سرد موسم میں گرم سیاست

09:05 AM, 14 Jan, 2026

وطن عزیز کے اکثر حصوں میں اس وقت موسم کافی سرد ہے‘ خون جما دینے والی اس سردی نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثرکر رکھا ہے۔ یخ بستہ ہواﺅں سے بچنے کی خاطر عوام کی اکثریت دن میں اپنے امور کی انجام دہی کو ترجیح دے رہی ہے۔ ایسے میں پاکستانی سیاست کافی گرم ہے اور سیاستدانوں کے تند و تیز بیانات نے سیاسی درجہ حرارت زیادہ کر رکھاہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پہلے لاہور کا دورہ کیا اور سیاسی ماحول کو گرمائے رکھا اور اب انہوں نے کراچی کا رخ کیا اور وہاں بھی تند وتیز بیانات کے ذریعے سرد موسم میں گرم سیاست والی روایت کو برقرار رکھا۔ ”سرد موسم میں گرم سیاست“ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کی وہ حقیقت ہے جہاں جنوری کی شدید سردی کے باوجود سیاسی درجہ حرارت ہمیشہ عروج پر رہتا ہے‘ 2026ءکے آغاز میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی و گیس کے بلوں نے اپوزیشن کو حکومت کے خلاف عوامی مہم چلانے کا موقع فراہم کر دیا ہے اور عوام کے دل و دماغ میں بھی سیاسی حدت محسوس کی جا رہی ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت اہم سیاسی کیسز نے سیاسی جماعتوں کے مستقبل کو داو¿ پر لگا رکھا ہے جس کی وجہ سے سیاسی بیانات میں کافی تلخی دیکھی جا رہی ہے۔جنوری کی ٹھنڈی راتوں میں سوشل میڈیا اور ٹاک شوز پر ہونے والی بحث نے سیاسی ماحول کو مسلسل گرم رکھا ہوا ہے۔ باہر دھند اور سرد ہواو¿ں کا راج ہے تو سیاسی ایوانوں اور ٹی وی سکرینوں پر تپش برقرار ہے جو آنے والے دنوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
پاکستان کی سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناو¿ اور داخلی سیاسی و معاشی اصلاحات مرکزی موضوعات رہے ہیں۔ اس وقت وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں اتحادی حکومت قائم ہے۔ حال ہی میں ایک اہم پیش رفت میں حکومت کو اپنی حلیف جماعت پیپلز پارٹی کے احتجاج کے باعث ایک صدارتی آرڈیننس واپس لینا پڑا، جس سے اتحادی جماعتوں کے درمیان قانون سازی پر اختلافِ رائے ظاہر ہوتا ہے۔ اپوزیشن بینچوں پر پی ٹی آئی کے ارکان فعال ہیں جو مسلسل اپنے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر کا عمل بالآخر شروع کیا گیا ہے اور محمود خان اچکزئی کا نام اس منصب کے لیے زیرِ بحث ہے دیکھیں آنیوالے دنوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔وفاقی حکومت نے سال 2026 ءکو”اصلاحات کا سال“ قرار دیا ہے جس کا مقصد معاشی ترقی، نجکاری اور عدالتی و سول سروس اصلاحات کے ذریعے ملک کو مستحکم کرنا ہے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا یہ بیان کہ جدید طیاروں کے بڑھتے ہوئے آرڈرز کی بدولت پاکستان کی دفاعی صنعت ملکی معیشت کو آئی ایم ایف (IMF) پر انحصار سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے انتہائی حوصلہ افزا اور مایوسی کی گھڑیوں میں امید کی کرن ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ مجموعی طور پر 2026ءکی سیاست میں حکومت استحکام کے لیے کوشاں جبکہ اپوزیشن احتجاج اور سیاسی حقوق کی جنگ لڑتی نظر آئے گی۔
 2024ءکے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والا سیاسی ڈھانچہ تاحال مختلف چیلنجز کا شکار ہے۔ مخلوط حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناو¿ نے سیاسی عدم استحکام پیدا کر رکھا ہے۔ ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو مذکرات کی میز پر آنا ہو گا۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے انتخابی شفافیت پر تحفظات اور احتجاجی سیاست نے پارلیمانی ماحول کو گرم رکھا ہوا ہے جبکہ حکومت اپنی توجہ معاشی بحالی پر مرکوز رکھنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ پاکستان کی سیاست براہِ راست معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کے پروگراموں کی شرائط، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ نے عوامی سطح پر بے چینی پیدا کی ہے جس کا فائدہ اپوزیشن جماعتیں اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاری (خاص طور پر SIFC کے ذریعے) کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں عدلیہ کے فیصلے اور اسٹیبلشمنٹ کا غیر سیاسی رہنے کا بیانیہ ہمیشہ بحث کا مرکز رہا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت سیاسی کیسز اور آئینی ترامیم کے معاملات نے ملکی سیاست کے رخ کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ طاقت کے توازن کی یہ جنگ اکثر سیاسی عدم استحکام کا سبب بنتی ہے ہمارے سیاستدان جتنی جلد یہ حقیقت سمھ لیں اتنا ہی بہتر ہے۔ 
 وفاقی دارالحکومت میں 15 فروری 2026ءکو شیڈول بلدیاتی انتخابات ایک نئے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ملتوی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد کافی عرصہ سے نہیں ہوا‘ اس سلسلے میں اعلانات تو ہوتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ عوامی مسائل نچلی سطح پر حل کرنے کیلئے بلدیاتی الیکشن از حد ضروری ہیں۔ پاکستان کو اس وقت داخلی دہشت گردی کی لہر، صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور انتخابی اصلاحات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جب تک تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز ایک ”میثاقِ معیشت“ یا ”میثاقِ جمہوریت“ پر متفق نہیں ہوتے، سیاسی استحکام کا خواب ادھورا رہے گا۔ پاکستان کی موجودہ سیاست 2026 ءکے آغاز میں بھی ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے جہاں پرانی روایات اور نئی سیاسی لہروں کے درمیان ٹکراو¿ واضح ہے۔ ملک کی بقا اور ترقی کا دارومدار سیاسی انتقام کے خاتمے اور جمہوری اداروں کی مضبوطی پر ہے۔عوام کی اکثریت بالخصوص تنخوادہ دار طبقہ کیلئے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا روزبروز مشکل ہو رہا ہے۔ ایسے میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے مخالفانہ سیاسی بیانات سن سن کروہ اکتا گئے ہیں اور یہ سیاسی رویے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ عوامی نمائندوں کوعوامی مسائل کے حل کی بجائے اپنے لیڈروں کی فکر ہے اور وہ ان کی خوشنودی کیلئے ہر کام کر رہے ہیں۔جنوری کی سرد شاموں میں ایک شام عوام کے نام کر دی جائے تو سرد موسم میں گرم سیاست کا خاتمہ ممکن ہے۔

مزیدخبریں