ایس سلمان کے نام ایک کالم

09:27 AM, 14 Apr, 2025

آج ایس سلمان پاکستان کے نامور اداکار، ہدایتکار اور اداکار درپن اور سنتوش کے بڑے بھائی کی برسی ہے ایس سلمان کی دنیائے فن کی تاریخ بہت طویل اور یادگارفلموںکے حوالے سے،جب تک فلم انڈسٹری کا وجود ہے کہیں نہ کہیں نظر آئے گا۔ یہ زندگی بچھڑنے کا نام ہے۔ نجانے کتنے بڑے بڑے لوگ کتنے بڑے نام جنہوں نے زندگی کو نہیں بلکہ زندگی نے ان کو جیا اور کام سے ان کی شناخت ہوئی۔ گزشتہ دنوں پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور ہدایتکار ایس سلمان کا 84واں یوم پیدائش تھا۔ ایک اخبار میں لگی سنگل کالمی یہ خبر مجھے ماضی کے بند دریچوں میں لے گئی۔ سن 1974ء میری صحافت کا ابتدائی دور تھا، ان دنوں میں شوبز رپورٹر اور سپورٹس رپورٹر کے طور پر روزنامہ نوائے وقت کے لئے کام کرتا تھا۔ میرے لئے یہ اعزاز ہے کہ پاکستان کے بڑے سٹارز جن میں درپن، محمد علی، ظریف اور نورجہاں گھرانوں تک میری رسائی ہوئی۔ درپن، سنتوش اور ایس سلمان بہت خوبصورت چہرے ہی نہیں، سب ہماری فلم انڈسٹری کے نامور ہیرو بھی تھے۔ درپن گھرانے کی خوش قسمتی کہ سلمان کے دو بڑے بھائی سنتوش کمار اور درپن اور سب سے چھوٹا بھائی منصور تھا۔ منصور نے چند فلموں میں کام کیا مگر وہ زیادہ عرصہ یہاں نہ ٹھہر سکا اور اس نے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کئے۔ آج اپنے کالم میں ایس سلیمان کا ذکر کروں گا۔ سنتوش کمار، صبیحہ خانم، درپن، نیئر سلطانہ، سید سلمان، زرین پنا اور منصور فلموں میں نمایاں رہے۔ سید سلمان نے بچپن ہی میں تقسیم ہند سے قبل چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر ہندوستانی فلموں میں بھی کام کیا جبکہ بھارتی فلم میلہ جو 1947ء میں بنی، اس میں افسانوی دلیپ کمار کے بچپن کا کردار ادا کیا۔ 1947ء ہی میں آزادی کے بعد یہ فلمی گھرانہ پاکستان کے شہر لاہور میں منتقل ہو گیا۔ پاکستانی فلموں کے بینر تلے ان کی پہلی فلم محبوبہ 1953ء میں ریلیز ہوئی جس میں سنتوش کمار اور درپن مہمان اداکار تھے۔ اس کے ساتھ ایک بار پھر ان تینوں بھائیوں کو کاسٹیوم فلم ’’گلفام‘‘ جو 1961ء میں بنی تھی میں کاسٹ کیا گیا۔
 انہوں نے برصغیر کے نامور ہدایت کار انور کمال پاشا کے ساتھ کچھ فلموں میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی کام کیا۔ گلفام بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم تھی جس نے گولڈن جوبلی منائی، درپن اس فلم کے ہیرو اور پروڈیوسر بھی تھے۔ ان کی اگلی فلم ’’باجی‘‘ جو 1963ء میں سیٹ کی زینت بنی کلاسک فلم تھی لیکن یہ باکس آفس پر فلاپ رہی۔ بطور ہدایت کار ان کی پہلی پنجابی فلم ’’مہندی والے ہتھ‘‘ بھی 1963ء ہی میں بنی جو کہ ایک سماجی پنجابی فلم تھی اور یہ فلم بھی فلاپ ہوگئی۔ اس میں اداکارہ زیبا اور سلطان راہی نے مرکزی کردار ادا کئے۔ یہ اداکارہ زیبا کی واحد پنجابی فلم تھی۔ اس کے بعد انہوں نے فلم ’’تماشا‘‘ جس کے فلمساز اداکارہ حسنہ کے والد آفتاب علی خان تھے جبکہ ’’لوری‘‘ سید سلیمان کی دوسری گولڈن جوبلی فلم تھی۔ انہوں نے وحید مراد کے ساتھ صرف ایک فلم ’’بے وفا‘‘ میں کام کیا جو کہ ایک فلاپ فلم ثابت ہوئی۔ سید نور نے ایس سلیمان کے ساتھ بطور اسسٹنٹ ہدایتکار فلم ’’محبت رنگ لائے گی‘‘ میں اپنے کام کا آغاز کیا، ’’ایک پھول ایک پتھر‘‘ جس میں علی زیب نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی پہلی رنگین فلم ’’تیری صورت میری آنکھیں‘‘ جس نے گولڈن جوبلی منائی، یہ اداکار اورنگزیب اور محمد علی کے بڑے بھائی ارشاد علی کی بھی پہلی فلم تھی۔ ’’محبت‘‘ جو گولڈن جوبلی فلم تھی۔ ان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی ’’اناڑی‘‘ بنی، یہ ایک مزاحیہ فلم تھی۔ ’’زینت‘‘، ’’آج اور کل‘‘ ، ’’اْف یہ بیویاں‘‘ اور منزل بھی ان کے کریڈٹ پر بڑی فلمیں تھیں۔ ’’تیرے بنا کیا جینا‘‘ 
اس دوران انہوں نے فلمیں نہیں بنائیں اور پھر 5 سال کے وقفے کے بعد ان کی 2فلمیں ’’سات سہیلیاں‘‘ اور ’’لو ان لندن‘‘ کے نام سے ریلیز ہوئیں جبکہ ’’لو ان لندن‘‘ ان کی پہلی سنیما اسکوپ فلم تھی۔ یہاں ایک دلچسپ بات بتاتے چلیں کہ انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا اور زیادہ عرصہ کراچی میں رہائش پذیر رہے۔ اگر بڑے اداکاروں کے ساتھ ان کے کام کو دیکھا جائے تو سید سلیمان نے زیادہ تر محمد علی کے ساتھ انیس فلموں میں کام کیا، زیبا تیرہ، شبنم تیرہ، ندیم گیارہ اور شاہد گیارہ۔ بطور پروڈیوسر انہوں نے چار فلمیں ’’یار دوست‘‘، ’’طلاق‘‘ ، ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ اور ’’تیرے بنا کیا جینا‘‘ میں اپنے فنی جوہر دکھائے۔ ان فلموں میں سے ’’طلاق‘‘ ایک اوسط درجے کی فلم تھی اور ’’تیرے بنا کیا جینا‘‘ گولڈن جوبلی ہٹ فلم رہی۔ عمر کے آخری ایام میں وہ گردے سے متعلق مسائل اور وہ ذیابیطس سے بھی لڑ رہے تھے۔ اس بیماری کے دوران ایس سلمان 14اپریل 2021 ء کو 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ان کی فلموں کی فہرست میں گلفام، باجی، تانگے والا، مہندی والے ہتھ، تماشا، تصویر، لوری، آگ ، یار دوست، پیا ملن کی آس، جیسے جانتے نہیں، بہاریں پھر بھی آئیں گی، بے وفا، محبت رنگ لائے گی، ایک پھول ایک پتھر، تیری صورت میری آنکھیں ، الزم، محبت، سبق، معاشرہ، تیرا غم رہے سلامت، بہاروں کی منزل، پیار ہی پیار، انتظار، مس ہپی، بھول، زینت، گمراہ، اناڑی، شرافت، زنجیر، موم کی گڑیا، آج اور کل، طلاق، انسانیت، اْف یہ بیویاں، میرے حضور، پیار کا وعدہ ، ابھی تو میں جوان ہوں، شہزادہ، آگ اور زندگی، نظر کرم، ہائے یہ شوہر ، دل ایک کھلونا، منزل، تیری بنا کیا جینا، سات سہیلیاں، لو ان لندن ، ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ شامل ہیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کے اگر بڑے ہدایتکاروں کا نام لوں تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ان جیسا پائے کا ہدایتکار ہماری فلم انڈسٹری کو کم ہی ملا جنہوں نے فلم انڈسٹری کو جہاں بام عروج دیا وہاں اپنے خاندان کی لاج رکھتے ہوئے درپن، سنتوش کمار اور منصور کے لئے بھی اچھی راہیں کھولیں۔ اس خاندان کی ہماری فلم انڈسٹری کے لئے بے حد خدمات ہیں جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ 

مزیدخبریں