روس کا یوکرین میں فوری جنگ بندی سے انکار، مغربی حمایت کے خلاف کارروائیاں سخت کرنے کا اعلان

05:13 PM, 14 Aug, 2026

ماسکو: روس نے یوکرین میں فوری جنگ بندی کے امکان کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑائی روکنے کے لیے محض عارضی سمجھوتا کافی نہیں ہوگا، بلکہ کسی ایسے پائیدار انتظام کی ضرورت ہے جو تنازع کے مستقل حل کی بنیاد بن سکے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے موجودہ حالات میں فوری جنگ بندی کو ناقابلِ عمل قرار دیا ہے۔

روسی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں سرگئی لاروف نے کہا کہ ماسکو ایسی جنگ بندی کی حمایت نہیں کرے گا جو صرف مختصر مدت کے لیے لڑائی روک دے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کا مقصد ایک ایسے وسیع تر سیاسی حل کی طرف پیش رفت ہونا چاہیے جس سے مستقبل میں دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکانات کم کیے جا سکیں۔

روسی وزیر خارجہ نے یوکرین کی عسکری صلاحیت میں اضافے کے لیے مغربی ممالک کی جانب سے جاری معاونت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو مغرب سے یوکرین کو ملنے والی فوجی مدد اور ان اقدامات کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید سخت کرے گا جو کیف کی جنگی استعداد کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

لاروف نے امریکا پر روس کے خلاف یوکرینی حملوں میں مبینہ طور پر گہری شمولیت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی بھی ان کارروائیوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی تعاون روسی سرزمین پر کیے جانے والے حملوں کی منصوبہ بندی اور انجام دہی میں استعمال ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماسکو نے اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ سے متعدد سوالات کے ذریعے وضاحت طلب کی ہے۔ روسی وزیر خارجہ کے مطابق ان سوالات میں یوکرین کو مبینہ انٹیلی جنس معاونت اور روسی اہداف کے خلاف حملوں میں امریکی کردار سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ روس اب واشنگٹن کے جواب کا منتظر ہے، جبکہ امریکی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

سرگئی لاروف نے تاہم سفارتی رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند کرنے کا عندیہ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کرتا اور اگر امریکی نمائندے یوکرین کے معاملے پر دوبارہ ماسکو آنا چاہیں تو روس ان سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مذاکرات کی صورت میں اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ امریکی نمائندے کیا تجاویز لے کر آتے ہیں۔ ان کے مطابق ماسکو ماضی میں پیش کی جانے والی امریکی تجاویز پر غور کرچکا ہے اور آئندہ بھی کسی سنجیدہ سفارتی پیشکش کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔

لاروف نے مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے جانے والے فوجی سازوسامان کے حوالے سے روسی حکمت عملی بھی واضح کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو یوکرینی فوج کو تقویت پہنچانے والے مغربی ذرائع کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گا اور اس مقصد کے لیے پہلے سے زیادہ سخت طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان براہ راست امن مذاکرات میں طویل تعطل برقرار ہے۔ حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود دونوں فریق جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار اور مستقبل کی سکیورٹی ضمانتوں سمیت کئی بنیادی معاملات پر ایک دوسرے کے قریب نہیں آ سکے۔

ادھر بحیرہ اسود میں بھی کشیدگی کم کرنے کی تجاویز پر ماسکو نے محتاط مؤقف اپنایا ہے۔ روس نے وہاں عارضی جنگ بندی کے خیال کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کو قابلِ قبول نہیں سمجھتا جو صرف ایک فریق کو وقتی طور پر فائدہ یا مہلت فراہم کریں۔

سرگئی لاروف کے تازہ مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ روس فوری اور محدود نوعیت کی جنگ بندی کے بجائے ایک جامع سیاسی سمجھوتے کو ترجیح دے رہا ہے۔ دوسری جانب سفارتی رابطوں کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور ماسکو نے امریکی نمائندوں کے ساتھ مزید بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

مزیدخبریں