شہدائے ماڈل ٹاﺅن اورادھورا سفر انصاف

09:14 AM, 14 Jun, 2026

انصاف محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ مہذب معاشروں کے وجود کی بنیادی ضمانت ہے۔ یہ وہ عظیم قدر ہے جس پر ریاستوں کی ساکھ، اداروں کی عزت اور شہریوں کا اعتماد قائم ہوتا ہے۔ جب انصاف زندہ ہو تو قانون کمزور اور طاقتور کے درمیان تفریق نہیں کرتا، لیکن جب انصاف کمزور پڑ جائے تو معاشرے میں بداعتمادی، محرومی اور انتشار جنم لیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کا عروج عدل کے ساتھ وابستہ اور زوال ناانصافی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
اسلام نے انصاف کو انسانی زندگی کے ہر شعبے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ حضور نبی اکرم نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہوئے ”میثاقِ مدینہ“ کے ذریعے مختلف مذاہب اور قبائل کو مساوی انصاف کی ضمانت فراہم کی۔ قرآن مجید نے عدل کو تقویٰ کے قریب ترین عمل قرار دیا جبکہ حضور نبی اکرم نے واضح فرمایا کہ سابقہ اقوام کی تباہی کا سبب یہ تھا کہ وہ طاقتوروں کو قانون سے بالاتر سمجھتی تھیں اور کمزوروں پر قانون کا سخت اطلاق کرتی تھیں۔
افسوس کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں انصاف کے یکساں اطلاق کا خواب مکمل طور پر شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ طاقت اور اثرورسوخ قانون کی سمت متعین کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ عام آدمی برسوں عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود انصاف کا منتظر رہتا ہے۔ یہی صورتحال ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔
17 جون 2026ءکو سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکی بارہویں برسی منائی جا رہی ہے۔ بارہ سال قبل 17 جون 2014ءکو لاہور کے پوش علاقے ماڈل ٹاﺅن میں منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان پر پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں دو خواتین سمیت 14 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا اور انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور ریاستی طاقت کے استعمال سے متعلق سنگین سوالات چھوڑ گیا۔
اس سانحہ کے بعد بھی متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں کو فوری اور غیر جانبدارانہ انصاف میسر نہ آ سکا۔ ابتدائی طور پر ایف آئی آر کے اندراج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور بعد ازاں عدالتی مداخلت کے بعد مقدمہ درج ہوا۔ تاہم شہدائے ماڈل ٹاﺅن کے ورثاءآج بھی اس بنیادی سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہونے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ اب تک عدالت میں پیش کیوں نہیں ہو سکی؟
یہ امر تشویشناک ہے کہ تمام فریقین کے بیانات قلمبند ہونے کے باوجود جے آئی ٹی رپورٹ قانونی پیچیدگیوں اور عدالتی سٹے آرڈر کی وجہ سے منظرعام پر نہیں آ سکی۔ اگر یہ رپورٹ متعلقہ عدالت میں پیش ہو جائے تو فیئر ٹرائل کے آئینی اور قانونی تقاضے پورے ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں بعض حلقوں کی جانب سے ایسے تبصرے بھی سامنے آئے جن میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے گمراہ کن اور غیر ذمہ دارانہ قیاس آرائیاں کی گئیں۔ تاہم جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں ایسا کوئی نتیجہ موجود نہیں جو یہ ثابت کرتا ہو کہ منہاج القرآن کے کارکنان نے مسلح مزاحمت کی یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ یہ کمیشن خود ا±س وقت کی حکومت کی سفارش پر قائم کیا گیا تھا اور اس کی رپورٹ آج بھی بہت سے اہم سوالات کے جوابات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کا مﺅقف گزشتہ بارہ برسوں سے ایک ہی ہے: عدالتیں جو بھی فیصلہ کریں گی، اسے قبول کیا جائے گا، لیکن فیصلہ حقائق، شواہد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ متعلقہ عدالت میں پیش کی جائے تاکہ مقدمہ اپنی منطقی اور قانونی منزل تک پہنچ سکے۔
شہدائے ماڈل ٹاﺅن کے ورثاء، زخمیوں اور کارکنان نے گزشتہ بارہ برسوں کے دوران آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک قانونی جدوجہد کا سلسلہ ایک دن کے لیے بھی منقطع نہیں ہوا۔ یہ جدوجہد کسی انتقام کے لیے نہیں بلکہ انصاف کے حصول کے لیے ہے، کیونکہ انصاف صرف متاثرین کا حق نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری اور معاشرے کی ضرورت بھی ہے۔سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے بارہ برس مکمل ہونے پر سب سے بڑا سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا انصاف اتنا کمزور ہو سکتا ہے کہ بارہ سال گزر جائیں اور متاثرین اب بھی اس کے منتظر ہوں؟ اگر انصاف میں تاخیر معمول بن جائے تو یہ صرف ایک مقدمے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ عدل پر ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ انصاف کی بروقت فراہمی ہی ریاستوں کو مضبوط، اداروں کو معتبر اور قوموں کو متحد بناتی ہے۔ یہی سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا سب سے بڑا سبق اور آج کا سب سے اہم تقاضا ہے۔

مزیدخبریں