اسلام آباد : پاور ڈویژن نے بجلی کے صارفین کے لیے ریلیف اور لوڈشیڈنگ کے نئے شیڈول پر مبنی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق، حکومت کو 'پیک آورز' (شام کے اوقات) میں بجلی کی کھپت میں غیر معمولی اضافے کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے سسٹم کو متوازن رکھنے کے لیے مختصر لوڈشیڈنگ ناگزیر ہو گئی ہے۔
عالمی سطح پر ایندھن (Fuel) کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود، حکومت نے بہتر پلاننگ اور سسٹم اصلاحات کے ذریعے بجلی کی قیمت میں 71 پیسے فی یونٹ کمی کر دی ہے۔ جولائی سے فروری تک کے 8 ماہ کے عرصے میں بجلی کے صارفین کو مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا براہِ راست ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق، ملک بھر میں شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان روزانہ مجموعی طور پر سوا 2 گھنٹے بجلی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام گرڈ سسٹم کو اوور لوڈنگ سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ شام کے اوقات میں بجلی کی طلب میں اچانک اضافہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، جسے کنٹرول کرنے کے لیے یہ نیا پلان ترتیب دیا گیا ہے۔
پیک آورز میں بجلی کی کھپت بڑا چیلنج: ملک بھر میں روزانہ سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا فیصلہ
03:45 PM, 14 Apr, 2026