ہندوتوا جنون اور معاشی تباہی کا گٹھ جوڑ: مودی حکومت میں بھارت دیوالیہ پن اور اقلیتیں بدحالی کا شکار، عالمی میڈیا کے ہولناک انکشافات

12:47 PM, 14 Jun, 2026

نئی دہلی :بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انتہا پسندانہ ہندوتوا نظریات اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو یرغمال بنا کر اقتدار پر قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی معیشت وینٹی لیٹر پر آچکی ہے جبکہ عوام اور اقلیتیں بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں نے بھارتی معیشت کا دھڑن تختہ کر دیا ہے۔ بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین سطح پر گر چکا ہے، ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے اور نجی سرمایہ کاری مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ عالمی تنازعات کی وجہ سے بیرون ملک سے آنے والے سرمائے (ترسیلاتِ زر) میں شدید کمی آئی ہے جس نے بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ملکی خزانے کے اربوں روپے مودی کی ذاتی تشہیر اور انہیں "عظیم لیڈر" ثابت کرنے پر اڑائے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے کرسی بچانے کے لیے الیکشن کمیشن سمیت تمام خودمختار ریاستی اداروں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ مودی اور شاہ کے اقتدار کو طول دینے میں پریس پر بدترین سنسرشپ اور حکومت نواز "گودی میڈیا" نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے، جو دن رات حکومت کے جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کر رہا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق بھارت اب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں بلکہ چند مخصوص امیروں اور بااثر شخصیات کا نظام بن چکا ہے۔ مودی حکومت چند سرمایہ داروں کو نواز رہی ہے اور وہ بدلے میں مودی کو اقتدار میں رکھنے کے لیے فنڈنگ فراہم کر رہے ہیں۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق مودی اور امت شاہ کا اصل ہدف بھارت کو کٹر ہندو ریاست بنانا ہے جہاں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا کر ان کے حقوق سلب کیے جا سکیں۔ مودی نے ہندو ووٹ بینک کو پکا کرنے کے لیے اکثریتی آبادی میں یہ جھوٹا خوف پھیلا دیا ہے کہ "اگر مودی نہ رہا تو مسلمان تم پر قابض ہو جائیں گے"۔ سیاسی بقا اور ہندوتوا سوچ کو مسلط کرنے کے لیے مودی اور امت شاہ مسلم اقلیت کی جان و مال کے درپے ہو چکے ہیں۔

مزیدخبریں