سی سی ڈی کے پیچھے وزیر اعلیٰ پنجاب 

09:12 AM, 14 Jul, 2025

جب ظلم حد سے بڑھ جائے اور اسکی تشہیر عام ہوجائے تو پھر حکومت کو شہر شہر ،گلی محلوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے سخت فیصلے کرنا لازم ہوجاتا ہے۔سی سی ڈی ہیرو بن گیا ۔پنجاب حکومت کی جانب سے ایک چھوٹا قدم اٹھائے جانے پر عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنے کے لئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا قیام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کامیاب تجربہ رہا ۔سی سی ڈی نے ڈکیت،قاتل ،چور ،بچوں اورخواتین سے زیادتی کرنے والوں سمیت اغوا برائے تاوان کے خطرناک ملزموں کو ٹھکانے لگانا شروع کر دیا ہے ۔ہر دور میں پولیس نے کچھ اچھا کرنے کا سوچا ہی تھا لیکن سی سی ڈی نے وہ سب کر دکھایا ۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق صوبے کو کرائم فری بنانے پرسی سی ڈی پر عزم دکھائی دے رہی ہے ۔
ایک وقت تھا پولیس والوں کو دیکھ کرغصہ زیادہ اور خوشی کم ہوتی جا رہی تھی لیکن آج کل حالات ایسے ہیں عام آدمی جو امن پسند شہری ہے اس کو اب خوشی زیادہ اور غصہ کم ہوتا ہوا نظر آرہا ،ویسے تو پولیس جرائم پیشہ افراد کے پیچھے ہی ہوتی تھی،جو بھی جرم کا انتخاب کرتے ان سے لین دین کر کے چھوڑ دینا بھی پولیس چھپ چھپا کرتی رہی ،اب سی سی ڈی کے قیام کے بعد فورس جرائم پیشہ افراد کے پیچھے پڑ چکی ہے ، صوبہ بھر میں گلی کوچوں میں جہاں جرائم پیشہ افراد دندناتے پھرتے ہیں ان کے بنائے نوگو ایریا کو ختم کرنے کا بیڑا ٹھا یا ۔پولیس نے اصل میں اپنی ڈیوٹی کرنے کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لیے بھی میدان میں آچکی ہے۔اب کریمیلز کا ریکارڈ سارے صوبے کی پولیس کو پتا ہوگا،سی سی ڈی کی سات ہزار نفری نے کم وقت میں بہت ساری کامیایباں اپنے نام کر لی ہے ۔اسکے پیچھے بہترین افسران کا انتخاب ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پر اعتماد کیا ۔جس کے بعد کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو اپنے پاوں پر کھڑے کرنے کے لئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جو جو کیا اس کی مثال بھی نہیں ملتی ۔پہلی بار ایسا ہوا کہ عوام نے پولیس کے اچھے اقدام کو سراہا ہو ۔سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ اور ان کی وفادار ٹیم نے جس جذبے، لگن اور محنت سے کریمنلز کا مقابلہ کیا وہ یقینا قابل تعریف ہے ۔اب جرم کرنے پہلے سو بار سوچنا ورنہ انجام بُرا ہوگا۔
حالیہ دنوں میں سی سی ڈی کی تیز تر کارروائیوں کے دوران لگ بھگ پانچ سو پولیس مقابلوں کے دوران چار سو کے قریب خطرناک ملزموں کومار دیا گیاور دو سو سے زائد زخمی ہو گئے ۔ سنگین جرائم میں ملوث کریمنلز کے خلاف سی سی ڈی متحرک ہو چکی ہے ۔اپنے تھانوں میں پانچ سوسے زائد مقدمات کا اندراج بھی عمل میں لایاجا چکا ہے ۔کنٹریکٹ اور ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے چھپے کرداراور شوٹروں کے ذریعے قتل وغارت اور بد امنی پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی بھی تیار کی گئی ہے ۔سکول اورکالجز میں منشیات استعمال عام ہونے سے نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔سی سی ڈی ایسے تمام تر کریمنلز کے لئے خوف کی علامت بن کر سامنے آچکی ہے ۔ایسے جرائم پیشہ افراد جو اپنے اپنے شہروں میں خوف کی فضا پیدا کرنے کے لئے جرم کی دلدل میں دھنس چکے تھے ان کو اس دلدل میں گھس کر آپریشن جاری کر دیا ہے ۔جس کے مثبت نتائج بھی فوری سامنے آ رہے ہیں ۔شہر شہر سی سی ڈی کی گونج ہے ہر طرف چرچے ہیں ۔سوشل میڈیا پر جرم کی نمائش کرنے والے بھی گرفت میں آ رہے ہیں ۔فلموں سے متاثر نوجوان نسل اور بڑے سب ڈالہ کلچر کو پروموٹ کرتے نظر آتے تھے وہ سسٹم بھی ختم ہونے شروع ہو گیا ہے ۔اسلحہ کی نمائش بھی عام تھی وہ بھی اب نظر نہیں آتی ۔سب سے بڑی بات سی سی ڈی وہ سب کچھ کر رہی ہے جو عوام میں عدم تحفظ کاسبب بن رہی تھی ۔ڈاکو ،چور لٹیروں ،بدمعاشوں ،منشیات فروشوں کے خلاف لڑتے نظر آ رہے ہیں اور سی سی ڈی کے آپریشن اور کارروائیوں کی صورت میں جرائم پیشہ افراد معافی تائب کی ویڈیو ز بنا کر سوشل میڈیا پرڈال رہے ہیں ،سب کو اپنی اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں ۔برائی کو جڑ سے ختم کرنے کا بیڑا جو سی سی ڈی نے اٹھایا ہے اب جاری رہنا چاہئے ،بہت مشکل سے عوام نے پولیس پر دوبارہ یقین کر لیا ہے کہ یہ کریمنلز کے ساتھ نہیں معصوم اور مظلوم شہریوں کی حفاظت پر مامور ہوتی ہے ۔
پولیس دوطرح کی ہوتی ہے ایک وہ جو پولیس وردی کا استعمال جرم کے لئے کرتے اور دوسرا وہ جو محکمہ اور معاشرے میں بسنے والوں کو تحفظ دینے کے لئے جرایم پیشہ افراد کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ہم نے زیادہ تر دیکھا یہ ہی ہے کہ عوام کو پولیس کھا رہی ،مار رہی ،زیادتی کر رہی ہوتی ،جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے جرم کرنے والوں کا ساتھ دیتی نظر آتی اور افسران بالا اپنے کریمنلز پولیس والوں کی باتوں میں آکر مظلوموں کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن رہی تھی ۔جس سے معاشرے میں مزیدبگاڑ پیدا کیا گیا ۔پولیس اور جرم کرنے والوں کا اکٹھ ہونے سے ظلم کی انتہا ہوئی تو عوام کا پولیس پر اعتماد اور اعتبار اٹھ گیا ۔پھر یوں ہوا کہ جرم کو جرم نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن آج دوبارہ پولیس پر عوام کا عتماد بحال ہوتا دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے ۔ایک بات واضح کردوں”عوام بار بار پولیس پر اعتبار اور اعتمادنہیں کرتی“اس بار کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پھیلانے والوں کے خلاف عالم جہاد شروع کر رکھا ہے ۔
ابتدائی آپریشن میں ملنے والی کامیابیاںصوبہ پنجاب میں کرائم نے بد امنی میں ریکارڈ کمی میں نمایاں کردار ادا کررہا ہے،29اپریل 2025ءکو سی سی ڈی نے صوبے بھر میں عملی طور پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں شروع کیں جس کا نتیجہ اچھا اور کامیاب نکلا ۔ بہت عرصے بعد جرائم پیشہ افراد جن میں ڈکیتی،دوران واردات خواتین سے زیادتی اورقتل ،اغوابرائے تاوان اور پولیس پر گولی چلانے سمیت دیگر عادی مجرموں کے خلاف نہ صرف ریڈ کیا بلکہ گرفتاریاں عمل میں لاکر ثابت کر دیا کہ پولیس کا اصل کام جرائم پیشہ افراد کے خلاف مقابلہ کرتے ہوئے کارروائیاں کرنا ہی اسکی اصل ڈیوٹی ہے ۔سی سی ڈی کو بہترین تفتیشی ایجنسی بنایا جا رہا ہے ۔فورس کے ہیڈ کوارٹر اور ڈیٹا سینٹرز ،سکول آف انویسٹی گیشن کی تکمیل سے مزید بہتری ہو سکے گی،4ہزار جاسوس بھرتی کرنے کا عمل ابھی باقی ہے جس کے بعد کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق جرم کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی ۔
سی سی ڈی ابھی تک تو ٹھیک کام کررہی ہے یہ ناں ہو کہ کچھ وقت گزر جانے کے بعد سی سی ڈی بھی سی آئی اے اور او سی یو کی طرح جرم کرنے میں برابر کی شریک نہ ہو جائے ۔سب افسران کے علم میں ہو گا کہ سی آئی اے اور او سی یو پولیس نے جرم میں ہاتھ میلے ہی نہیں بلکہ اپنا منہ بھی کالا کیا،جو صرف محکمہ پولیس کے لئے نہیںبلکہ دوران ڈیوٹی شہید ہونےوالے پولیس ملازمین کی قربانیوں کی بھی لاج نہ رکھی ۔ سی سی ڈی اپنی شہرت برقرا رکھنے اور عوام کے دلوں میں گھر کر جانے والی صحیح کارروائیاں جاری رکھے تو ولن کو ہیرو نہیں پولیس کو ہیرو کا درجہ دے کر ہر طرح سے ساتھ دے کر ثابت کر دیں گے ”پولیس پر اعتماد اور اعتبار کرنا ہے عوام کا کام“ اورظالموں کے خلاف لڑنااور معصوم شہریوں کوتحفظ دینا ہے پولیس کا کام۔ 

مزیدخبریں