ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سچ بولنا نادانی، خاموش رہنا دانش اور ہر چیز کا مشاہدہ کر کے انجان بن جانا عقلمندی تصور کیا جاتا ہے۔ دیواروں کے کان ہونا تو محض محاورہ تھا مگر اب وہ کان سننے کے ساتھ ساتھ دیکھتے بھی ہیں، پہچانتے بھی ہیں اور محفوظ بھی کرتے ہیں اور کیا سننا ہے، کیا دکھانا ہے یہ بھی خود طے کرتے ہیں۔ آج دیواریں دیوار نہیں رہیں، ریاستی، تجارتی اور نفسیاتی جال بن چکی ہیں۔ اب محض بات چھپانے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری زندگی کو نگرانی کے عدسے سے گزارا جا رہا ہے۔ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں تنہائی، آزادی اور رازداری جیسے الفاظ صرف لغت میں باقی رہ گئے ہیں، جہاں لفظ محض اظہار نہیں ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ اب خلوت صرف مکان کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی بلکہ ذہن کے اندر بھی نگرانی کا نظام نصب ہو چکا ہے۔ گوشہ نشینی جو کبھی نعمت تھی آج فریب بن چکی ہے آج ہر شخص ایک قیدی ہے۔ ہم نے سہولت کے نام پر جن ایپس، گیجٹس اور سمارٹ ٹیکنالوجی کو اپنایا وہ اب ہمارے رویوں کو ڈکٹیٹ کر رہی ہیں۔ ہر موبائل فون ایک جاسوس، ہر سکرین ایک چشم دید گواہ اور ہر سوشل میڈیا ایپلیکیشن ایک فائلنگ سسٹم ہے جو ہمارے جذبات، خیالات، رجحانات اور عادات کا مکمل نقشہ ترتیب دے رہی ہے۔ یہ سب کچھ بغیر کسی ظاہری قید کے، بغیر کسی عدالتی حکم کے اور بغیر کسی الزام کے ہو رہا ہے۔ یہ محض ریاستی نگرانی نہیں بلکہ ایک سماجی، تکنیکی اور نفسیاتی نگرانی ہے، جو ہمارے اردگرد کے نظام نے اس انداز سے ترتیب دی ہے کہ ہمیں خود بھی اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ ہم نے اپنے افکار، جذبات، مصروفیات، رشتے اور حتیٰ کہ خیالات تک کو ان پلیٹ فارمز کے سپرد کر دیا جن کا بنیادی مقصد انسان کو ذہنی طور پر قابو میں رکھنا ہے۔ رکاوٹ اب آزادی میں نہیں ہے بلکہ خود اعتمادی میں ہے۔ دورِ حاضر میں گرفتار جسم نہیں دماغ ہوتے ہیں۔ ہم نے سہولت کے نام پر خود کی راز داری کا سودا کیا اور اب اسی بات کا سوگ منا رہے ہیں۔ ہم نے واٹس ایپ کی نیلی ٹک کو اطمینان کا نشان مان لیا اور لوکیشن شیئرنگ کو اعتماد کی علامت، مگر کبھی غور نہیں کیا کہ یہ سب ہماری سوچ، عمل، حرکات اور خاموشیوں کی نگرانی کے کتنے ذرائع بن چکے ہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہر شے مشاہدے کا ہتھیار بن چکی ہے۔
ہماری دلچسپاں خود بخود پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیں دکھا کر پیدا کی جاتی ہیں، جو چیز ہم خریدنا چاہتے ہیں اس کی خواہش ہمارے اندر پہلے پیدا کی جاتی ہے، جو سوچ ہم اپنانا چاہتے ہیں وہ سوچ ہمیں پہلے سمجھائی اور سکھائی جاتی ہے۔ ہم جو کچھ بننے کا خواب دیکھتے ہیں وہ خواب بھی اکثر دوسروں کی چالاکی سے ہمارے ذہن میں بو دیا جاتا ہے۔ ہماری دلچسپی، ہر بات، ہر سانس لاگ ان ہو رہی ہے۔ ہم ان دیواروں سے بچنے کے بجائے ان کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، وہ قوم بنتے جا رہے ہیں جس کے لبوں پر تالے ہیں مگر ہاتھوں میں موبائل ہے۔ جنہیں بولنے کا حق نہیں مگر ٹرینڈ بنانے کا جنون ہے۔ یہ جبر ہم پر مسلط نہیں ہے مگر ہم نے اسے خود خرید رکھا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرد، سماج اور ریاست کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔ ہر فرد خود کو آزاد سمجھتا ہے مگر اس کی آزادی پہلے سے مرتب کردہ اصولوں، پالیسیوں اور متوازن رویوں کے خول میں قید ہوتی ہے۔ ہم وہ نسل ہیں، جو اظہار کی آزادی مانگتی ہے لیکن کچھ بھی لکھنے سے قبل درجنوں بار سوچتی ہے۔ صحافت جو کبھی شعور جگاتی تھی، آج صرف ہدایت دہراتی ہے۔ سوال کرنا جرم، تجزیہ غداری اور اختلافِ رائے دشمنی کہلاتی ہے۔ اب صحافت لکھتی نہیں وضاحت دیتی ہے۔ بیانیہ اب ایک نیا چہرہ اختیار کر چکا ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو خود ساختہ سنسرشپ کی کوکھ سے پیدا ہوا۔ ہم وہ کچھ نہیں لکھتے جو ہم سوچتے ہیں بلکہ وہ لکھتے ہیں جو قابلِ قبول ہو۔ احتیاط، اخلاقیات اور تہذیب کے نام پر جو حدود طے کی گئی ہیں وہ درحقیقت ایک بے صدا غلامی کی لکیریں ہیں۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ ہمیں دیکھا جا رہا ہے بلکہ اس بات کا ہے کہ ہم خود یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں کون دیکھ رہا ہے۔ ہم نے رازداری کا حق ترک کر کے توجہ کی بھیک مانگنا سیکھ لیا۔ ہر تصویر، ہر سٹیٹس، ہر ٹویٹ پکار پکار کر کہتے ہیں مجھے دیکھو، مجھے پڑھو، مجھے سنو اور جو معاشرہ خود کو مسلسل دکھانے کا عادی ہو جائے وہ کبھی اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔ سائبر دنیا اب پہلے سے کہیں زیادہ سننے والی ہو چکی ہے ہمارے گھروں میں نصب ہر ڈیوائس، ہر اسسٹنٹ، ہر سکرین ہمیں سن رہی ہے، محفوظ کر رہی ہے، تجزیہ کر رہی ہے۔ یہ خاموشی کے ساتھ ہمارے الفاظ، انداز، لہجے، حتیٰ کہ خاموشیوں کے مفہوم بھی سمجھنے لگی ہے۔ یہ نگرانی محض مشاہدہ نہیں بلکہ شخصی آزادیوں کی تدریجی موت ہے، ایسی موت جو انسان کی فکر، سوال اور ردعمل کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ ضرورتِ وقت ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ خطرہ اب باہر نہیں اندر ہے۔ ہم نے اپنے لفظ بیچے، خیال گروی رکھے اور ضمیر کی زمین پر سہولتوں کی عمارت کھڑی کی، ہم نے آزادی کو سہولت سے بدل دیا اور سوچنے کو شیئرنگ سے۔ ہماری خاموشی اب محفوظ ہونے کی علامت نہیں ہے بلکہ شکست کی گواہی ہے اور خاموش قومیں کبھی عظیم خواب نہیں دیکھتیں بلکہ دوسروں کے خوابوں کی تعبیروں میں مزدوری کرتی ہیں۔ وہ آزادی کے نغمے نہیں گاتیں بلکہ غلامی کی اصلاحات میں سکون ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ ان کے شاعر سچائی کے بجائے مصلحت کے قصیدے لکھتے ہیں، ان کے دانشور عوام کے ضمیر کو سلانے کے جواز ڈھونڈتے ہیں اور ان کے رہنما ان کے خوف سے حکمرانی کرتے ہیں۔ یہ دیواریں اگر کان رکھتی ہیں تو ہمیں زبان رکھنا ہو گی۔ یہ سکرینیں اگر آنکھیں بن چکی ہیں تو ہمیں اپنے اندر وہ بینائی پیدا کرنا ہو گی جو سچ اور فریب میں فرق کر سکے۔
دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں
08:56 AM, 14 Jul, 2025