نئی دہلی / واشنگٹن : 14 اگست: بھارت کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر عالمی محاذ پر مشکلات سے دوچار ہو گئی ہے، جب امریکہ نے روس کے ساتھ بھارت کے گہرے تجارتی تعلقات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید اقتصادی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مابین ہونے والے مجوزہ مذاکرات ناکام رہے، تو بھارت پر اضافی تجارتی محصولات لگائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ روسی تیل خریدنے کے باعث بھارت پر پہلے ہی 25 فیصد اضافی ڈیوٹی لگائی جا چکی ہے، اور مزید 25 فیصد محصول عائد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یوں بھارت پر مجموعی طور پر 50 فیصد تک تجارتی بوجھ ڈالا جا چکا ہے، جو مستقبل میں اور بھی بڑھ سکتا ہے۔
اس بیان کے بعد بھارت کی اسٹاک مارکیٹس اور تجارتی حلقوں میں شدید اضطراب دیکھا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی بین الاقوامی سفارت کاری اب واضح طور پر غیر متوازن اور ناکام نظر آ رہی ہے۔
روس اور امریکہ کے درمیان یہ اہم ترین ملاقات الاسکا میں متوقع ہے، جس میں یوکرین جنگ اور ماسکو پر عائد معاشی پابندیوں پر غور کیا جائے گا۔ یہ ملاقات 2021 کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی براہِ راست سربراہی ملاقات ہو گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں، بشرطیکہ دونوں ممالک اس پر راضی ہوں۔
بھارت ایک طرف امریکہ کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ روس سے سستا تیل خرید کر اپنے معاشی مفادات کی حفاظت بھی کر رہا ہے۔ تاہم اگر امریکہ اور روس کے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں، تو بھارت کو ان دوہری پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔