کہا جاتا ہے کہ اگر کسی قوم کا تہذیبی معیار جاننا ہو تو اس کی سڑکوں پر نظر ڈال لیجیے۔ وہاں ٹریفک کی روانی، قانون کی پاسداری، شہریوں کا رویہ اور نظم و ضبط خود بخود بتا دیتا ہے کہ معاشرہ کس سمت جا رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سڑکیں صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ شہری شعور، ریاستی نظم اور اجتماعی ذمہ داری کی عکاس بھی ہوتی ہیں۔پاکستان میں بدقسمتی سے ٹریفک کا مسئلہ اب محض ایک انتظامی چیلنج نہیں رہا بلکہ ایک سماجی، ثقافتی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ روزانہ سینکڑوں حادثات، قیمتی جانوں کا ضیاع، زخمی ہونے والے افراد، ٹریفک جام میں ضائع ہونے والے گھنٹے اور اربوں روپے کا معاشی نقصان اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ حکومتوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف ادوار میں بھاری جرمانے عائد کیے، قوانین سخت بنائے، ای چالان کا نظام متعارف کرایا اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی کوشش کی۔ سیف سٹی جیسے منصوبے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر جرمانے ہی مسئلے کا حل ہوتے تو آج بھی ٹریفک حادثات میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟۔
اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ پنجاب بھر میں روزانہ بارہ سے تیرہ سو کے قریب ٹریفک حادثات رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ لاہور میں اوسطاً تین سو کے لگ بھگ حادثات روزانہ ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ٹریفک پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں اور اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر خرابی کہاں ہے؟۔ ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے ساو¿تھ ایشین کالمسٹ کونسل (ساک) کے سولہ رکنی وفد نے چیف ٹریفک آفیسر لاہور عبدالرحیم شیرازی سے ملاقات کی۔ اشرف سہیل، ضمیر آفاقی اور شیر علی خالطی کی قیادت میں ہونے والی اس ملاقات میں سی ٹی او لاہور نے انتہائی جامع اور اعداد و شمار پر مبنی پریزنٹیشن دی۔
عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ لاہور کی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ شہر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد اسی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہر سال تقریباً تین لاکھ نئی گاڑیاں سڑکوں پر آ جاتی ہیں۔ دوسری جانب لاہور کی سڑکوں کی مجموعی لمبائی تقریباً پندرہ سو کلومیٹر ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ہر ساڑھے تین ہزار گاڑیوں کے لیے صرف ایک ٹریفک اہلکار دستیاب ہے۔ یہ اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ ٹریفک پولیس کو کن مشکلات کا سامنا ہے۔ عبدالرحیم شیرازی ایک متحرک، باصلاحیت اور پیشہ ور افسر ہیں۔ وہ مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں بھی کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور کے شہریوں کی توقعات بھی ان سے وابستہ ہیں۔ تاہم گفتگو کے دوران کچھ ایسے پہلو بھی سامنے آئے جن پر مزید توجہ دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
پہلا مسئلہ وی وی آئی پی کلچر ہے۔ جب اہم شخصیات کی آمدورفت کے لیے سڑکیں بند کی جاتی ہیں، ٹریفک روکی جاتی ہے اور ہزاروں شہری گھنٹوں انتظار پر مجبور ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے بلکہ پورا ٹریفک نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں حکمران عوام کے ساتھ سڑکوں پر سفر کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں عام شہری کو اکثر انتظار کی اذیت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ دوسرا مسئلہ سڑکوں کی خراب حالت ہے۔ لاہور سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ، گڑھے اور ناقص انفراسٹرکچر حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ بارش کے بعد صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔ ٹریفک حادثات کا ذمہ دار صرف ڈرائیور نہیں ہوتا، بعض اوقات ناقص سڑکیں بھی قاتل ثابت ہوتی ہیں۔ تیسرا مسئلہ خراب یا غیر فعال ٹریفک سگنلز ہیں۔ کئی اہم چوراہوں پر سگنلز درست کام نہیں کرتے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے مقامات پر وارڈنز کی موجودگی بھی ہمیشہ مسئلے کا مکمل حل ثابت نہیں ہوتی۔ چوتھا اور شاید سب سے اہم مسئلہ شہری رویے ہیں۔ موبائل فون پر بات کرتے ہوئے ڈرائیونگ، ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانا، کم عمر بچوں کا گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چلانا، لین ڈسپلن کی خلاف ورزی اور اوور اسپیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی صرف جرمانے سے نہیں رکتی بلکہ اس کے لیے شعور اور تربیت بھی ضروری ہے۔
رکشہ، چنگ چی اور ویگن ڈرائیور حضرات بھی حادثات کی ایک بڑی وجہ بنتے ہیں۔ مسافروں کے حصول کی دوڑ میں اچانک بریک لگانا، غلط اوورٹیکنگ اور ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنا روزمرہ کا منظر ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر ایسے ڈرائیوروں کی تربیت اور نگرانی کا نظام مو¿ثر نہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراءکا معیار ہے۔ اگر کوئی شخص گاڑی چلانے کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں اور پھر بھی لائسنس حاصل کر لیتا ہے تو یہ صرف اس کی نہیں بلکہ دوسروں کی جان کے لیے بھی خطرہ ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ سی ٹی او لاہور نے خود بھی اس مسئلے کو تسلیم کیا اور لائسنسنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ میرے خیال میں ٹریفک کے مسئلے کا حل صرف جرمانوں میں اضافے سے ممکن نہیں۔ جرمانے ضروری ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ تعلیم، تربیت اور آگاہی بھی ناگزیر ہے۔ سکولوں میں ٹریفک قوانین کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں روڈ سیفٹی پروگرام شروع کیے جائیں۔ میڈیا کو بھی مستقل بنیادوں پر آگاہی مہم چلانی چاہیے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنائے بغیر بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ جب تک شہریوں کو معیاری، محفوظ اور باعزت سفری سہولتیں فراہم نہیں کی جائیں گی، نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد بڑھتی رہے گی اور سڑکوں پر دباو¿ میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ٹریفک پولیس کو بھی صرف چالان کرنے والے ادارے کے بجائے ایک تربیتی اور رہنمائی فراہم کرنے والے ادارے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شہریوں کے ساتھ بہتر رویہ، موثر آگاہی مہمات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال صورتحال میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔ ساک کے وفد اور سی ٹی او لاہور کے درمیان ہونے والی ملاقات کا سب سے اہم نکتہ یہی تھا کہ ٹریفک مسائل کا حل صرف پولیس کے پاس نہیں۔ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں حکومت، شہری، تعلیمی ادارے، میڈیا، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور سول سوسائٹی سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب اور منظم معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو سڑکوں پر اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ قانون کی پاسداری کو مجبوری نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ سڑکیں صرف گاڑیوں کے لیے نہیں ہوتیں، یہ کسی بھی قوم کے اجتماعی شعور کا آئینہ بھی ہوتی ہیں۔ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اس آئینے میں ابھی بہت سی دراڑیں موجود ہیں جنہیں بھرنے کے لیے جرمانوں سے زیادہ شعور، تربیت اور اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ چیف ٹریفک آفیسر لاہور عبدالرحیم شیرازی سے ہونے والی اس ملاقات اور بریفنگ کے انعقاد میں ٹریفک پولیس لاہور کے پبلک ریلیشنز آفیسر عارف رانا کی کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور معلومات کی بروقت فراہمی کی بدولت ساو¿تھ ایشین کالمسٹ کونسل کے وفد کو ٹریفک نظام، درپیش چیلنجز اور اصلاحی اقدامات کے حوالے سے فرسٹ ہینڈ معلومات حاصل ہوئیں۔ صحافت اور سرکاری اداروں کے درمیان مو¿ثر رابطہ عوام تک درست اور مصدقہ معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور عارف رانا نے اس ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھایا۔
ٹریفک کا بحران: جرمانوں سے آگے، اصلاح کی ضرورت
09:11 AM, 14 Jun, 2026