اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک میں مائیکرو اکنامک (معاشی) استحکام پوری طرح بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اب ٹیکس چوری کرنے والوں اور نان فائلرز کا بوجھ ملکی نظام اور ایماندار ٹیکس دہندگان پر نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ موجودہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے ایوان کو مطلع کیا کہ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ جیسے کلیدی اداروں سے سفارشی کلچر اور رشوت ستانی کا جڑ سے خاتمہ کر دیا ہے۔ اسی سخت مانیٹرنگ اور شفافیت کا نتیجہ ہے کہ حکومت نے صرف شوگر انڈسٹری کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 60 ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرایا ہے۔
عطا تارڑ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا "ہماری قیادت نے ہمیشہ اپنی سیاست کو داؤ پر لگا کر ریاست کو بچانے کو ترجیح دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی معاشی اور سیاسی خدمات تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی جنہوں نے ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکالا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور استحکام کی راہ پر گامزن کرنے میں فیلڈ مارشل اور دیگر تمام قومی و دفاعی اداروں نے بھی ایک کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔
اپوزیشن کو جواب دیتے ہوئے عطا تارڑ نے دونوں حکومتوں کے دور کا کڑا موازنہ پیش کیا۔ان کاکہنا تھاکہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں مہنگائی 38 فیصد کی ہوشربا سطح پر تھی، جسے موجودہ حکومت کی بہترین حکمتِ عملی کی بدولت سنگل ڈیجٹ (ایک ہندسے) میں لایا جا چکا ہے۔ جب پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا تو ملکی جی ڈی پی منفی (Negative) ہو چکی تھی، جبکہ موجودہ حکومت کی انتھک محنت کے نتیجے میں اب ملکی جی ڈی پی 3 فیصد پر آچکی ہے اور معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے۔
وزیر اطلاعات نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ معاشی استحکام کے یہ مثبت اثرات بہت جلد نچلی سطح تک عام عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کی صورت میں نظر آئیں گے۔
ملک میں مائیکرو اکنامک استحکام آچکا، اب ایماندار ٹیکس دہندہ نان فائلر کا بوجھ نہیں اٹھائے گا: عطا تارڑ
01:08 PM, 14 Jun, 2026