سورۃ البقرۃ میں ہے کہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں اب یہ نہیں پلٹیں گے، جب کوئی شخص کسی معقول بات کو سننے کو تیار ہی نہ ہو تو اس موقع پر یہ جملہ بولا جا سکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ اپنے غلط رویے کو اپنی دانست میں بالکل صحیح اور معقول سمجھتے ہیں، اس کے مقابلے میں مخلص مسلمانوں کو بے وقوف گردانتے ہیں، اب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر آگے جا چکے ہیں گویا کہ اندھے بہرے اور گونگے ہو چکے ہیں، اب ہدایت کی طرف ان کی واپسی کی کوئی امید باقی نہیں رہ گئی، بات تو منافق کی ہے مگر آج جو حالت مسلمانوں کی ہے اس کو دیکھ کر یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم کفار کے جال میں پھنس چکے ہیں اسی لیے آنکھوں میں روشنی بھی ہے اس کے باجود اندھے ہیں کانوں کی سماعتیں بھی کام کر رہی ہیں پھر بھی بہرے ہیں، زبان بھی قائم و دائم ہے لیکن گونگے ہیں کیونکہ ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں جب سے مختلف ممالک نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے اسرائیل نے غزہ پر مظالم مزید تیز کر دئیے ہیں اور ہم خاموش ہیں، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا بھی ایسا ہی اعلان کر چکے ہیں، اور دنیا بھر سے اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ فوجی کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں، سیاسی راستہ اپنانا ہو گا، نیتن یاہو دنیا کے مطالبات اور قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر کے صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے، اسرائیل کی طرف سے غیر قانونی بستیوں کا پھیلاؤ اور فلسطینی ریاست کی کھلی مخالفت دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کر رہی ہے، اسرائیل کی طرف سے غزہ میں صحافیوں کا قتل سچ کو دبانے کی کوشش ہے، اسرائیل صحافیوں کو خاموش کر کے ظلم پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے، غزہ میں سچ لکھنے اور دکھانے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، الجزیرہ کے بہادر صحافیوں نے سچائی کی قیمت اپنی جان سے ادا کی، صحافت کا گلا گھونٹ کر اسرائیل دنیا کو اندھیرے میں رکھنا چاہتا ہے، عالمی برادری کو اسرائیلی مظالم کے خلاف ایکشن لینا ہو گا، اسرائیل کو لگام نہ ڈالی گئی تو عالمی امن خطرے میں پڑ جائے گا، اسرائیل کسی قاعدے قانون کو خاطر میں نہیں لاتا اور غزہ میں مظالم رکوانے بارے اقوام متحدہ یا جنرل اسمبلی بے معنی ہو گئی ہے، اسرائیل کھلم کھلا دہشت گردی پر اتر آیا ہے، صہیونیت کا دامن انسانی خون سے رنگین ہے، امت مسلمہ یک جان ہو کر ہی اسرائیل کا مقابلہ کر سکتی ہے، مسلم حکمرانوں کو مصلحتیں بالائے طاق رکھنا ہوں گی امت مکمل طور پر سوئی ہوئی ہے، عالم اسلام کو جگانا پڑے گا ورنہ بہت دیر ہو جائے گی، پاکستان کو یہ کام کرنا ہو گا، لوگ پاکستان کی طرف بہت امید سے دیکھتے ہیں، اسرائیلی وحشت روکنے کیلئے ہمیں متحد ہونا پڑے گا، یہ سیاسی نعرے بازی نہیں ہمارے ایمان کا معاملہ ہے دوسری طرف امریکہ کی دوغلی روش ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر اسرائیل کے ممکنہ مکمل قبضے کے عزائم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کا اپنا معاملہ ہے ٹرمپ نے کہا اس بارے میں زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن فیصلہ اسرائیل کا ہے غزہ پر قبضہ بین الاقومی قانون کے خلاف ہو گا، عالمی عدالت انصاف بھی فیصلہ دے چکی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے علاقوں پر اپنا قبضہ ختم کرے، جسے اسرائیل نے ہوا میں اڑا دیا ہے، اسرائیلی بمباری اور امداد پر پابندیوں نے غزہ میں انسانی تباہی کو جنم دیا ہے، آج عالم یہ ہے کہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والے اس کے عملے کے پاس بھی حسب ضرورت کھانے کو نہیں ہوتا، علاقے میں بڑے پیمانے پر غذائی قلت ہے، بھوک سے متعلقہ اموات بڑھتی جا رہی ہیں ہر چڑھتے سورج کے ساتھ زندگی ناپید ہو تی جا رہی ہے اور کوئی غم گُسار نہیں؟ غزہ میں حکام کی جانب سے رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد لاکھوںکے قریب ہو سکتی ہے، حملوں کے دوران اسرائیل نے غزہ کے بیشتر حصے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے اور علاقے کی تقریباً پوری آبادی کو بے گھر کر دیا گیا ہے، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، عالمی عدالتِ انصاف میں بھی غزہ جنگ میں نسل کشی کے الزام میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے لیکن اسرائیل نہتے فلسطینیوں کے خون سے ہاتھ رنگین کر رہا ہے اس کی پشت پر امریکہ ہے جس کی شہ پر وہ عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور ہم سب خاموش تماشائی ہیں اور دوسری طرف غزہ والے بے یار و مدد گار ہیں۔
اسرائیلی اقدامات سے عالمی امن کو خطرہ
09:15 AM, 14 Aug, 2025