یوں لگتا ہے کہ پنجاب کی سیاست میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا آیا ہے، یہ جھونکا ہے مریم نواز کا وہ حکم جو کئی پرانے کھڑکیاں دروازے بند کرنے جا رہا ہے۔ برسوں سے یہ تماشا جاری تھا کہ ایم پی ایز اور ایم این ایز قانون سازی کے ایوان میں کم اور ڈی پی او، ڈی سی یا تھانوں کے کمروں میں زیادہ نظر آتے تھے۔ عوامی نمائندگی کا مطلب بس یہ رہ گیا تھا کہ کسی کے تبادلے کرا دو، کسی کو ترقی دلا دو، اور کسی کے کیس کو دبا دو۔ اس سے نہ صرف اداروں کی خودمختاری کا جنازہ نکلتا رہا بلکہ عوام کو بھی یہ پیغام ملا کہ قانون سے زیادہ طاقتور سفارش ہے۔ لیکن اب وزیراعلیٰ پنجاب نے صاف کہہ دیا ہے: ’’بھائی، یہ کام چھوڑو اور وہ کرو جس کے لیے تمہیں ووٹ ملا ہے، قانون سازی‘‘۔ یہ ہدایت سیاسی روایت میں زلزلہ لانے والی ہے۔پہلے تو کسی نے سوچا کہ یہ محض ایک رسمی حکم نامہ ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ گراس روٹ لیول پر اس کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کئی اضلاع میں افسران نے پہلی بار یہ سکون محسوس کیا ہے کہ صبح دفتر آؤ تو باہر کوئی ایم پی اے گُھور نہیں رہا، نہ ہی فائل پر گوند سے چٹ لگا کر ’’کام فوری کریں‘‘ کا حکم دے رہا ہے۔ دباؤ کم ہوا ہے اور افسران نے اپنے اصل کام کی طرف توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ گورننس کی سپیس اب سیاسی مداخلت سے پاک ہو رہی ہے۔یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں۔ پنجاب میں ہر سال تقریباً دو لاکھ شکایات درج ہوتی ہیں جن میں ایک بڑی تعداد اس بات پر مبنی ہوتی ہے کہ ’’صاحب‘‘ کا کام سفارش نہ ہونے پر رُکا ہوا ہے۔ اگر یہ ہدایت اسی طرح جاری رہی اور نمائندے واقعی انتظامی امور سے ہاتھ کھینچ لیں تو یہ اعداد و شمار ڈرامائی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔اصل مزہ تو تب ہے جب اراکین اسمبلی اپنا وقت اسمبلی فلور پر لگائیں۔ پچھلے سال کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک عام رکن نے پورے سال میں صرف دو یا تین بار قانون سازی پر بات کی۔ سوچیں اگر یہ شرح دوگنی یا تگنی ہو جائے تو کتنے ایسے قوانین بن سکتے ہیں جو عوام کی حقیقی ضروریات سے میل کھاتے ہوں۔
سیاسی مداخلت نچلی سطح کی گورننس کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب تھانے، ہسپتال، سکول یا یونین کونسل کے فیصلے میرٹ کی بجائے سیاسی سفارش پر ہونے لگیں تو پورا نظام بگڑ جاتا ہے۔ اہل اور ایماندار افسر یا تو کھڈے لگا دئیے جاتے ہیں یا ضمیر بیچنے پر مجبور کر دئیے جاتے ہیں۔ سفارش یافتہ نااہل افراد کو عہدے ملنے سے عوامی خدمت کا معیار گر کر زمین میں دھنس جاتا ہے۔یہ مداخلت محض انتظامی خرابی پیدا نہیں کرتی بلکہ سماج کی رگوں میں زہر گھول دیتی ہے۔ عوام میں یہ سوچ پروان چڑھتی ہے کہ ترقی کا راستہ محنت نہیں بلکہ تعلقات اور وفاداریاں ہیں۔ اداروں پر اعتماد ٹوٹتا ہے، قانون مذاق بن جاتا ہے اور کرپشن ایک ’’نارمل‘‘ رویہ سمجھا جانے لگتا ہے۔ سیاست دان اپنے ووٹ بینک کی خاطر اصولوں کو قربان کرتے ہیں، اور یہ کلچر نیچے سے اوپر تک پھیل جاتا ہے۔
یقین جانئے، جب گورننس سیاسی دباؤ کی غلام بن جائے تو ریاست کی رٹ بھی کرائے کے مکان کی طرح کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں انصاف خواب بن جاتا ہے اور میرٹ کا جنازہ کندھوں پر نہیں بلکہ خوشی کے جلوس میں اٹھایا جاتا ہے۔ اگر نظام کو بچانا ہے تو سیاست کو انتظامیہ کے دائرے سے نکالنا ہو گا، ورنہ کل کا بگاڑ آج سے بھی بدتر ہو گا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ عوامی سوچ بدلنا آسان نہیں۔ دہائیوں سے ووٹ لینے کا فارمولہ یہی رہا ہے ’’میرا نمائندہ میرا کام فوری کرائے گا‘‘۔ اب جب نمائندہ کہے گا ’’بھائی، میں قانون بناؤں گا، تھانے کا کام خود کراؤ‘‘، تو ابتدا میں کچھ لوگوں کو یہ سرد
مہری لگے گی۔ مگر اگر نمائندہ ساتھ ہی بتا دے کہ اس قانون سے تمہاری گلی پکی ہو گی، ہسپتال میں دوائی ملے گی اور سکول میں استاد آئے گا، تو لوگ سمجھ جائیں گے کہ دیرپا فائدہ اسی میں ہے۔پنجاب کی تاریخ میں اس طرح کی کوششیں پہلے بھی ہوئیں، مگر فرق یہ ہے کہ اس بار وزیراعلیٰ نے آغاز ہی میں یہ لائن کھینچ دی ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس اور چیف سیکرٹری آفس کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم ہے، اور ضلعی افسران کو کھلی چھٹی ہے کہ اگر کوئی نمائندہ بلاوجہ مداخلت کرے تو رپورٹ کریں۔ پہلے چند ہفتوں کے اعداد و شمار دلچسپ ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق تھانوں میں سیاسی سفارشات پر ہونے والے تبادلوں میں پچیس فیصد کمی آئی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں سیاسی دباؤ کی شکایات بھی کم ہوئی ہیں۔ یہ اگرچہ معمولی اشارے ہیں مگر بتا رہے ہیں کہ سمت درست ہے۔
سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اس سے عوام کو اپنے نمائندوں سے حساب لینے کا نیا حوصلہ ملے گا۔ اب لوگ سیدھا پوچھ سکیں گے: ’’جناب، اسمبلی میں ہمارے لیے کیا قانون بنایا؟ کتنی بار عوامی مفاد میں بات کی؟‘‘ یہ سوال جمہوریت کو مضبوط کریں گے اور نمائندوں کو مجبور کریں گے کہ وہ عوام کے معیار پر پورا اتریں۔اصل میں یہ صرف ایک ہدایت نہیں، بلکہ ایک بیانیہ ہے، وہ بیانیہ جس میں سیاستدان کو سفارش کنندہ نہیں بلکہ قانون ساز، پالیسی ساز اور ترقی کا منصوبہ گر سمجھا جائے۔ اگر یہ سوچ جڑ پکڑ لے تو اس کے اثرات صرف پنجاب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک میں محسوس ہوں گے۔اب گیند اراکین اسمبلی کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ اس موقع کی اہمیت کو سمجھ کر قانون سازی، پالیسی ڈائیلاگ اور عوامی مشاورت کو اپناتے ہیں تو یہ تبدیلی تاریخ کا حصہ بنے گی۔ ورنہ یہ بھی ایک اچھی خبر ہو گی جو چند ہفتے بعد فائلوں میں دفن ہو جائے گی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سمت تو دے دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ہوا کا جھونکا ایک وقتی تازگی ہے یا پنجاب کی سیاست میں مستقل خوشبو بن جائے گا۔ کیونکہ اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو عوام کا ووٹ ذاتی فائدے کی امید سے نکل کر اجتماعی بھلائی کی سوچ میں ڈھل سکتا ہے اور یہی اصل جمہوری کامیابی ہو گی۔
مریم نواز کا سنہری حروف میں لکھا جانے والا اقدام
09:14 AM, 14 Aug, 2025