مارننگ شوز، لباس اور تنقید

08:45 AM, 15 Apr, 2026

چوپال سجی ہوئی تھی، چپ سائیں اخبار کے مطالعہ میں مصروف تھے۔ نتھو، پھتو، چاچا رفیق ، چاچا رشید اور تیلی پہلوان الغرض سب موجود تھے۔ چپ سائیں تھوڑی دیر کے بعد اخبار کے مطالعہ سے فارغ ہوئے اور اخبار سائیڈ پر رکھ دیا۔ چوپال میںہو کا عالم تھا اور مکمل خاموشی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد چاچا رفیق بولے۔۔ سائیں جی آج میں دوتین، باتوں کی نشاندہی کروں گااورجی چاہتا ہے کہ آپ اس پر بات کریں۔۔ چپ سائیں بولے۔۔جی بھائی جی بتائیں۔۔ چاچا رفیق نے کہاکہ سائیں جی۔۔ کچھ روز قبل میں صبح سویرے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔ وہاں پر آن کی آن میں عجیب بات ہوگئی۔۔۔ میں دیکھتا ہی رہ گیا۔۔ میں نے ٹی وی پر تو جہ نہیں دی لیکن کچھ دیر کے بعد موبائل دیکھا تو وہ کلپ تو وائرل ہوچکا تھا۔۔۔نتھو اور پھتو بولے۔۔ چاچا جی ایسا کیا وائرل ہوگیا۔۔؟ اس پر چاچا رفیق نے کہاکہ ۔۔دوستو!۔۔ کلپ کچھ یوں تھا کہ ایک اداکارہ کے ٹی وی شو کے سیٹ پر ان کے شوہر آئے اورکچھ عجیب اور انتہائی فضول حرکت کرکے فورا چلے گئے۔۔۔ اسے انہوں نے سب ڈرامہ قرار دیا۔۔ سائیں جی بتائیں ذرا بات وائرل کلپ کی ہو یا آن سکرین یہ تو ان کی ذاتی زندگی کا معاملہ ہے لیکن یہ سب توسستی شہرت کا ذریعہ ہے۔۔ خیر چھوڑیں بات تو میں صبح کے شوز کی کررہا تھا۔۔ آپ اس بارے میں بتائیں۔۔
چپ سائیں تھوڑی دیر کے بعد گویا ہوئے۔۔ بھائیو۔۔۔ماضی کے مارننگ شوز کی تو بات اور تھی۔۔۔ ایک ہی چینل ایک ہی بہترین شو۔۔ اس میںجناب مستنصر حسین تارڑ ۔۔۔ انتہائی شستہ اردو اور اندازگفتگو کے ساتھ بڑوں اور بچوں کا دل لبھاتے تھے۔۔۔ہمارے زمانے میں صبح سویرے۔۔۔ ٹی وی آن ہوتا۔۔ ہم سکول جانے سے پہلے ناشتہ کرتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ جاتے۔۔ عین سوا اور ساڑھے سات کے قریب اس شو میں مستنتصر حسین تارڑ ۔۔ٹون ٹون۔۔ کارٹون۔۔ کہتے۔۔اور بس۔۔۔
چپ سائیں کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔۔ توقف کے بعد بولے۔۔۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر موازنہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ''ترقی'' تو کی ہے لیکن ''تہذیب'' اور ''مقصد'' پیچھے چھوڑ دیے ہیں۔ پی ٹی وی کے دور میں مستنصر حسین تارڑ ہوں یا قراة العین، ان کی زبان شستہ اور تلفظ درست ہوتا تھا۔ گفتگو میں ایک ٹھہرا¶ تھا، کوئی چیخ و پکار نہیں ہوتی تھی۔ ناظرین کو ''بیٹا'' یا ''دوستو'' کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا، جس سے اپنائیت کا احساس ہوتا تھا۔ اب گفتگو کا انداز زیادہ تر ''لائوڈ''ہے۔ میزبان اکثر ضرورت سے زیادہ پرجوش نظر آتے ہیں اور بات بات پر اونچی آواز میں ہنسنا یا تالیاں بجانا ایک فارمیٹ بن چکا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ناظرین کو زبردستی تفریح فراہم کی جا رہی ہو۔ مہمانوں کی کرسی پر وہ لوگ بیٹھتے تھے جنہوں نے زندگی میں کچھ حاصل کیا ہوتا تھا۔ ادیب، سکالرز، کلاسیکی گلوکار، اور اپنے شعبے کے ماہرین۔ اگر کسی فنکار کو بلایا جاتا تھا تو اس کے فن پر بات ہوتی تھی۔ اب معیار ''کامیابی'' نہیں بلکہ ''وائرل'' ہونا ہے۔ اسی وجہ سے رفیق بھائی ۔۔۔اب بات اور انداز بدل گیا ہے۔ وائرل ہونے کے لیے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے اور اس کوناظرین قبول بھی کرلیتے ہیں ۔ خیر دلچسپ بات یہ ہے کہ جس شخص کی سوشل میڈیا پر کوئی مضحکہ خیز ویڈیو وائرل ہو جائے، وہ اگلے دن مارننگ شو کا مہمان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اب سارا زور شوبز سٹارز کی نجی زندگی، ان کے پسندیدہ کھانے اور ان کے کپڑوں پر ہوتا ہے۔ ماضی میں سیٹ سادہ اور پرسکون ہوتے تھے۔ اکثر ایک کھڑکی دکھائی جاتی تھی جہاں سے باہر کا منظر یا پودے نظر آتے تھے، جو صبح کی تازگی کا احساس دلاتے تھے۔ کتابیں اور آرٹ کے نمونے سیٹ کا حصہ ہوتے تھے اور اب سیٹ کسی فلمی سیٹ یا شادی ہال کا منظر پیش کرتے ہیں۔
بھائیو! آج کے دور میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستانی خواتین کا واحد مسئلہ ''شادی کرنا'' یا ''شادی میں شرکت کرنا'' ہے۔ مہینوں تک چلنے والے لائیو ''شادی ہفتے'' نے مارننگ شو کو ایک لائیو ڈرامہ بنا دیا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ماضی کے شوز ''خیالات'' پر مبنی تھے، جبکہ آج کے شوز ''اشیائ'' پر مبنی ہیں۔ پہلے شوز آپ کو سوچنے پر مجبور کرتے تھے، اب یہ شوز آپ کو صرف ''دیکھنے'' اور ''خریدنے'' کی طرف مائل کرتے ہیں۔۔۔خیر بھائی رفیق یہ تو تھا آپ کے ایک سوال کا جواب۔۔ اب مزید بتائیں ۔۔۔چاچا رفیق نے کہاکہ سائیں جی دوسرا مسئلہ بھی اس سے ملتا جلتا ہی ہے۔۔
سائیں جی آپ کے علم ہے کہ ہمارے ملک میں امریکہ، ایران کا وفد آیا ہوا تھا اوراس کے لیے اسلام آباد میں ایک جگہ پر مقامی اور بین الاقوامی میڈیا موجو دتھا۔۔۔ میں نے ٹی وی پر دیکھا تھا کہ وہاں پر بڑی بڑی سکرینیں لگی ہوئی تھی اوراسلام آباد ٹالکس لکھا ہوا تھا۔۔۔خیر تو انتہائی مثبت پہلو تھا۔۔ لیکن ہماری قوم کے کچھ ”خالی ذہنوں“ کو ایک ایکٹیویٹی چاہئے تھی۔۔ وہ ہماری ایک معروف اینکر کے لباس کو لے کر پوری ہوگئی۔۔۔سائیں جی آپ لباس اور تنقید کے بارے میں بھی بتائیں۔۔۔
چپ سائیں نے کہاکہ بھائیو!۔۔۔رفیق بھائی جن اینکر کاتذکرہ کررہے تھے وہ۔۔ غریدہ فاروقی تھی۔۔۔خیر سچ بات تو یہ ہے کہ ہم واقعی انتہائی ”ویلے“ ہیںاور کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔۔۔تہذیب تو یہ کہتی ہے کہ کسی خاتون کے لباس تو کیا اس کے کردار پر بھی کوئی بات نہ کرو۔۔۔ لیکن بھائیو میں نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ۔۔مختلف ملکی اور غیر ملکی خواتین اینکرز کی تصاویر دیکھیں۔۔ اور سوچنے لگا کہ یار۔۔۔تف ہے۔۔۔
دوستو!پاکستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی معروف شخصیت کا سیاسی موقف کسی گروپ کو پسند نہیں آتا، تو اس پر حملے کے لیے اس کے لباس یا ذاتی زندگی کو ڈھال بنایا جاتا ہے۔غریدہ فاروقی کیونکہ سیاسی معاملات پر سخت موقف رکھتی ہیں، اس لیے ان کے سیاسی مخالفین اکثر بحث کا رخ بدلنے کے لیے ان کے لباس پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔بھائیو! غریدہ فاروقی پر ہونے والی لباس کی تنقید اکثر ان کے کام سے زیادہ ان کی شخصیت کو نشانہ بنانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ ایک صحافی کے طور پر ان کا اصل امتحان ان کی رپورٹنگ اور تجزیہ کاری ہونی چاہیے۔صاحبو! قابل ذکر بات یہ ہے کہ لباس انسان کی شخصیت کا اظہار ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ کسی کی قابلیت، کردار یا ایمان کو ناپنے کا واحد پیمانہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ کسی کے جوہر کو اس کے کپڑوں کے بجائے اس کے اخلاق اور کام سے پرکھیں۔۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں