امریکی عزائم اور عالمی نظام کا خاتمہ

09:03 AM, 14 Jan, 2026

ویت نام کی جنگ 1955-1975ءامریکی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ اس جنگ نے امریکی شہریوں کی نفسیات پر اثرات مرتب کئے۔ امریکی سیاست بھی متاثر ہوئی۔ اس جنگ میں 111 ارب ڈالر خرچ ہوئے جو آج کے حساب کتاب کے مطابق 700 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ جنگی اخراجات زیادہ تر امریکی حکومت نے برداشت کئے۔ 1979ءمیں امریکی کانگریس ریسرچ سروس نے اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق 69 ارب ڈالر ملٹری آپریشن، 13 ارب ڈالر جنوبی ویت نام کی امداد کی مد میں، 6 ارب ڈالر جنوبی ویت نام کی فوجی امداد بشمول ہتھیار وغیرہ کی مد میں ، 5ارب ڈالر مہاجرین اور سویلین آبادکاری کی مد میں اور 5 ارب ڈالر عسکری سرگرمیوں بشمول ٹریننگ وغیرہ کی مد میں خرچ کئے گئے۔ امریکی حکومت نے یہ جنگی اخراجات زیادہ تر قرض حاصل کر کے پورے کئے۔ ان قرضوں پر سالہا سال تک سود بھی ادا کیا جاتا رہا جس کی مجموعی مقدار 141 ارب ڈالر بنتی ہے۔ گویا جنگ پر مجموعی طور پر 111+141=252 ارب ڈالر کے اخراجات اٹھے۔ 52ہزار سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔ 41ہزار فوجی براہ راست جنگی مشقوں میں مارے گئے جبکہ 5ہزار جنگی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ 9ہزار سے زائد فوجی حادثات میں مارے گئے جبکہ 12سو فوجی دیگر وجوہات کی بنیاد پر ہلاک ہوئے۔ ڈیڑھ لاکھ فوجی زخمی ہوئے جبکہ 1600 گمشدہ قرار پائے۔ اس جنگ کی ہلاکت خیزیوں نے امریکی معیشت و سیاست پر ہی منفی اثرات مرتب نہیں کئے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی بگاڑ پیدا ہوا۔ اس جنگ میں ناکامی سے امریکی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔
9/11 کے بعد شروع کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیس سال کے دوران 2001-2021ءکے دوران جنگ پر 8ہزار ارب ڈالر خرچ کئے گئے۔ جنگ میں مجموعی طور پر 80 ممالک شریک ہوئے۔ 897,000 تا 929,000 افراد ہلاک ہوئے جس میں امریکی فوجی، ان کے خلاف لڑنے والے، امددی ورکرز، جرنلسٹس و دیگر شامل تھے، زخمی ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے، املاک اور انفراسٹرکچر کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔
اکتوبر 7، 2001ءمیں امریکہ نے افغانستان میں ملٹری آپریشن شروع کیا جو بیس سال 2021ءتک جاری رہا، امریکی طالبان کو شکست نہ دے سکے حتیٰ کہ 20سال بعد جب امریکی اتحادی فوجی یہاں سے رخصت ہوئے تو کابل پر ایک بار پھر طالبان کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس جنگ میں 832,000 امریکی فوجی اور 25,100 ڈیفنس ڈپارٹمنٹ کے سویلین لوگ شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ ہزاروں امریکی ٹھیکیداروں نے بھی ان امریکیوں کے ساتھ شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لیا۔ اس جنگ میں 2456 امریکی فوجی ہلاک، 3923 وزارت دفاع و سویلین ٹھیکیدار بھی ہلاک ہوئے۔ 20,770 فوجی زخمی ہوئے۔ اس جنگ میں 2261 ارب ڈالر مختلف مدات میں خرچ ہوئے، اس طرح یہ مہنگی ترین جنگ ثابت ہوئی۔ امریکی اپنے مقاصد حاصل کر پائے یا نہیں اس بارے میں دو رائے ہو سکتی ہیں لیکن امریکی افغانستان پر طالبان کے تسلط کا خاتمہ نہیں کر سکے۔ طالبان آج بھی کابل پر حکمران ہے۔ داعش بھی پروان چڑھی ہوئی ہے۔ القاعدہ بھی ہے۔ ٹی ٹی پی بھی ہے اور اس طرح کی بیسیوں دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین پر رہ کر خطے میں دہشت گردی کر رہی ہیں۔ امریکہ بیان بازی کرتا رہتا ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف امریکی دہشت اور وحشت میں کمی کی اور امریکی ساکھ کو شدید متاثر کیا بلکہ اسی دوران چین ایک طاقتور معاشی قوت کے طور پر ابھرا اور عالمی منظر پر چھا گیا ہے۔ امریکہ اپنی دہشت بٹھانے کے لئے کبھی ایران پر بمباری کا ڈرامہ رچاتا نظر آتا ہے اور کبھی وینزویلا پر حملہ آور ہو کر دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے کی سعی کر رہا ہے۔ اس بارے میں تو کسی کو شک نہیں ہے کہ امریکہ زوال پذیر ہے، اس کی ساکھ کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ امریکہ ایک طاقتور ملک کے طور پر اخلاقی جواز کھو رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی دھاک بٹھانے کے لئے جو حرکتیں کر رہے ہیں۔ عالمی قوانین اس کی توثیق نہیں کر سکتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وینزویلا پر حملہ کی امریکی کانگریس نے بھی تائید کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ طاقت کے استعمال کا اخلاقی جواز کھو چکا ہے۔ ویت نام کی جنگ (1955-75ئ) کی شکست سے لے کر جنگ افغانستان (2001-21ئ) تک امریکی عسکری شکستوں نے امریکہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ پانامہ آپریشن (دسمبر 1989، جنوری 1990) میں جنرل نوری ایگا کی گرفتاری سے لے کر وینزویلا آپریشن 2025ءمیں صدر و اس کی بیوی کو اغوا کرنے تک امریکی طاقت کے استعمال کا اخلاقی جواز پامال ہوتے ہوتے ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ امریکی ایکشن کو صدر ٹرمپ کے علاوہ شاید ہی کوئی حکمران ہو گا جو اس کی حمایت اور جواز پیش کرتا ہے۔ امریکی حکمرانوں نے بالعموم اور ٹرمپ نے بالخصوص مسئلہ فلسطین پر جس طرح صہیونی ریاست کی تائید و مدد کی ہے۔ وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ 2سالہ غزہ کی جنگ میں صہیونی حکمران نیتن یاہو نے جس بربریت و سفاکی کا مظاہرہ کیا وہ انسانیت سوز بھی ہے اور قابل مذمت بھی لیکن جو کچھ ٹرمپ نے کیا، وہ ذلت آمیز بھی ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی بے بسی بھی قابل شرم تھی۔ اقوام متحدہ جن مقاصد کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ وہ حاصل ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ طاقت کی حکمرانی ہے اور کمزور کی محکومی نے عالمی نظام کی بے بسی ظاہر کر دی ہے۔ امریکہ و اسرائیل اب کھلے عام آزاد ممالک پر حملہ آور ہونے اور قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے 
رہے ہیں۔ امریکہ وینزویلا کا انتظامی کنٹرول سنبھالنے کے بعد گرین لینڈ اور کیوبا پر حملہ کرنے کی باتیں کر رہا ہے۔ ایران پر امریکی و اسرائیل حملے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ چین تائیوان پر اپنا دعویٰ رکھنے کے باوجود حملہ آور نہیں ہوا ہے۔ روس نے تو یوکرائن پر حملہ کر کے اس کے علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔ عالمی نظام شاید آخری سانسیں لے رہا ہے۔ امریکہ نے قائم عالمی اداروں کی مالی امداد کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ ایسے 33اداروں میں 13اقوام متحدہ کے زیرانتظام ہیں۔ اب یہ ادارے کیسے چلیں گے، کسی کو معلوم نہیں۔ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ مجھے کوئی عالمی ادارہ کچھ بھی کرنے سے نہیں روک سکتا ہے۔ ہاں صرف میرا اپنا ضمیر ہی مجھے کچھ کرنے یا نہ کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ گویا طاقت ہی راج کرے گی، کمزور پنپ نہیں سکے گا۔ ایسے ہی افکار اور خیالات نے دو عظیم جنگوں کو جنم دیا تھا۔ اب بھی تیسری عالمی جنگ کے سائے بڑھتے اور پھیلتے نظر آرہے ہیں۔ بھارت مودی سرکار کی سرپرستی میں پاکستان سے بدلہ لینے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ دھڑا دھڑ اسلحہ خریدا جا رہا ہے۔ مودی سرکار پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ آپریشن سندور جاری ہے، ختم نہیں ہوا ہے گویا پاکستان سے بدلہ لینے اور مئی 2025ءکی شکست کا داغ دھونے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔

مزیدخبریں