امن کانٹوں کی بساط پر

08:45 AM, 15 Apr, 2026

 یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے دنیا اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے جسے محض ایک چنگاری ایسے دھماکے میں تبدیل کر سکتی ہے جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کو چشم زدن میں تہہ و بالا کر سکتا ہے، امریکہ سے لیکر جاپان تک اور روس سے لیکر نیوزی لینڈ تک ہر وہ شخص جو تھوڑی سی بھی سوجھ رکھتا ہے کہ ذہنی طور پر غیر متوان شخصیت کا حامل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صہونیت کے علمبردار اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اشارے پر جس کا دامن ہزاروں مسلمانوں کے قتل سے داغدار ہے ایک ایسی آگ سے کھیل رہا ہے جو نہ صرف پوری دنیا بلکہ خود انکے ممالک کو بھی جھلسا کے رکھ دے گی ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نئی غیر یقینی صورت حال کو جنم دیا ہے۔ آئندہ چند روز اس امر کا ممکنہ طور پر تعین کردے گی کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی جانب بڑھے گی یا پھر امن کے راستے کا انتخاب کرے گی امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی لامحالہ چین اور روس کو بھی بڑھتی کشیدگی میں گھسیٹتی دکھائی دیتی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا ایک بڑی اور ہولناک جنگ کے دھانے پر کھڑی ہے ۔
خلیج میں اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے یا نہیں۔ خلیج فارس میں امریکی بحری موجودگی میں اضافہ اور ایران کی جانب سے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریق ایک دوسرے پر دباو¿ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ ممکنہ ناکہ بندی، خاص طور پر ایران کی تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کے لیے اہم قدم ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ ناکہ بندی مکمل طور پر مو¿ثر ثابت ہو سکے گی؟۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے گزشتہ برسوں میں پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر لیے ہیں، جن میں غیر رسمی تجارت، اتحادی ممالک کے ساتھ بارٹر سسٹم، اور خفیہ تیل کی ترسیل شامل ہیں۔ اس لیے امریکہ کی ناکہ بندی مکمل طور پر ایران کو معاشی طور پر مفلوج نہیں کر سکے گی، البتہ اس کے اثرات ضرور ہوں گے۔ ایران اس کے جواب میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اگر ایران اس راستے کو متاثر کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر فوری طور پر محسوس کیے جائیں گے۔ جہاں تک چین اور روس کا تعلق ہے تو یہ دونوں ممالک ایران کی سفارتی، اقتصادی اور ممکنہ طور پر عسکری مدد جاری رکھ سکتے ہیں۔ چین، جو ایران کے تیل کا ایک بڑا خریدار رہا ہے، امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا۔ اسی طرح روس بھی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کے لیے ایران کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورت حال نہایت حساس ہے۔ پاکستان کے ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ تعلقات ہیں، اور وہ کسی بھی ممکنہ تنازع میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ توانائی کے شعبے میں بھی پاکستان ایران کے ساتھ ممکنہ گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پر نظر رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب سے مالی اور تیل کی امداد بھی حاصل کرتا ہے۔ اس لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت “غیر جانبداری” اور “ثالثی” کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستانی وفد کا سعودی عرب کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس وفد کا بنیادی مقصد خطے کی صورت حال پر مشاورت، سعودی قیادت کو پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کرنا، اور ممکنہ طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے، اور موجودہ حالات میں بھی وہ یہی کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر پاکستان اس میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ اس کی اپنی سفارتی پوزیشن کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ دبئی اس تمام صورت حال کو معاشی زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ دبئی کی معیشت بڑی حد تک تجارت، سیاحت اور مالیاتی سرگرمیوں پر منحصر ہے۔ خلیج میں کشیدگی بڑھنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، جس سے دبئی کی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے متحدہ عرب امارات عمومی طور پر کشیدگی کم کرنے کی حمایت کرتا ہے، چاہے وہ امریکہ کا اتحادی ہی کیوں نہ ہو۔ بھارت اور اسرئیل سے بڑھتے ہوئے تعلقات اس کی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی کی نشاندھی کرتے ہیں جو یقیناً پاکستان اور سعودی عرب کے مفاد میں نہیں ہے دوسری جانب بھارت اس صورتحال کو ایک موقع اور چیلنج دونوں کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ بھارت ایران سے توانائی حاصل کرتا رہا ہے، لیکن امریکی دباو¿ کے باعث اسے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی پڑی۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو بھارت کے لیے توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جو اس کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ تاہم بھارت اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، دبئی اور بھارت جیسے ممالک اس صورتحال کو اپنے اپنے مفادات کے مطابق دیکھ رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ بحران سے کم سے کم نقصان اٹھائیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا سفارت کاری غالب آتی ہے یا خطہ مزید کشیدگی کی طرف بڑھتا ہے۔

مزیدخبریں