حلال اور حرام کے علاوہ بھی ایک تصور ہے جو مسافرِ حق کے لیے بہت اہم ہے۔ اس تصور کو پاک اور ناپاک کہتے ہیں۔ ایک حلال چیز پاک بھی ہو سکتی ہے اور ناپاک ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر سوت پہننا حلال ہے، لیکن اس پر کوئی نجاست لگ جائے تو یہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ حلال تجارت اور حرام تجارت کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں۔ شراب کی تجارت حرام ہے۔ حلال مشروبات کی حلال .... لیکن حلال تجارت میں اگر دھوکہ دہی، ملاوٹ اور جھوٹ شامل ہے تو اس تجارت کے نتیجے میں حاصل ہونے والا مال ناپاک ہے۔
حرص اور ہوس کی آنکھ حلال نظاروں کو بھی ناپاک کر دیتی ہے۔ دل، فکر اور نظر میں پاک اور ناپاک ہونے کی تدبیر موجود ہے۔ دل پاک کرنے کے لیے فکر و نظر کو پاک کرنا ہوتا ہے۔ فکر اور نظر باہم رابطے میں ہوتے ہیں۔ فکر اور نظر دونوں میں سے کوئی ایک بھی پاکیزگی سے باہر ہو جائے تو دوسرا بھی ناپاکی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ایک عجب رابطہ ہے، عجب ربط ہے اور عجیب راز ہے .... فکر۔ نظر اور دل کے بیچ!
ہر چیز کا وجود خیال کے مرہونِ منت ہے۔ پہلے خیال جنم لیتا ہے پھرعمل صورت پذیر ہونے لگتا ہے۔ خیال درست ہو جائے تو عمل درست ہونے لگتا ہے۔ خیال نا درست راستوں پر چل پڑے تو عمل بھی راست نہیں رہ پاتا۔ کہنے والے کہتے ہیں اور کیا خوب کہتے ہیں .... اپنے دل کے دروازے پر دربان بن کر بیٹھ جاو¿، دیکھو کہ کون سا خیال اس کے اندر آ رہا ہے، اگر یہ خیال دنیا کا ہے تو اسے اندر داخل نہ ہونے دو، اور اگر یہ خیال اللہ کا ہے تو اسے داخل کر لو۔ کیا خوب لائحہ فکر ہے .... کیا خوب لائحہ عمل ہے۔ آج کے دور میں مغرب کے اہلِ دانش بھی یہی کہتے ہیں: Watch your thoughts, they become actions; watch your actions, they become your character. یعنی اپنی سوچوں کی حفاظت کرو، یہ عمل بن جاتی ہیں، اور اپنے عمل کی نگہداشت کرو، یہ تمہارا کردار بن جاتا ہے۔ دانش سے بھرپور اس جملے میں ایک اضافہ اسے اور مزین کرے گا .... وہ یہ کہ کردار پر بھی نظر رکھو، یہ تمہارا مقدر بن جائے گا۔ کہنے والے یہ بھی کہتے کہ مقدر فرد کے لیے نہیں، کردار کے لیے ہے۔ بدبختی بدعملی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ نیک بخت بالعموم نیک عمل ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک ہے کہ صلہ رحمی عمر اور رزق میں فراخی کرتی ہے، صدقہ بُری موت سے بچاتا ہے۔ عمر، رزق اور موت مقدر میں لکھی جاتی ہے، لیکن صلہ رحمی اور صدقہ جیسے نیک عمل اس مقدراتی نقشے میں بھی ترمیم کر دیتے ہیں۔
نیت پاک ہو تو عمل پاک ہے۔ نیت میں کھوٹ ہو تو عمل بظاہر نیک ہونے کے باوجود نیک نتیجہ نہیں کرتا۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک پنجابی مصرع ہے جو ایک ضرب المثل بن چکا ہے:
نیتاں دے گل سہرے پیندے، نیتاں دے گل پیندے پھاہ
نیت نیک ہو تو کم عملی بھی قبول ہو جاتی ہے۔ نیت میں خلل یا خطا ہو تو پہاڑ جیسی نیکیاں بھی دفترِ قبولیت سے جگہ نہیں پاتیں۔ عین ممکن ہے بادشاہوں کی تعمیر کی گئی پُرشکوہ مسجدیں اس کے ہاں قبول نہ ہوں اور ایک درویش کی کچی مسجد وہاں مستحکم بنیادوں پر قائم ہوکہ نیت کا اخلاص اور پاکیزگی شامل حال تھی۔
اخلاص پاکیزگی ہے۔ ریاکاری ناپاکی۔ اخلاص اتنا پاک ہے کہ سبحان ذات کا بیان سورة اخلاص کی سورت میں نازل ہوتا ہے۔ نیت کا رخ اللہ کی طرف ہو تو نیت پاک ہوتی ہے، اگر رخ دنیا کی طرف ہو ناپاک۔ پاک وہ ہے جو ہر مفاد سے پاک ہے۔ مال اور مفاد کی نفی اخلاص کا ثبات بھی ہے اور ثبوت بھی۔ اخلاص اور پاکیزگی کی ایک الگ خوشبو ہے۔ خوشبو سے آشنا اسے پہچان لیتے ہیں۔ مال، مفاد اور ریاکاری کی نیت اپنے اندر ایک بساند کو بسائے رکھتی ہے۔ اہلِ وفا و اخلاص اسے بھی پہچان لیتے ہیں اور خود کو ایسے افراد اور مواقع سے علیحدہ کر لیتے ہیں۔ وہ اس دنیائے بے وفا کو اہلِ دنیا کے سپرد کر کے واپس جہانِ وفا میں لوٹ آتے ہیں .... وہ جہان جہاں ہر کام بس اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ بس .... باقی ہوس!
شہرت ریاکاری کی ایک جدید قسم ہے۔ دولت اور شہرت دونوں میں سے کسی نے آج تک وفا نہیں کی۔ دولت آج کسی کی ہے تو کل کسی اور کی دسترس میں ہے۔ شہرت آنے والے کل میں گمنامی یا بدنامی میں بدل جائے گی۔ ہاں! عزت ہے جو اللہ کی طرف سے ہے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے .... ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا اللہ ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی عزت دیتا ہے۔ مخلوق جسے آج کندھوں پر بٹھاتی ہے، کل اسے ہی اپنے نسیان بھرے پاو¿ں تلے روند دیتی ہے۔ مفاد مفاد سے ٹکرا جائے گا تو دولت محرومی میں اور شہرت بدنامی میں بدل جائے گی۔ اخلاص اخلاص سے نہیں ٹکراتا۔ خوشبو کسی اور خوشبو کو معطل نہیں کرتی .... بلکہ اضافہ کرتی ہے۔ عزت عزت سے مقابلہ نہیں کرتی .... بلکہ عزت افزائی کرتی ہے....!
پاک وہ ہے جو ہر غرض سے پاک ہے۔ اپنی نیت سے ہر غرض کی نفی ایسی کرامت ہے جو انسان کو بشریت سے اٹھا کر نورانیت کی رفعت میں لے جاتی ہے۔ خود سے خود کو نکالنا ہی وہ ریاضت ہے جو اخلاص کی طرف لے جاتی ہے۔
صاحبِ کشف المحجوب سیّدِ ہجویرؒ اپنی نادرالوجود تصنیف میں فرماتے ہیں، اور آپ کا یہ فرمان کتاب کے شروع ہی میں درج ہے۔ کتاب شروع کرنے سے پہلے جہاں آپؒ نے استخارت، استعاذت اور استعانت کا طریقہ اختیار کیا ہے، وہاں اس سے بھی پہلے اپنی نیت کو شفاف کرنے کے حوالے سے آپؒ یہ اعلان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دل کو ان اغراض سے پاک کر لیا ہے جو نفس سے ابھرتی ہیں اور دل کی طرف بازگشت کرتی ہیں۔ سبحان اللہ سبحان اللہ! .... جب حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ جیسی ہستی جو پاک نسب اور پاک حسب سے مرتب ہے، اپنی نیت کی تطہیر کا یوں اعلان کر رہی ہے تو ہما شما کس شمار میں ہیں کہ اپنی نیت کو پرکھ اور احتساب کی کٹھالی میں ڈالے بغیر دین و دنیا کے کاموں میں ہاتھ ڈالتے پھریں۔
پس! اپنے کسی نیک عمل کے زعم میں نہیں رہنا چاہیے۔ کیا خبر یہ عمل پاک ہے یا ناپاک۔ نیت کو پاک کیے بغیر حلال کام بھی ناپاک ہو جاتے ہیں۔ اپنی نیت کو کھنگالتے رہنا چاہیے .... یہ دیکھتے رہنا چاہیے کہ اس میں کس قدر خوشنودی ذاتِ حق کی تمنا اور کس قدر یہاں مخلوق میں پذیرائی کی۔ نیت صاف اور شفاف ہو تو عمل بھی پاک اور پوتر ہوتا ہے۔ نیت میں مال، منصب اور شہرت کی غرض شامل ہو جائے تو نیک عمل بھی نیک نہیں رہتا۔ نماز جیسی عبادت میں بھی ریاکاری ہو منہ پر دے ماری جاتی ہے۔ روزے کی نیت حصولِ تقویٰ نہ ہو تو سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمل کی دعوت دینے والے کے ہاں عمل کی مقدار نہیں معیار مطلوب ہے اور یہ مطلوبہ معیار فقط نیت کی اصلاح اور اور اس کی پاکیزگی سے میسر آتا ہے۔ اسی لیے عملِ صالح سے پہلے ایمان لانا شرط ہے۔ حدیثِ پاک ہے کہ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔
نیت خوشبودار ہے تو عمل خوشبودار ہو جائے گا۔ عمل خوشبودار ہو جائے تو خوشبو وجود کی طرف عود آتی ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ کسی کی نیت اس قدر پاک ہو جائے کہ اس کا وجود اپنے مرقد سمیت پاکیزگی کی خوشبو سے معطر، مطہر اور منور ہو جائے۔
پاک اور ناپاک
09:41 AM, 15 Jul, 2026