وفاقی بجٹ، معاشی استحکام کی جانب قدم یا ترقی کے خواب کی ادھوری تعبیر؟

09:10 AM, 14 Jun, 2026

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل 53 صفحات کی بجٹ تقریر کے بعد ملک بھر میں اس بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت اسے معاشی استحکام اور اصلاحات کا بجٹ قرار دے رہی ہے جبکہ کاروباری برادری، صنعتکار، برآمد کنندگان اور معاشی ماہرین اس کے مختلف پہلو¶ں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کسی کے نزدیک یہ بجٹ معیشت کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے والا ہے تو کوئی اسے ''عجب بجٹ کی غضب کہانی'' قرار دے رہا ہے۔بزنس کمیونٹی کی مجموعی رائے یہ ہے کہ بجٹ میں مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور بعض شعبوں کے لیے مراعات جیسے مثبت اقدامات شامل کیے گئے ہیں، تاہم برآمدات کے فروغ، توانائی کی لاگت میں کمی، زرعی شعبے کی بہتری اور صنعتی ترقی کے حوالے سے مطلوبہ اقدامات نظر نہیں آتے۔یونائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے بجٹ کو مجموعی طور پر ایک ترقیاتی بجٹ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کاروباری برادری کی متعدد تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا، تاہم چند اہم سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یو بی جی نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ بجلی کی قیمت 6 سے 7 سینٹ فی یونٹ تک لائی جائے تاکہ پاکستانی صنعت خطے کے دیگر ممالک کا مقابلہ کر سکے، لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح برآمدات میں اضافے کی حوصلہ افزائی کے لیے اضافی ایکسپورٹ کرنے والے برآمد کنندگان کو 10 فیصد ڈی ایل ٹی ایل دینے کی تجویز بھی منظور نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق جب تک پیداواری لاگت کم نہیں ہوگی، پاکستان عالمی منڈی میں علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں اپنی برآمدات بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔صدریو بی جی اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیر طفیل نے بجٹ میں ٹیکس اصلاحات کے اقدامات کو سراہا ِ ان کا کہنا ہے کہ ''اپنا گھر ہا¶سنگ اسکیم'' اور تعمیراتی شعبے کے لیے 71 ارب روپے کی رقم مختص کرنا خوش آئند اقدام ہے جس سے ہا¶سنگ انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔ اسی طرح ایکسپورٹ ری فنانسنگ کے لیے 88 ارب روپے اور اعلیٰ تعلیم و ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز میں اضافہ بھی مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم انہوں نے برآمدات، توانائی 
کے بحران اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے مزید م¶ثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے مسلسل پانچویں وفاقی بجٹ کی پیشکش پر وزیر اعظم شہباز شریف اور معاشی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے پالیسیوں کے تسلسل کی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد، مالیاتی خسارہ 0.7 فیصد اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں نمایاں کمی معیشت کی بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ بجٹ صرف آمدن اور اخراجات کا حساب نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی دستاویز ہونا چاہیے جو ملک کو استحکام سے مضبوط معاشی ترقی کی جانب لے جائے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے ہا¶سنگ، ایکسپورٹ ری فنانسنگ، اعلیٰ تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز میں اضافے کو مثبت قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کی کئی اہم تجاویز شامل نہیں کی گئیں۔ ان میں امپورٹرز کے لیے فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی، کارپوریٹ ٹیکس میں کمی، ٹرن اوور ٹیکس میں کمی، منیمم ٹیکس کا خاتمہ اور سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 8-B میں اصلاحات شامل ہیں۔ ان کے مطابق معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے بھی کوئی جامع حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے صدر فیصل معیز خان نے کہا کہ توانائی کی لاگت میں کمی صنعتکاروں کا بنیادی مطالبہ تھا جو پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے 15 ہزار ارب روپے کے ٹیکس ہدف کو بھی چیلنجنگ قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ اس کے حصول کا عملی طریقہ کار کیا ہوگا۔فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ متبادل توانائی کے فروغ کے لیے بھی مراعات کا فقدان ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافے کے لیے بھی کوئی خصوصی اقدام سامنے نہیں آیا۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین رفیق سلیمان نے موجودہ معاشی حالات میں بجٹ کو بہتر قرار دیا لیکن زرعی شعبے کے لیے م¶ثر اقدامات نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق سپر ٹیکس میں کمی، بیرون ملک ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نرمی اور پراپرٹی ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔بزنس مین گروپ کے چیئرمین اورسابق صدر بی ایم جی زبیر موتی والا کا کہنا ہے کہ بجٹ میں کراچی اور برآمدی شعبے کے لیے کوئی نمایاں پیکیج نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق K-4 منصوبے کے لیے صرف 10 ارب روپے مختص کرنے سے اس کی تکمیل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے جبکہ برآمدات میں اضافے کے لیے بھی کوئی غیر معمولی اقدام دکھائی نہیں دیتا۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق زرعی شعبہ شدید مشکلات کا شکار ہے لیکن بجٹ میں اس کے لیے کوئی جامع حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات کو مکمل طور پر فکسڈ ٹیکس رجیم میں شامل نہ کرنا برآمد کنندگان کے لیے مایوس کن ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وفاقی بجٹ 2026-27 نے معیشت میں استحکام کے تسلسل کا پیغام ضرور دیا ہے، تاہم کاروباری برادری کی اکثریت کا خیال ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے مزید جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔حکومت اگر واقعی برآمدات میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا چاہتی ہے تو اسے چند اہم شعبوں پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ سب سے پہلے صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے برابر لائی جائیں تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت حاصل کر سکیں۔ برآمد کنندگان کے لیے مراعاتی اسکیمیں متعارف کرائی جائیں اور اضافی برآمدات پر خصوصی انعامات دیے جائیں تاہم برآمدکنندگان کو پابند بھی کیا جائے کہ حکومت انہیں سب کچھ اچھا نہیں دے گی انہیں بھی ملک کو بہت کچھ دینا ہوگا۔ زرعی شعبے کی جدید خطوط پر ترقی، ویلیو ایڈیشن اور ایگرو ایکسپورٹس کے فروغ کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جائے۔ ٹیکس نظام کو مزید آسان، شفاف اور ڈیجیٹل بنایا جائے تاکہ ٹیکس نیٹ وسیع ہو اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹیں کم ہوں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے خصوصی سرمایہ کاری اسکیمیں اور ترسیلات زر بڑھانے کے لیے پرکشش مراعات دی جائیں۔ اگر حکومت ان شعبوں پر توجہ دے تو نہ صرف کاروباری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ برآمدات میں نمایاں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور ملکی معیشت کے پائیدار استحکام کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

مزیدخبریں