سوشل میڈیا پر ہماری فکری شکست

09:15 AM, 14 Dec, 2025

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں سیاست صرف پارلیمان کی بحث یا ٹی وی پر ہونے والے ٹاک شوز تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ اب ہمارے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے موبائل فون کی اسکرینوں پر چلنے والی ریلز، میمز، لائیوز، اسٹوریز، اسٹیٹس، ٹویٹس اور وائرل کلپس میں گْھس چکی ہے۔ سیاست نے ہماری توجہ، ہمارے روزمرہ کے احساسات اور ہمارے رشتوں تک کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔ یہ وہ عہد ہے جہاں ایک عام شخص، چاہے اسے آئین کی ابتدائی شقوں کا بھی علم نہ ہو، ریاستی ذمہ داریوں کا، جماعتی منشور کا، یا حکومتی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کا کوئی واضح ادراک نہ ہو، اس انداز میں گفتگو کرتا ہے جیسے ریاست کا واحد مشیرِ اعلیٰ وہی ہو۔ یہ خود اعتمادی نہیں بلکہ ایک ایسے غیر محسوس فریب کا حصہ ہے جو سوشل میڈیا نے ہماری سوچ کو تھما دیا ہے۔سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ایک ایسا اسٹیج دے دیا ہے جس پر وہ بیک وقت اداکار بھی ہے اور تماشائی بھی۔ اس نے ہر شہری کو یہ گمان بخش دیا ہے کہ اس کی رائے کو ضرور سنا جائے گا، چاہے اس رائے کی بنیاد کمزور ہو یا خالی جذبات پر کھڑی ہو۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جدید ذرائع گفتگو سے مکالمے کے دروازے کھلتے لیکن ہوا یہ کہ جذبات کی شدت نے دلیل کو خاموش کر دیا۔ ہماری سیاسی گفتگو اب فہم کے بجائے اشتعال پر قائم ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ انسان کو سچ کے قریب نہیں بلکہ اس کے مخالف سمت میں لے جاتا ہے۔جب رائے کی آزادی جذبات کے طوفان میں بہنے لگے تو مکالمہ مر جاتا ہے اور معاشرہ شور کی گرفت میں آ جاتا ہے۔
ماضی میں لوگ بحث میں ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اختلاف پایا جاتا تھا مگر دلیل کے ساتھ۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ آج ہر شخص اپنے عقائد، اپنی جماعت، اپنے پسندیدہ سیاسی چہرے کو اس قدر حتمی سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ خود سے مختلف آواز کو برداشت ہی نہیں کر پاتا۔ ہماری سوچ نے اپنے گرد ایک ایسا دائرہ کھینچ لیا ہے جس میں داخلے کی اجازت 
صرف ان لوگوں کو ہے جو ہمارے جیسے سوچتے ہیں اور ہمارے جیسے بولتے ہیں۔ اس دائرے کے باہر کوئی بھی قدم رکھے تو اسے فوراً رد کر دیا جاتا ہے اور یہ رد اکثر دلیل نہیں بلکہ تلخی اور جارحیت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔یہ سوشل میڈیا کا سیاسی کلچر آج ہمارے گھروں تک پھیلا ہے۔ ایک اسٹیٹس، ایک میم، ایک خبر کا کلپ یا کسی واقعے پر ایک ذاتی رائے رشتے توڑ دیتی ہے۔ کچھ لوگ گھر والوں کے ساتھ نہیں بیٹھتے مگر سیاسی مباحثے میں ایک دوسرے کی آوازیں دبا دیتے ہیں۔ "یہ فلاں جماعت کا ہے"، "یہ غدار ہے"،یہ وہ لیبل ہیں جو ایک دوسرے کے لیے سیکنڈوں میں تیار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے لیے انسان کی رائے اہم نہیں رہی بلکہ وہ کس جماعت کا حمایتی ہے، اس سے سارے فیصلے وابستہ ہو چکے ہیں۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی سیاسی شناخت کو اپنی سماجی شناخت پر مقدم کرنے لگے ہیں۔ ہمیں سنایا جانا تو پسند ہے مگر ہم سننے کی طاقت کھو بیٹھے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات وزن رکھے مگر دوسروں کی بات کو ہم خود ہلکا بنا دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر کوئی اپنی رائے کے ہتھیار سے لیس ہے اور اسے استعمال کرنا ہی جمہوریت سمجھتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاسی شعور کو بگاڑ رہی ہے بلکہ معاشرے میں بھی ایک عجیب بے ترتیبی کو جنم دے رہی ہے۔ہماری گفتگو میں اب شور زیادہ اور سوچ کم ہے۔ ہمارا مقصد اب مسئلے کا حل نہیں بلکہ اپنے پسندیدہ بیانیے کو آگے بڑھانا ہے۔ ہم جھوٹ کو اتنی بار سنتے ہیں کہ وہ ہمیں سچ لگنے لگتا ہے اور اس چھوٹے سے چھید کو نہیں دیکھ پاتے جس میں سے ہماری اجتماعی اخلاقیات روز بروز خارج ہوتی جا رہی ہیں۔ سیاست کبھی ریاستی مسائل کے حل کا ذریعہ تھی لیکن اب یہ صرف نیوز فیڈ کی اپ ڈیٹس کا حصہ ہے جہاں ہیش ٹیگز زیادہ طاقتور ہیں اور مکالمہ کمزور۔ جہاں غصہ تیزی سے وائرل ہوتا ہے اور حقیقت کہیں اس کے نیچے دب جاتی ہے۔پاکستانی سیاسی جماعتوں نے بھی اس نئے ماحول میں اپنے کردار کو بیشتر مواقع پر ذمہ داری سے نہیں نبھایا۔ منشور، سیاسی روایات اور پالیسی کی بحث آہستہ آہستہ منظر سے ہٹتی گئی اور اس کی جگہ سیاسی بیانیے نے لے لی جو اکثر قیادت کی شخصیت کے گرد گھومتے ہیں نہ کہ عوامی مسائل کے گرد۔ جب جماعتیں اپنے کارکنوں کو نظریہ، برداشت اور مکالمہ نہیں سکھاتیں تو میدان میں وہی سیاسی کارکن اترتے ہیں جو اختلاف کو دشمنی سمجھتے ہیں اور تنقید کو غداری۔ یوں سیاسی انتہاپسندی ایک جماعت یا ایک طبقے تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے میں جڑ پکڑ لیتی ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کے سیاسی استعمال نے ہمیں ایسا معاشرہ بنا دیا ہے جہاں ہم تیزی سے ری ایکٹ کرتے ہیں۔ جہاں ہم سنسنی خیزی کو تجزیے پر، وائرل مواد کو تحقیق پر اور جذبات کو شعور پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرہ خاموشی سے بکھرنے لگتا ہے اور ہم اس بکھراؤ کو محسوس نہیں کر پا رہے کیونکہ ہماری توجہ کا مرکز وہ شور ہے جو ہمیں مسلسل مصروف رکھتا ہے۔اگر ہم نے یہ رویہ نہ بدلا تو یہ معاشرہ ایک ایسے مقام پر جا کھڑا ہو گا جہاں آوازیں تو بہت ہوں گی مگر زبانیں خاموش۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سن نہیں سکیں گے۔ جہاں اختلاف کرنے کی آزادی موجود ہوگی لیکن اختلاف برداشت کرنے کا ظرف ناپید ہو جائے گا۔اور یہ سب صرف سیاسی مسئلہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک اور گہرا بحران ہے اخلاقی تربیت کا بحران۔ہماری نئی نسل کی تربیت میں برداشت، شائستگی، مکالمہ، سچائی، تحقیق اور ادب کی وہ بنیادیں کمزور ہوتی گئیں جن پر مضبوط معاشرے کھڑے ہوتے ہیں۔ جب تربیت کمزور ہو جائے تو جذبات دلیل پر قابو پا لیتے ہیں، سیاسی وابستگیاں نظریات نہیں بلکہ نفسیاتی سہارا بن جاتی ہیں اور اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ جب تربیت کمزور ہو تو سوشل میڈیا دانشور پیدا کرتا ہے مگر دانش نہیں۔لہٰذا ضرورت صرف سیاسی اصلاح کی نہیں بلکہ اخلاقی تربیت کی تجدید کی بھی ہے۔ جب ہم سچائی، بردباری، تحقیق، مکالمہ اور شائستگی کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں گے تو سیاسی گفتگو بھی صحت مند ہو گی اور معاشرہ بھی مضبوط ہو گا۔ ورنہ ہم ایک ایسے پاکستان کے باسی بنے رہیں گے جو آوازوں سے بھرا مگر اخلاقی طور پر خاموش ہو چکا ہے۔

مزیدخبریں