ہماری زندگیو ں کو خطرے میں نہ ڈالیں

09:13 AM, 14 Dec, 2025

یہ کیسا تضاد ہے کہ ایک ہی حکومت ایک ہی وقت میں دو بالکل الٹ سمتوں میں چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایک طرف ہماری پنجاب حکومت روزانہ کی بنیاد پر اخبارات، ٹی وی اور سڑکوں پر یہ پیغام دے رہی ہے کہ شہریوں کی جان اس کے لیے بہت زیادہ قیمتی اور اہم ہے، اسی بات کوبنیاد بنا کر ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، خلاف ورزی کرنے والوں کو حوالاتوں میں ٹھونسا جا رہا ہے، جرمانے بڑھا دیے گئے ہیں، موٹر سائیکلیں ضبط ہو رہی ہیں اورنوجوانوں کو روک روک کر سمجھایا جا رہا ہے کہ ہیلمٹ آپ کی زندگی بچاتا ہے۔ تو دوسری طرف اسی حکومت نے ایک ایسے تہوار کے لیے دوبارہ اجازت دینے کا عندیہ دے دیا ہے جو ماضی میں سینکڑوں زندگیاں نگل چکا ہے، جس کی تاریخ خون، آنسووں اور مائوں کی آہوں سے بھری پڑی ہے۔
 بسنت، جسے کبھی رنگوں اور خوشیوں کا تہوار کہا جاتا تھا اور بہار کی آمد کا اعلان سمجھا جا تا تھا موجودہ رنگ ڈھنگ میں ایک ایسا قاتل تہوار بن چکا ہے جو مردوں، عورتوں اور معصوم بچوں کی ہلاکت کا سبب بن رہا ہے ۔
یہ بات سمجھنے کے لیے کسی بڑے فلسفے یا مشکل دلیل کی ضرورت نہیں، بس تھوڑا سا سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف پنجاب حکومت پورے زور و شور سے یہ کہہ رہی ہے کہ شہریوں کی جان اس کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے سڑکوں پر ناکے لگے ہیں، موٹر سائیکل سواروں کو روکا جا رہا ہے، ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانے ہو رہے ہیں، بعض جگہ موٹر سائیکلیں بھی بند کر دی جاتی ہیں، اخبارات اور ٹی وی پر پیغامات چل رہے ہیں کہ ہیلمٹ زندگی بچاتا ہے، ماں باپ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہیلمٹ پہننے کی تلقین کریں، نوجوانوں کو ڈرایا بھی جا رہا ہے اور سمجھایا بھی جا رہا ہے اور حکومت کا موقف ہے کہ یہ سب کچھ شہریوں کی حفاظت کے لیے کیا جا رہا ہے۔لیکن دوسری طرف اسی پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت جیسے تہوار کو دوبارہ اجازت دینے کی بات بھی سامنے آ رہی ہے۔
یہ وہی بسنت ہے جو ماضی میں خوشیوں سے زیادہ موت، خوف اور ماتم کی علامت بن گئی تھی، جس نے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں گھر اجاڑ دیے تھے،جس دن کو مناتے وقت اسپتالوں میں ایمرجنسی لگی ہوتی تھی، اخبارات کی سرخیاں ہلاکتوں کی خبروں سے بھری ہوتی تھیں اور ہر طرف یہی سوال ہوتا تھا کہ آخر یہ سب کب رکے گا؟
موجودہ صورحال میں حکومتی رویوں کایہ تضاد عام آدمی کو پریشان کررہا ہے۔ وہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اگر حکومت واقعی جانوں کے تحفظ میں اتنی سنجیدہ ہے تو پھر وہ ایک ایسے تہوار کی اجازت کیوں دینا چاہتی ہے جس کا انجام سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے؟ یہ کوئی پرانی کہانی نہیں یہ سب اسی ملک میں، اسی صوبے میں، انہی سڑکوں پر ہواہے۔
ہم سب کو یاد ہے کہ بسنت کے دن کیسے ہوتے تھے۔ صبح سے شام تک آسمان میں پتنگیں، چھتوں پر ہجوم، گلیوں میں شور اور سڑکوں پر خوف۔ کوئی بچہ چھت سے نیچے گرا، کسی کی گردن پر کیمیکل لگی ڈور پھر گئی، کوئی موٹر سائیکل سوار اچانک زمین پر گر پڑا کیونکہ اس کے گلے میں قاتل ڈور آ گئی تھی۔ کتنے ہی ایسے لوگ تھے جو صبح گھر سے نکلے اور شام کو واپس نہ لوٹ سکے۔ کتنی ہی ماؤں نے اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھائیں، کتنے ہی بچوں نے اپنے باپ کھوئے، کتنی ہی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے۔ واضح رہے کہ یہ کسی اپوزیشن پارٹی کی پراپیگنڈا مہم کا حصہ نہیں بلکہ یہ سب تو سرکاری ریکارڈ اوراخبارات کی فائلوں میں محفوظ ہے اس کے علاوہ یہ ہماری یادداشتوں کا بھی حصہ ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے ہم دوبارہ اسی راستے پر کیوں چلنا چاہتے ہیں؟۔
سرکاری سطح ُپر کہا تو یہ جا رہا ہے کہ اس بار سب کچھ مختلف ہوگا۔ قوانین سخت ہوں گے، خطرناک ڈور نہیں بننے دی جائے گی، پولیس زیادہ الرٹ ہوگی اور انتظامیہ پوری طرح تیار ہوگی۔ لیکن یہی باتیں تو پہلے بھی کہی جاتی تھیں۔ تب بھی دعویٰ کیا جاتا تھا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے، پھر بھی لاشیں اٹھتی تھیں۔ تب بھی کہا جاتا تھا کہ غیر قانونی ڈور نہیں ملے گی، پھر بھی وہی ڈور بازاروں میں بکتی تھی۔ تب بھی پولیس سڑکوں پر ہوتی تھی، پھر بھی حادثے ہوتے تھے۔
 اگر آج حکومت خود یہ مان رہی ہے کہ لوگ ہیلمٹ نہیں پہن رہے، اگر پولیس کو روزانہ کارروائیاں کرنا پڑ رہی ہیں، اگر جرمانے کے باوجود لوگ باز نہیں آ رہے، تو پھر یہ سوال بالکل فطری ہے کہ بسنت جیسے بڑے اور خطرناک معاملے میں مکمل کنٹرول کیونکر ممکن ہوگا؟۔ ہیلمٹ نہ پہننے سے صرف ایک فرد کی جان کو خطرہ ہوتا ہے، مگر بسنت میں ایک شخص کی لاپرواہی کئی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ایک غلط ڈور اور ایک بے احتیاطی کئی گھروں میں ماتم برپا کر سکتی ہے۔ کیا حکومت اس اجتماعی خطرے کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہے؟۔
یہ سوال وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب سے ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اگر آپ کہتی ہیں کہ آپ شہریوں کی جان کے لیے دن رات فکر مند ہیں تو پھر یہ بتائیں کہ بسنت میں جانوں کی حفاظت کی گارنٹی کون دے گا؟ اگر کوئی بچہ مر گیا، اگر کوئی موٹر سائیکل سوار ڈور کی زد میں آ گیا، اگر کوئی مزدور کام پر جاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟۔
یہاں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا کوئی ثقافت انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے؟ اگر جواب نہیں ہے تو پھر اس روایت پر نظرثانی کرنا ہی عقل مندی ہو گی۔ دنیا کے مہذب معاشرے وہ ہوتے ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر کوئی چیز بار بار نقصان پہنچائے تو اسے روکا جاتا ہے، نہ کہ خوبصورت نام دے کر دوبارہ آزمایا جاتا ہے۔ ہم نے بسنت کو آزما لیا، ہم نے اس کا انجام دیکھ لیا مگر جانے کیوں اب ایک مرتبہ پھر سے اسی تجربے کی ضد کی جا رہی ہے؟۔
اگر حکومت کو واقعی عوام کی زندگیوں کی کوئی پرواہ ہے تو اسے جذبات سے نہیں، حقیقت پسندی سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ ایک طرف ٹریفک قوانین پر سختی اور دوسری طرف بسنت کی اجازت، یہ تضاد عوام کو الجھا رہا ہے۔ اعتماد صرف باتوں سے نہیں بنتا، اچھے اور مثبت فیصلے کر کے دکھانا پڑتے ہیں۔ اگر حکومت ایک سادہ سے قانون پر مکمل عملدرآمد کروانے میں مشکلات کا شکار ہے تو وہ بسنت جیسے خطرناک تہوار میں لوگوں کی جانوں کی حفاظت کیسے کرپائے گی؟ اور اگر اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں تو پھر اس خطرے کو مول لینا دانشمندی نہیں بلکہ ایک سنگین غلطی ہوگی، جس کی قیمت شاید پھر کسی معصوم کو اپنی جان دے کر چکانا پڑے۔

مزیدخبریں