دنیا میں جاری غیر ضروری جنگیں بند کرانے کے دلفریب نعرے پر اہل امریکہ سے ووٹ اینٹھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر معاملے میں عجلت میں نظر آتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی سیمینار کے دوران چائے کے وقفے پر ایک امریکی دانشور میرے قریب آیا۔ اس سے کافی بے تکلفی ہو چکی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرمپ کی عجلت کے بارے میں سوال داغ دیا، وہ مسکرایا اس نے ایک لمحے کیلئے سوچا پھر کہنے لگا اگر آپ اس کی جگہ ہوں اور آپ کے کان کو چھوتی ہوئی بندوق کی گولی گزر چکی ہو تو شاید آپ پھر ہر کام میں اتنی ہی جلدی کرتے نظر آئیں پھر اس نے ایک قہقہہ لگایا، میں نے پوچھا کیا ٹرمپ محسوس کرتے ہیں، ان کے پاس وقت کم ہے، اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا ہاں نظر تو یہی آتا ہے، میں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا یہ بے وقوفانہ سوچ ہے۔ ہمارے یہاں ہر زمانے میں نظر آتا ہے، صاحبان اقتدار کے پاس وقت کم ہے لیکن پڑھایا یہی جاتا ہے۔ سب ایک پیج پر ہیں۔ اس ایک پیج کے ساتھ بارہ اکتوبر انیس سو اٹھاون، پانچ جولائی انیس سو ستتر اور بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو کیا ہوا اب تاریخ کا حصہ ہے۔
امریکہ کو یکے بعد دیگرے ویت نام، کوریا، عراق، کویت، افغانستان، یوکرین، پاکستان، غزہ اور ایران میں شکست ہوئی۔ چہرے سے شکست کا داغ مٹانے کیلئے اسے ایک فتح کی ضرورت ہے۔ اس کے جنگ بند کرانے کے غبارے سے بھارت اور ایران نے ہوا نکال دی، اب وہ چاہتا ہے ایک فتح ہاتھ آجائے خواہ لولی لنگڑی ہی کیوں نہ ہوا، اسے یقین ہے اسرائیل اور فلسطین کے دو ریاستی قیام سے وہ ٹرافی حاصل کر سکتا ہے جو ہارے ہوئے نو میچوں میں عبرتناک شکست کا داغ دھو سکتی ہے۔ اسرائیل کو درپردہ جنگ جاری رکھنے کو کہا گیا بلکہ ظلم روا رکھنے کیلئے فوجی و مالی مدد جاری رکھی گئی۔ شام میں حکومت کی تبدیلی کو ضروری سمجھا گیا۔ اس خاندان اور بالخصوص بشار الاسد کے دور حکومت میں اسرائیلی فوج شام کے اندر داخل نہ ہو سکی۔ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شامی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے۔ شام میں اقتدار اعلیٰ حاصل کرنے والا ابو محمد جولانی موٹرسائیکل پر پھرنے والا ایک لفنٹر تھا۔ وہ سعودی عرب میں پیدا ہوا، عراق میں پلا بڑھا، اس نے متعدد دہشت گرد تنظیموں میں فعال کردار ادا کیا تو امریکہ کی نظر اس پر پڑی، وہ امریکہ کی زیرپرستی آگیا۔ وہ 2003سے 2006 تک قید میں بھی رہا۔ 2013میں امریکہ اسے دہشت گرد قرار دے چکا تھا، اس کے سر پر دس بلین ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا۔ 2024میں امریکی نظر عنایت ہوئی تو اسے سات نہیں سات ہزار خون معاف ہو گئے۔ 2025میں اسے شام کا اقتدار سونپ دیا گیا۔ اب وہ امریکی مفادات کا نگران ہے، اس کے ذمے فلسطینی مجاہدین پر ضرب لگانا بھی ہے جو اب تک اسرائیل اور امریکہ کے قابو نہیں آرہے، چین نے اٹھارہ مزاحمتی فلسطینی گروپوں کے سربراہوں کو چین بلایا اور انہیں مشترکہ جدوجہد پر قائل کیا۔ یہ اعزاز بھی چین کو حاصل ہوا۔ تمام مسلمان ملک زبانی جمع خرچ کرتے رہے کہ ہم فلسطینی عوام اور حریت پسندوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سب صرف ساتھ کھڑے رہے، ان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک فلسطینی رہنما نے کہا خدارا اب بیٹھ جائیں، آپ کھڑے کھڑے تھک گئے ہونگے کیونکہ آپ اس سے پہلے کشمیری عوام کے ساتھ بھی گزشتہ ستر برس سے کھڑے ہیں۔
اسرائیل کے قیام میں امریکہ جس ملک کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے وہ ایران ہے اس پر پابندیاں لگا کر دیکھ لیا، اس کو ڈرا دھمکا کر دیکھ لیا، اس پر اسرائیل سے حملہ کرا کے دیکھ لیا حتیٰ کہ اس پر خود حملہ کر کے دیکھ لیا، ایران اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹا، اب امریکہ اسے پیار و محبت سے رام کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ایران میں رجیم چینج نہ کرا سکے، اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ نہ کر سکے، وہ اس کا اقرار کر چکے ہیں۔ امریکہ ایران کے ایٹم بم سے نہیں ڈرتا، جس طرح وہ کئی اور ملکوں کے ایٹم بم سے نہیں ڈرتا، اسے صرف خوف ہے جب تک ایران اسرائیل کی مخالف سمت کھڑا ہے تمام اسلامی ملک بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیںاسے ایران اور فلسطین سے خطرہ رہے گا۔ فلسطینیوں سے ان کا علاقہ چھین کر ہی کیوں اسرائیل بنانا مقصود ہے۔ دنیا کا تین چوتھائی حصہ خالی پڑا ہے۔ امریکہ اور یورپ کسی بھی محفوظ علاقے کو اسرائیل بنا سکتے ہیں، اسے ڈویلپ کر سکتے ہیں لیکن اس کی نظریں فلسطین پر صرف اس لئے ہیں کہ یہ علاقہ تیل اور رئیر ارتھ منرلز سے مالامال ہے۔ تمام دنیا کے ذخائر ایک طرف اور فلسطین میں پائے جانے والے ذخائر ان سے بہت زیادہ ہیں، پس اسرائیل کا اس خطے میں قیام دراصل امریکہ کی ضرور ت ہے۔ وہ آئندہ سو برس تک ان خزانوں کو لوٹے گا۔
موجودہ شامی حکومت قیام اسرائیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ شام مصر اور اردن کے کچھ علاقے نئے اسرائیل میں شامل کر کے ایک وسیع و عریض اسرائیلی ریاست قائم کی جائے گی جبکہ بالشت بھر جگہ کو آزاد فلسطین کا نام دے کر اسلامی ملکوں کو راضی کر لیا جائے گا کہ آپ کا قیام فلسطین اورآزاد فلسطین کا تقاضا پورا ہوا۔
یورپ کے تمام ملک اس منصوبے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ اپنے ملکوں میں موجود یہودیوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن انہیں یہ منصوبہ بھی قبول نہیں۔ دو ریاستی منصوبے کے حوالے سے اقوام متحدہ کا آئندہ اجلاس اہم ہے جس پر امریکہ اور امریکی صدر خوش نہیں کیونکہ وہ تو تن تنہا ہیرو بننا چاہتے تھے تاکہ دنیا کو باور کرا سکیں کہ اب دنیا کو امریکہ کی مرضی کے مطابق چلنا ہو گا، اس سے بہت پہلے ان کے دست راست روبیو کہہ چکے ہیں۔ دنیا اب یونی پولر نہیں ملٹی پولر بن چکی ہے۔ چین کی قیادت نے بھی دنیا کو پیغام دیا ہے کہ دنیا امریکہ کے بغیر بھی جی سکتی ہے اور ترقی کا سفر طے کر سکتی ہے۔
امریکی صدر کو اگر اپنے خواب کی تعبیر بگڑتی نظر آتی تو وہ فوری طور پر دو جنگیں شروع کرا سکتا ہے اور پہلے سے جاری ایک جنگ کو مزید طول دے سکتا ہے۔ نئی جنگیں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونگی۔ بھارت پاکستان پر حملہ کرے گا۔ دوسری جنگ اسرائیل اور ایران کے درمیان ہو گی۔ اسرائیل ایران پر حملہ کر ے گا۔ دونوں جنگوں کیلئے سٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔ بھارت پاکستان پر اور اسرائیل ایران پر حملے کا عندیہ دے چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نو مرتبہ اسرائیل کے فلسطین پر حملے کی حمایت کی گویا اس نے نو مرتبہ نوبال کرائی اور اب وہ ان نوبالز پر امن کا نوبیل پرائز لینا چاہتا ہے۔
نوبالز پر نوبل پرائز
09:01 AM, 14 Jul, 2025