ایوان صدر میں سول اور عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازات دینے کی تقریب

02:47 PM, 14 Aug, 2025

اسلام آباد: ایوانِ صدر میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کی نمایاں سول اور عسکری شخصیات کو ان کی خدمات، بہادری اور قومی وفاداری کے اعتراف میں اعلیٰ سرکاری اعزازات دیے گئے۔ اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اعزازات تقسیم کیے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو معرکۂ حق کے دوران انتہائی کٹھن حالات میں غیر معمولی جرأت، جنگی مہارت اور قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرنے پر ’ہلالِ جرأت‘ سے نوازا گیا، جو ملک کا ایک اعلیٰ فوجی اعزاز ہے۔

اسی طرح چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور وزیر دفاع خواجہ آصف کو ’نشانِ امتیاز‘ سے نوازا گیا۔ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو بھی فضائی دفاع میں نمایاں کارکردگی پر ’ہلالِ جرأت‘ دیا گیا۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو معرکۂ حق میں بہترین اطلاعاتی حکمت عملی پر، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو داخلی امن اور اتحاد کے فروغ پر ’نشانِ امتیاز‘ ملا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کا بھرپور دفاع کرنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی ’نشانِ امتیاز‘ دیا گیا، جنہوں نے بین الاقوامی فورمز پر بھارت کی سازشوں کو بے نقاب کیا اور پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

سینیٹر شیری رحمان، فیصل سبزواری، حنا ربانی کھر، خرم دستگیر، جلیل عباس جیلانی، مصدق ملک، طارق فاطمی اور دیگر سفارتی وفد کے ارکان کو بھی ’ہلالِ امتیاز‘ دیا گیا۔

پاک فضائیہ کے پائلٹس ونگ کمانڈر بلال رضا، حماد ابن مسعود، سکوارڈن لیڈر محمد یوسف خان اور دیگر افسران کو دشمن کے خلاف بہادری دکھانے پر ’ستارۂ جرأت‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ شہداء کو بھی بعد از شہادت اعزازات دیے گئے، جن میں تمغۂ جرأت اور ستارۂ بسالت شامل ہیں۔

تقریب میں آئی ایس آئی، آئی ایس پی آر، نیوی، فضائیہ اور دیگر اداروں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افسران کو بھی ان کی شاندار خدمات پر اعزازات دیے گئے۔

آخر میں تقریب کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور ترقی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں وقف کریں گے اور قومی پرچم کو سربلند رکھیں گے۔

 
 

مزیدخبریں