوئی مددگار نہیں ٹرین پرراکٹ لانچر اور کلاشنکوفوں کی اندھا دھند فائرنگ شروع ہوجائے ماں باپ بچوں پر لیٹ کر اپنے وجود گولیوں کیلئے پیش کر دیں ۔ ہر طرف چیخ و پکار ¾ شور ¾ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اورزخمیوں کی چیخ و پکار ہو تو ہم پر کیا گزرے گی ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ہمارے سامنے ہی زندہ انسانوں کو لے جا کر گولیوں سے بھون دیا جائے ۔ انسان اس قیامت سے بچ بھی جائے تو عمر بھر اس صدمے سے باہر نہیں آ سکتا۔ 1948 ءسے شروع ہونے والے اس مسئلے پر دہائیاں گزر گئیں ¾ پاکستان دو لخت ہو گیا لیکن بلوچستان کا مسئلہ ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اس میں سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ وہ تحریک جسے کبھی سرداروں کی تحریک سمجھا جاتا تھا اب آہستہ آہستہ عام بلوچی عوام میں اترتی چلی آ رہی ہے ۔ جعفرایکسپریس میں بچ جانے والوں نے بتایا کہ حملہ آور سیکڑوں کی تعداد میں تھے لیکن غلط بیانیے کے ساتھ ہزاروں بھی کھڑے ہوں تو فرق نہیں پڑتا کہ یہ طریقہ کار انتہائی بھونڈا اور بے رحم ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں سے لے کو عام شہریوں تک کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔ یقینا ایسی دہشتگردانہ کارروائیوں کا مقصد عالمی توجہ اور مقامی حمایت حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ ہم جسے دہشگردی کہتے ہیں بلوچ اپنے بچوں کو اُسے آزادی کی جنگ کہہ کر تیار کر رہے ہیں اور ہمیں اس سے منہ نہیں موڑنا چاہیے ۔ ایسے سانحات کے رونما ہونے کے بعد جب دفاعی اداروں کا فوری موقف سامنے نہیں آتا تو دہشتگردوں اور اُن کے حمایتیوں کو افواہیں پھیلانے کیلئے ساز گار ماحول میسر آ جاتا ہے جیسا کہ سانحہ جعفرایکسپریس میں دیکھنے کو ملا ۔صرف 2025ءمیں ہونے والے دلخراش واقعات پر لکھنا شروع کریں تو اس کیلئے کئی کالم درکار ہوں گے۔ بلوچ لبریشن آرمی کا یہ دوسرا جنم ہے اس سے پہلے 70 ءکی دہائی میں بھی یہ نام سامنے آیا تھا لیکن اُس وقت یہ بلوچ سرداروں سے جڑا تھا آج بدقسمتی سے اس کا دائرہ پھیل کر وسیع ہو چکا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملنے والی خوفناک ویڈیوز جو انگریزی زبان میں ہوتی ہیں اُس میں چین اور پاکستان کو کھلے عام للکارا جاتا ہے اور بلوچستان کے وسائل سے دور رہنے کا پیغام دیا جاتا ہے ۔ ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ بلوچستان سیاسی مسئلہ ہے یا فوجی ! اُس کے بعد ہی اس کا مثبت اور دیر پا حل نکالا جا سکتا ہے ورنہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں سلگنے والی آگ پھیلتی ہوئی نہ جانے کس کس گھر کو جلا کر خاک کردے گی ۔ ہمیں دہشت گردوں کو یہیں روکنا ہو گا ۔ اب بہت ہو چکی یہ مناظر دیکھنے کی مزید تاب اب دل نا تواں میں نہ ہے ۔ پاکستانی اپنی فوج کے ساتھ ہیں ¾ ہم قربانیوں کے اس عظیم سلسلے کے وارث ہیں مگروہ عابد حسین عابد نے کہا تھا :
چل ہٹا سامنے آنکھوں سے سُلگتا منظر 
چھوڑ اب اور تماشا نہیں دیکھا جاتا 
وزیر اعظم پاکستان جعفر ایکسپریس سانحہ کے بعد بلوچستان جا رہے ہیں ممکن ہے کہ میری اس تحریر کی اشاعت تک وہ واپس بھی آ چکے ہوں لیکن ایک بات کہے بغیر گزارہ ممکن نہیں ۔ میں روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا آبزرو کرتا ہوں ۔ جس طرح افواج ِ پاکستان بے رحم قاتلوں کے تعاقب میں کسی قربانی سے دریعے نہیں کر رہی اسی طرح پاکستان کے سیاستدانوں کو بھی اس آپریشن کا حصہ بننے ہو گا ۔یقینا انہوں نے بارڈر پر جا کر جان قربان نہیں کرنی لیکن سوشل میڈیا پر اور اپنے سیاسی ورکرو ں کوتو افواج پاکستان کا بھر پور ساتھ دینے کا پیغام تو دے سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کے بقا کی جنگ ہے اور اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا ۔

مزیدخبریں