کابل /اسلام آباد : معروف عالمی جریدے "ایشیا ٹائمز" نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال کو علاقائی امن کے لیے "ٹائم بم" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت نے ملک کو داخلی جبر اور سرحد پار دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ (UN) کے مستند اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر اس وقت مختلف بین الاقوامی اور علاقائی عسکریت پسند تنظیموں کے ہزاروں غیر ملکی جنگجو سرگرم ہیں۔ ان جنگجوؤں کی موجودگی نے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پوری دنیا کی سلامتی کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کے واقعات میں حالیہ مہینوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان سرحد پار حملوں میں درج ذیل پہلو نمایاں رہے۔ غیر ملکی شہریوں کا قتل: دہشت گردی کی لہر میں غیر ملکی ماہرین اور شہریوں کو دانستہ نشانہ بنایا گیا۔ معاشی نقصان: خطے کی اہم اقتصادی تنصیبات پر حملے کر کے ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔
"ایشیا ٹائمز" نے افغان طالبان کے داخلی طرزِ حکمرانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ "افغانستان میں مذہب کی سخت گیر تشریح کو سیاسی طاقت کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا ریاستی ڈھانچہ بنایا گیا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے طالبان دور میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سفارش کی ہے کہ افغانستان کو "خصوصی تشویش کا ملک" قرار دیا جائے۔ یہ درجہ بندی عام طور پر ان ممالک کے لیے کی جاتی ہے جہاں مذہبی اور انسانی حقوق کی منظم طریقے سے پامالی ہو رہی ہو۔
افغانستان عالمی عسکریت پسندی کا نیا گڑھ، پاکستان میں دراندازی اور سرحد پار حملوں میں اضافہ: "ایشیا ٹائمز" کی رپورٹ
06:31 PM, 14 Feb, 2026