سامراج کی نئی شکل، نئے بہانے!

09:03 AM, 14 Jan, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ اُس شیش محل جیسی ہے جس کے بلوری ٹکروں میں ہر عکس موجود ہے مگر کوئی شبیہ مکمل نہیں۔ زبان پر امن کے ترانے ہیں، مگر قدموں کی آہٹ میں بارود کی بو رچی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ خود کو تاریخ کا وہ مسافر ثابت کرنے پر تلے ہیں جو آٹھ جنگوں کے ملبے پر سفید کبوتر چھوڑ آیا ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں امن کی شمع نہیں، طاقت کی مشعل ہے جو جہاں رکتی ہے، وہیں دھواں چھوڑ جاتی ہے۔ ٹرمپ بار بار اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کے آٹھ بڑے تنازعات سمیٹ اور لپیٹ دیئے ہیں۔ اسرائیل اور حماس، اسرائیل اور ایران، پاکستان اور بھارت، کانگو اور روانڈا، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا، آرمینیا اور آذربائیجان، مصر اور ایتھوپیا، سربیا اور کوسوو۔ فہرست طویل ہے اور دعویٰ اس سے بھی زیادہ بلکہ شیطان کی آنت سے بھی لمبا۔ وہ خود کو ”امن کا صدر“ کہتے ہیں اور نوبل انعام کا خواب یوں دیکھتے ہیں جیسے یہ ان کے صدارتی دفتر کی کسی دراز میں پہلے سے رکھا ہو۔ مگر جب اس خواب کی تعبیر کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو سونے کی جگہ پیتل نکل آتا ہے۔ کئی تنازعات تو سرے سے جنگ ہی نہیں تھے، کچھ فائلوں میں دبے ہوئے اختلافات تھے اور کچھ ایسے جھگڑے جن کی آگ وقتی بارش سے بجھی مگر راکھ کے نیچے چنگاری زندہ رہی۔ کانگو اور روانڈا میں معاہدوں کے بعد پھر خون بہا، مصر اور ایتھوپیا کا معاملہ سفارتی میزوں پر ہی اٹکا رہا، اور سربیا و کوسوو کا زخم پرانا ضرور ہے مگر تازہ جنگ میں کبھی نہیں ڈھلا۔ معتبر ادارے اور غیر جانب دار مبصرین ان دعوو¿ں کو مبالغے کی ردا اوڑھے سیاسی خطابت قرار دیتے ہیں۔ 
لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ وہ رخ جس پر طاقت کی لکیریں گہری ہیں اور سفارت کے رنگ مدھم ہیں۔ وینزویلا میں جنوری 2026 کا واقعہ محض ایک سیاسی قدم نہیں تھا بلکہ عالمی ضمیر کے سینے پر رکھا گیا ایک وزنی پتھر تھا۔ امریکی فوجی کارروائی، کاراکاس کی فضاو¿ں میں گونجتی دھماکوں کی آوازیں، صدر نکولس مدورو کی گرفتاری اور پھر اہلیہ سمیت پابجولاں نیویارک منتقلی قرون وسطیٰ کی کسی شتر بے مہار سلطنت کے سنگ دلانہ اقدام سے مختلف نہ تھی۔ پھر وہ بے ساختہ اعلان کہ امریکہ وینزویلا کو چلائے گا اور اس کے تیل پر اختیار رکھے گا۔ یہ سب کچھ سن کر یوں محسوس ہوا جیسے لاطینی امریکہ کی تاریخ کے زخم پھر سے ہرے ہو گئے ہوں اور سامراجی یادیں قبروں سے نکل کر بولنے لگی ہوں۔ اس اقدام نے دنیا میں بالعموم اور لاطینی امریکہ میں بالخصوص استحکام نہیں، انتشار اور مزاحمت کو جنم دیا۔
ایران کے معاملے میں بھی ٹرمپ کی پالیسی وہی پرانی تلوار ہے جس پر ”انتہائی پریشر“ کا عنوان کندہ ہے۔ جوہری معاہدے سے علیحدگی، سخت پابندیاں اور اب کھلے اشارے کہ اگر اندرونی احتجاج میں تشدد بڑھا تو عسکری کارروائی کا حکم نامہ بھی میز پر رکھا ہے۔ یہ حکمت عملی امن کی شاہراہ نہیں، محاصرہ کی تنگ گلی ہے، جہاں ہر قدم خطے کو ایک نئے تصادم کے قریب لے جاتا ہے۔
گرین لینڈ پر نظریں جمائے یہ کہنا کہ اسے ایک نہ ایک صورت میں امریکہ کا حصہ بنایا جائے گا، سفارتی آداب سے زیادہ طاقت کی زبان ہے۔ ڈنمارک جیسے اتحادی کو دی جانے والی یہ دھمکیاں آرکٹک کے برفانی میدانوں میں ایک نئی سرد جنگ کے بیج بو رہی ہیں اور نیٹو جیسے اتحاد کے اندر دراڑیں ڈال رہی ہیں۔ کیوبا اور کولمبیا بھی اس فہرست سے باہر نہیں۔ کیوبا پر معاشی شکنجہ، وینزویلا کے تیل کی سپلائی روکنے کی کوششیں اور کولمبیا کے صدر پر الزامات کی بوچھاڑ۔۔۔ یہ سب لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کی حکومتوں کے خلاف اس جارحانہ مزاج کا اظہار ہے جو مکالمے کی بجائے دباو¿ کو ترجیح دیتا ہے۔ حتیٰ کہ کینیڈا بھی اپنے دیوہیکل پڑوسی کے اس لب و لہجے سے محفوظ نہیں۔ کبھی 51ویں ریاست بنانے کا شوشہ اور کبھی ٹیرف کے ذریعے معاشی دباو¿۔ یہ سب شمالی امریکہ میں ایک غیر ضروری کشیدگی کو جنم دے رہا ہے، جہاں سرحدیں تو دوستانہ ہیں مگر بیانات میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔
غزہ کا المیہ تو جیسے اس پالیسی کی سب سے دردناک تصویر ہے۔ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت، فلسطینیوں کے حقوق سے صرف نظر اور غزہ کو ملبے کا ڈھیر بننے دینا۔ عارضی جنگ بندی کی کوششیں ہوئیں، مگر بنیادی زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا۔ یوں امن ایک دور کا خواب بن کر رہ گیا۔ معاشی محاذ پر بھی جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر پر ٹیرف کا جال پھیلادیا گیا ہے، چین سے یورپ تک اور کینیڈا سے برازیل تک۔ دس فیصد سے لے کر سو فیصد تک کے محصولات، جنہیں “لبریشن ڈے” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات امریکی معیشت کے لیے بھی وبال بنے اور عالمی تجارت کے لیے بھی زلزلہ ثابت ہوئے۔ 
ان تمام مناظر کے بیچ صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ وہ جنگیں ختم کر رہے ہیں، ایک تلخ طنز محسوس ہوتا ہے۔ پرانی آگ کے بجھنے کا کریڈٹ لینا اور نئی چنگاریاں سلگاتے چلے جانا۔ وینزویلا، گرین لینڈ، ایران، لاطینی امریکہ اور تجارتی جنگیں۔ یہ سب وہ راستے ہیں جو دنیا کو امن سے نہیں، اضطراب سے ہم کنار کر رہے ہیں۔ طاقت اور دھونس وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ راستہ بالآخر تنہائی پر منتج ہوتا ہے۔ امن کی بنیاد مذاکرات، احترام اور انصاف پر رکھی جاتی ہے، دھمکیوں اور جارحیت پر نہیں۔ یہی وہ سبق ہے جسے نظر انداز کیا جائے تو عالمی استحکام ایک سراب بن جاتا ہے اور یہی وہ تضاد ہے جو اس پالیسی کے ہر صفحے پر ثبت نظر آتا ہے۔
قارئین کرام! حقیقت یہی ہے کہ دنیا بدل گئی لیکن سامراج کا مزاج، اطوار اور ارادے اب بھی نہیں بدلے۔گزشتہ ایک برس میں دنیا نے جو کچھ دیکھا اور برداشت کیا، وہ سب سامراج کی نئی شکل اور نئے بہانے ہیں۔سامراج کے ارادے اب بھی وہی ہیں۔

مزیدخبریں