امریکہ اور ایران مذاکرات سے کچھ زیادہ توقعات بھی نہیں تھیںلیکن معاہدہ نہ ہونے کے باوجود مذاکراتی عمل کو مکمل طورپر ناکام نہیں کہہ سکتے دراصل آج بھی امریکی حلقے انقلابِ ایران کے دوران امریکیوں سے ہونے والے سلوک کونہیں بھول سکے جس کی پاداش میں ایران پر پابندیاں ہیں لیکن یہ کیا کم ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت آمنے سامنے بیٹھی اور ایک دوسرے کے خیالات کو تحمل سے سنا ویسے توقبل ازیں عمان اور جنیوا میں دونوں ممالک بات چیت کرچکے لیکن وہ ایک محدودعمل تھااور عین معاہدے سے قبل اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے امریکہ کو بھی لڑائی میں گھسیٹ لیا لیکن اسلام آباد مذاکرات کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں ممالک نے اعلانیہ بات چیت میں شرکت کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی سپیکر محمدباقرقالیباف سے ہاتھ ملایا دونوں نے اپنے وفود کے ساتھ اپنے اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا بظاہر اسلام آباد مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے اور دونوں ممالک کے وفودکسی معاہدے کے بغیر واپس لوٹ گئے ہیں لیکن سفارتی ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان نے جس طرح متحارب ممالک کو آمنے سامنے لا بٹھایا ہے کے مثبت اثرات کی بدولت جلد ہی مذاکراتی عمل دوبارہ بحال ہو سکتا ہے جو مستقل جنگ بندی کی بنیاد بننے کے ساتھ دونوں ممالک میں تعلقات کی بحالی کا سبب بن سکتا ہے ۔
پاکستان معاشی حوالے سے کوئی مضبوط اور خوشحال ملک نہیں اسی لیے جب امریکہ اورایران میں بات چیت کی خبریں ذرائع ابلاغ میں آنے لگیں تو عالمی امور پر دسترس رکھنے والے حلقے بھی ابتدا میں حیران ہوئے مگروزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرنے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفودکی اسلام آبادبیٹھک میں شرکت کو یقینی بنایا اور کوشش کی کہ کسی طرف سے ہونے والی شرارت اثر اندازنہ ہو سکے حالانکہ جب بات چیت کادن،وقت اور مقام طے پاگیاتو اسرائیل نے لبنان پر حملوں سے ایران کو بھڑکایا مگر پاکستانی قیادت نے حکمت ،تدبر اور فہم و فراست سے ایسی نوبت نہ آنے دی جس سے خطہ مزید تباہی کا شکار ہویہ ایسی خوبی ہے جس کا شاید کئی دہائیوں تک تذکرہ ہوتا رہے معاشی لحاظ سے غیر مستحکم ملک کا عالمی سفارت کاری کا مرکز بننا ایساانوکھا واقعہ ہے جس سے نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی بلکہ اب معاشی حالت بہترہونا بھی نوشتہ دیوار ہے۔
اِس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ امریکہ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے کہنے پر کیا جواب میں ایران نے جو ثابت قدمی اور دلیری دکھائی وہ امریکی اندازوں اور توقعات سے بڑھ کر تھی امریکہ کا خیال تھا کہ حملے شروع ہوتے ہی عراق اور لیبیا کی طرح سیاسی حوالے سے غیر مستحکم ایران میں سیاسی قیادت تبدیلی کی تحریک تقویت پکڑے گی مگر ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ بیرونی حملوں سے ملک میں سیاسی استحکام آیا عوام اور ایرانی قیادت متحد ہوکر حملہ آور قوتوں کے مقابل آئیں۔ آیت اللہ خامنائی کے فرزند مجتبیٰ خامنائی جیسے سخت گیر کا سپریم لیڈر بننا ایسا جواب تھا جس نے امریکی قیادت کو چونکا دیا امریکی بحری بیڑے پر حملے ،حملہ آور لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنانے کے ساتھ خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر ایرانی میزائلوں اور ڈرون کے برسنے نے دنیا کوحیران کردیاجس کی وجہ سے یورپی ممالک کے ساتھ دیگر کئی اہم اتحادی بھی امریکہ کاساتھ دینے سے انکاری ہوئے دراصل امریکہ کا ایران پر حملہ ہی ایک حماقت تھی مزید یہ کہ اگر ایرانی میزائلوں سے امریکہ محفوظ تھا توبھاری اخراجات کے باوجود اُسے ایران کے اندر سے حمایت حاصل نہ ہوسکی حالانکہ کُرد باغیوں کو اسلحہ بھی دیا اب حالات یہ ہیں کہ امریکہ محافظ کا عرب خواب ٹوٹ چکا ہے سعودی عرب نے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیاہے تو قطر بھی امریکہ پر انحصار کم کر نے کی کوشش میں ہے عراق میں ویسے ہی امریکہ مخالف جذبات عروج پر ہیں لہٰذا عرب امارات اب جارح امریکہ اور اسرائیل کا لاکھ ساتھ دینے کی کوشش کرے توبھی سچ یہ ہے کہ خطے میں امریکی رسوخ کم ہونا یقینی ہے کیا یہ کم حیران کُن پہلو ہے کہ آبنائے ہُرمز کوایران سے واگزار کرانے کا دعویدار امریکہ اب خودناکہ بندی کرنے پر آگیاہے؟یہ عمل اعترافِ شکست ہے کہ جدید ترین فضائیہ اور ہتھیاروں کے باوجود امریکہ خطے میں مشکل سے دوچارہے اسی بناپرہی تو پاکستان کا کندھاملتے ہی مذاکرات پر رضامند ہو گیا۔
فضائیہ سے محروم ایران سے امریکہ اور اسرائیل بہت دور ہیں مگر میزائل اور ڈرونز سے اُس نے کسی حدتک اپنی خامیوں کوڈھانپ لیا لیکن ایران کے اندرغداروں نے ملک کابھاری نقصان کرادیاہے ایران میں ہونے والی تباہی ہولناک ہے جس کادرست تخمینہ لگانا مشکل ہے اِس نقصان کو پورا کرنے کے لیے بھاری رقوم کے ساتھ کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں سے اچھے مراسم ہیں اسی لیے جب جنگ رکوانے کی تجویز دی توامریکہ اور ایران دونوں نے مثبت ردِ عمل ظاہر کیاایسی خبریں منصہ شہودپر آچکی ہیں کہ اسلام آباد آنے والے ایرانی وفد کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر پاکستان نے نظر ثانی کرائی نیز سعودی عرب کوبھی جواب میں ایران پر حملے سے باز رکھایہ مہربانیاں ایران سے ڈھکی چھپی نہیں اسی لیے دیگر ممالک سے زیادہ ایران نے پاکستان کو زیادہ قابلِ بھروسہ تصور کیاجس کی قیادت ٹرمپ کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے ایرانی وفد کو باحفاظت پاکستان لانے جیسا کارنامہ شاید ہی ایران یا دنیا بھول سکے اب بھی سفارتی حلقوں کاکہناہے کہ مستقل جنگ بندی کی جو بنیادپاکستان نے رکھ دی ہے اُس پر امن کی پائیدارعمارت تعمیر کرنا آسان ہے خوش قسمتی سے پاکستان کی موجودہ قیادت معاملا فہم اور دوراندیش ہے جسے امریکہ اور ایران کے فیصلہ ساز حلقوں تک رسائی حاصل ہے یہ پہلوبہت اہم ہے امریکہ کی طرح ایران کو بھی توقع، اعتماد اوریقین ہے کہ پاکستان اعتبار کو ٹھیس نہیںپہنچائے گا یہ توقع،اعتماداور یقین ہی امن کے راستے کی نشاندہی کرتا ہے لہٰذا مایوسی والی کوئی بات نہیں کسی وقت بھی ایسی اطلاعات منظرِ عام پر آسکتی ہیں کہ امریکہ اور ایران دوبارہ مذاکرات کریں گے کیونکہ ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر امریکہ رضا مند ہے تو ایران بھی جوہری منصوبے پر نظر ثانی کرنے کو آمادہ وتیارہے ۔
مذاکرات سے مثبت امیدیں
08:39 AM, 15 Apr, 2026