ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں حالیہ عام انتخابات کے نتیجے میں آنے والی سیاسی تبدیلی نے جہاں ملک کو نیا رخ دیا ہے، وہی معاشی محاذ پر 'ٹیکسٹائل انڈسٹری' کی بحالی نئی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔ مسلسل چھ ماہ سے گرتی ہوئی برآمدات اور عالمی برانڈز کے اکھڑتے ہوئے قدموں نے ملکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
دہائیوں بعد ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت 'عوامی لیگ' انتخابی میدان سے غائب تھی، جس پر سیاست کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا جب شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا کے بغیر بی این پی اور جماعت اسلامی ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر آمنے سامنے تھیں۔ ماہرین اسے 1991 کے بعد پارلیمانی جمہوریت کا حقیقی امتحان قرار دے رہے ہیں، جہاں جماعت اسلامی ایک بڑی سیاسی دعویدار کے طور پر سامنے آئی ہے۔
بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل صنعت، جو کہ ملک کی جی ڈی پی کا 10 فیصد سے زائد ہے، اس وقت بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔امریکی ٹیرف میں اضافے اور سیاسی بدامنی نے برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صنعت سے وابستہ 40 لاکھ ملازمین میں اکثریت خواتین کی ہے، جن کی معاشی زندگی اب براہِ راست نئی حکومت کی پالیسیوں سے جڑی ہوئی ہے۔
گارمنٹس سیکٹر کے مالکان اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدہ ایک اچھا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن اس کی کامیابی اہم تفصیلات پر عمل درآمد میں چھپی ہے۔ صنعت کاروں نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں فوری سیاسی استحکام پیدا کیا جائے تاکہ بیرونی خریداروں کا اعتماد بحال ہو۔ بینکنگ سیکٹر اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ پیداواری لاگت میں کمی ہو۔ مزدوروں کے لیے ایک پائیدار اجرت کا فریم ورک تیار کیا جائے تاکہ صنعت کو ہڑتالوں سے بچایا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں (بی این پی اور جماعت اسلامی) نے اپنے منشور میں یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ معیشت کا سارا بوجھ صرف گارمنٹس پر نہیں ڈالیں گے، بلکہ دیگر صنعتوں میں بھی تنوع لائیں گے تاکہ عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے ملک کو محفوظ رکھا جا سکے۔ بنگلہ دیش کے لیے یہ الیکشن محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ معاشی استحکام کا ایک آخری موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری اور برآمد کنندگان کی نظریں اب نئی حکومت کے ان اقدامات پر ہیں جو وہ فیکٹریوں کے پہیے کو دوبارہ تیزی سے گھمانے کے لیے اٹھائے گی۔
بنگلہ دیش میں اقتدار کی تبدیلی اور معاشی بقا کی جنگ: کیا نئی حکومت 40 لاکھ گارمنٹس ورکرز کا مستقبل بچا پائے گی؟
04:20 PM, 14 Feb, 2026