امریکی بحریہ ایران کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکتی ہے: پیٹ ہیگسیتھ

05:07 PM, 14 Aug, 2026

واشنگٹن: امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی کو کسی مقررہ مدت کے بغیر جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ خطے میں اپنے جہازوں کی مسلسل گردش کے ذریعے ناکہ بندی کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس ایران کی بندرگاہوں کے گرد بحری موجودگی برقرار رکھنے کے لیے کافی صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت کے مطابق امریکی بحری جہازوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جائے گا اور موجودہ جہازوں کی جگہ نئے بحری یونٹس تعینات کیے جاتے رہیں گے۔

امریکی وزیرِ جنگ کے مطابق بحری جہازوں کی یہ تبدیلی امریکی بحریہ کو طویل مدت تک آپریشن جاری رکھنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا کے پاس ایسی بحری صلاحیت موجود ہے جس کے ذریعے ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

پیٹ ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بحری ناکہ بندی کے ساتھ معاشی اقدامات بھی جاری رکھے جائیں گے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کی حکمت عملی کا مقصد تہران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کرنا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کسی حتمی پیش رفت تک نہیں پہنچ سکے۔

ایران کے خلاف امریکی بحری کارروائی ایسے وقت میں جاری ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی کے باعث تجارتی بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی بحریہ کی طویل تعیناتی کے باعث بحری وسائل پر دباؤ بھی نمایاں ہوا ہے۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے بعد یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ کی جانب بھیجا جا رہا ہے تاکہ بحری موجودگی میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

پیٹ ہیگسیتھ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اپنی معاشی اور بحری دباؤ کی حکمت عملی فوری طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے ضرورت کے مطابق طویل عرصے تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق بحری جہازوں کی مرحلہ وار تبدیلی کے ذریعے اس کارروائی کو مسلسل برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں